لٹن داس کا کپتانی کے تنازعہ میں بڑا دعویٰ: شکیب اور مشرفے سے خود کو بہتر قرار دے دیا
لٹن داس کا خود اعتمادی سے بھرپور بیان
کرکٹ کی دنیا میں کپتانی ایک ایسا فن ہے جس کے لیے نہ صرف حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ مکمل خود اعتمادی بھی انتہائی لازمی ہے۔ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے اسٹار کھلاڑی لٹن داس نے حال ہی میں اپنی کپتانی کی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے کرکٹ کے حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ لٹن داس، جو تینوں فارمیٹس میں بنگلہ دیش کی قیادت کر چکے ہیں اور فی الحال ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں ٹیم کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں، خود کو ٹیم کے لیجنڈری کھلاڑیوں شکیب الحسن، تمیم اقبال اور مشرفے بن مرتضیٰ سے کپتانی کے معاملے میں برتر سمجھتے ہیں۔
بی سی بی پوڈکاسٹ میں اہم انکشافات
بی سی بی کے ایک حالیہ پوڈکاسٹ کے دوران لٹن داس سے چند مشکل سوالات کیے گئے، جن میں انہیں بنگلہ دیشی کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں کے درمیان انتخاب کرنا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ شکیب الحسن اور خود میں سے کسے بہتر کپتان مانتے ہیں، تو لٹن نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا کہ وہ خود کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح جب ان کا موازنہ تمیم اقبال اور نجم الحسن شانتو جیسے کھلاڑیوں سے کیا گیا، تو لٹن نے اپنے اعداد و شمار (ریکارڈز) کا حوالہ دیتے ہوئے خود کو ہی بہترین قرار دیا۔
مشرفے مرتضیٰ کے خلاف بڑا دعویٰ
بحث اس وقت مزید دلچسپ ہو گئی جب میزبان نے بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کپتان مانے جانے والے مشرفے بن مرتضیٰ کا نام لیا۔ لٹن داس نے اس حساس معاملے پر بھی واضح موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے مشرفے کی قیادت میں کافی عرصہ کرکٹ کھیلی ہے، لیکن اعداد و شمار کی بنیاد پر وہ خود کو مشرفے سے بہتر کپتان سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ بیان یقیناً ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، لیکن وہ اپنے ریکارڈز پر قائم ہیں۔
لٹن داس کے کپتانی ریکارڈز پر ایک نظر
لٹن داس کا یہ دعویٰ صرف الفاظ تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کے کپتانی کے اعداد و شمار بھی کافی متاثر کن ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں لٹن داس بنگلہ دیشی کپتانوں میں سب سے زیادہ ون پرسنٹیج رکھنے والے کھلاڑی ہیں، جو 52.63 فیصد ہے۔ انہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے فارمیٹ میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں، جہاں انہوں نے بھارت کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامیابی اور افغانستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ریکارڈ ساز فتح جیسی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی
لٹن داس اب تک مجموعی طور پر 39 میچوں میں بنگلہ دیشی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں، جن میں سے 20 میچوں میں انہیں فتح نصیب ہوئی ہے۔ ان کی قیادت میں ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے ایک نئی رفتار پکڑی ہے اور ان کا بیٹنگ کے دوران ٹھنڈے مزاج کا مظاہرہ ٹیم کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ لیجنڈز کے مقابلے میں خود کو بہتر قرار دینا ایک متنازعہ بیان ہو سکتا ہے، لیکن لٹن داس کا ماننا ہے کہ کھیل کے میدان میں نتائج ہی اصل معیار ہوتے ہیں۔
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے میچوں میں لٹن داس اپنی اس خود اعتمادی کو کس طرح نتائج میں بدلتے ہیں اور کیا ان کا یہ دعویٰ شائقین کرکٹ کے دل جیت پائے گا یا نہیں۔
