پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: خرم شہزاد نے لٹن داس کو ‘انتہائی خوش قسمت’ قرار دے دیا
پاکستان کی گرفت مضبوط مگر لٹن داس کی مزاحمت نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا
دوسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کا کھیل مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے فاسٹ بولر خرم شہزاد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی ٹیم اب بھی میچ میں ایک بہتر پوزیشن پر موجود ہے۔ اگرچہ بنگلہ دیش کی نچلے آرڈر کے بلے بازوں نے آخری سیشن میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو سنبھالا دیا، لیکن پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے چار وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو کھیل میں برقرار رکھا۔
پچ کا مزاج اور پاکستان کا ہدف
خرم شہزاد نے سلہٹ کی پچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وکٹ ڈھاکہ کی نسبت کہیں زیادہ بہتر اور بلے بازی کے لیے سازگار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈھاکہ کی پچ پر گیند کا اچھال غیر متوقع تھا اور پچ پر دراڑیں بھی زیادہ تھیں، جبکہ یہاں صورتحال مختلف ہے۔ شہزاد کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان بیٹنگ میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو 400 سے 450 رنز کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔
لٹن داس کا ‘خوش قسمت’ ہونا
میچ کا سب سے اہم موڑ تب آیا جب لٹن داس اپنی نصف سنچری مکمل کر چکے تھے اور خرم شہزاد کی ایک باؤنسر پر گیند ان کے دستانوں کو چھو کر محمد رضوان کے پاس گئی۔ پاکستان کی جانب سے ہلکی سی اپیل کی گئی لیکن ٹیم نے اپنا آخری ریویو ضائع کرنے کا خطرہ مول نہ لیا۔ بعد ازاں الٹرا ایج میں واضح ہوا کہ گیند بلے کو چھو کر گئی تھی، جس سے لٹن داس کو زندگی ملی۔ اس ریویو کے نہ ہونے پر خرم شہزاد نے مایوسی کا اظہار کیا اور لٹن کو ‘انتہائی خوش قسمت’ قرار دیا۔
نچلے آرڈر کی مزاحمت اور حکمت عملی
ایک موقع پر جب بنگلہ دیش کا سکور 116 پر 6 وکٹیں تھا، تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستان جلد ہی مہمان ٹیم کو ڈھیر کر دے گا۔ تاہم، لٹن داس نے ایک بار پھر ذمہ داری اٹھائی اور نچلے آرڈر کے ساتھ مل کر 162 رنز کا اضافہ کیا۔ خرم شہزاد نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ پاکستان نے فیلڈ میں جارحیت کم کر دی تھی۔ انہوں نے کہا: ‘ہم نے باؤنسرز کا استعمال کیا، مواقع پیدا کیے لیکن کرکٹ میں ایسی پارٹنرشپ کا ہو جانا کھیل کا حصہ ہے۔’
مستقبل کی توقعات
پاکستان کی ٹیم اب دوسرے دن کے کھیل کے لیے پُراعتماد ہے۔ خرم شہزاد کے مطابق، اگر وہ اس وقت لٹن کو آؤٹ کر لیتے تو بنگلہ دیش کی پوری ٹیم 200 رنز کے اندر پویلین لوٹ سکتی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کے بلے باز اس پچ پر بڑی شراکت داریاں قائم کر کے بنگلہ دیش پر دباؤ ڈال سکیں گے یا نہیں۔
اہم نکات:
- خرم شہزاد نے اننگز میں چار اہم وکٹیں حاصل کیں۔
- بنگلہ دیش نے آخری چار وکٹوں پر 162 رنز کا اضافہ کیا۔
- پاکستان نے لٹن داس کے خلاف ریویو کا موقع ضائع کیا جو کہ میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔
- سلہٹ کی وکٹ کو بلے بازوں کے لیے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کی ٹیم اس سیریز میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہے اور کھیل کے دوسرے دن کے آغاز پر پاکستانی بلے بازوں سے ایک بڑی اننگز کی توقع کی جا رہی ہے۔
