Bangladesh Cricket

لٹن داس کی پاکستان کے خلاف شاندار سنچری: دباؤ میں بیٹنگ کا فن

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

لٹن داس: مشکل وقت میں ٹیم کو سہارا دینے کا فن

ٹیسٹ کرکٹ میں ایک بیٹر کی اصل آزمائش تب ہوتی ہے جب ٹیم کے ابتدائی وکٹیں تیزی سے گر جائیں اور اسکور بورڈ پر رنز کے بجائے وکٹوں کی تعداد زیادہ ہو۔ بنگلادیشی بیٹر لٹن داس نے پاکستان کے خلاف سلہٹ ٹیسٹ میں کچھ ایسا ہی مظاہرہ کیا۔ جب ٹیم 126 رنز پر 6 وکٹیں گنوا کر شدید دباؤ کا شکار تھی، تب لٹن داس نے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ایک ناقابل فراموش اننگز کھیلی۔

ٹیل اینڈرز کے ساتھ بیٹنگ کی حکمت عملی

لٹن داس کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر 6 پر بیٹنگ کرنا ایک منفرد چیلنج ہے۔ جب آپ کے ساتھ مشفیق الرحیم یا مہدی حسن میراز جیسے مستند بلے باز ہوں تو صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ لٹن کے مطابق: ‘جب آپ کے ساتھ پراپر بیٹرز ہوتے ہیں تو آپ کا مائنڈ سیٹ مختلف ہوتا ہے، آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ سنگلز آسانی سے مل جائیں گے۔ لیکن ٹیل اینڈرز کے ساتھ معاملہ بالکل الٹ ہوتا ہے۔’

لٹن داس نے طیجل اسلام، تسکین احمد اور شریف الاسلام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس طرح کریز پر وقت گزارا، اس نے ان کا کام بہت آسان کر دیا۔ طیجل نے 40، تسکین نے 14 اور شریف نے 30 گیندوں کا سامنا کیا، جس سے لٹن کو اپنی اننگز تعمیر کرنے میں مدد ملی۔

اسٹرائیک برقرار رکھنے کا دباؤ

لٹن داس نے اعتراف کیا کہ جب وہ 99 کے اسکور پر تھے تو ان پر خاصا دباؤ تھا، خاص طور پر جب شریف الاسلام کے پاؤں پر گیند لگی۔ انہوں نے بتایا: ‘میرا مائنڈ سیٹ یہ تھا کہ میں خود زیادہ گیندیں کھیلوں اور ٹیل اینڈرز کو صرف ایک یا دو گیندیں ہی دوں۔ ہماری ٹیل اتنی مضبوط نہیں کہ میں انہیں اعتماد کے ساتھ زیادہ اسٹرائیک دے سکوں۔ ماضی میں تجربہ رہا ہے کہ ایک بار اسٹرائیک دینے پر کھلاڑی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گیا تھا، اس لیے میں بہت محتاط رہتا ہوں۔’

سنچری کا ہدف نہیں، ٹیم کی ضرورت اہم تھی

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک بیٹر سنچری بنانے کے لیے کھیلتا ہے، لیکن لٹن داس کا نظریہ مختلف ہے۔ انہوں نے کہا: ‘میری توجہ سنچری پر نہیں تھی بلکہ یہ دیکھنا تھا کہ رنز کیسے آسکتے ہیں۔ جب طیجل کریز پر آئے تو ٹیم کا اسکور 116 تھا۔ میرا ہدف ٹیم کو 200 تک لے جانا تھا۔’

انہوں نے راولپنڈی میں مہدی حسن میراز کے ساتھ اپنی شراکت داری کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اننگز بھی کافی حد تک ایسی ہی تھی۔ اس وقت بھی ٹیم 26 رنز پر 6 وکٹیں گنوا چکی تھی۔ لٹن نے بتایا کہ دباؤ کے عالم میں انہیں کبھی کبھی تیز گیند بازوں پر چھکے لگانے جیسے خطرات بھی مول لینے پڑتے ہیں، حالانکہ آؤٹ فیلڈ سست ہونے کی وجہ سے یہ کام کافی مشکل ہوتا ہے۔

مختلف اننگز، مختلف مائنڈ سیٹ

اپنی تینوں بڑی ٹیسٹ سنچریوں کا موازنہ کرتے ہوئے لٹن داس نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف اننگز بالکل مختلف تھی کیونکہ مشفیق الرحیم ان کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ راولپنڈی میں میراز کا ساتھ تھا، جبکہ پاکستان کے خلاف اس حالیہ ٹیسٹ میں صورتحال مکمل طور پر نئی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘آپ کبھی بھی سنچری کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے، یہ حالات کے مطابق خود بخود بن جاتی ہے۔’

نتیجہ

لٹن داس کی یہ اننگز اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ایک مستند بیٹر جب ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔ ٹیل اینڈرز کو سنبھالنا اور خود اسٹرائیک پر رہ کر رنز بنانا لٹن کی کرکٹ سمجھ بوجھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ اننگز نہ صرف بنگلادیشی ٹیم کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ نوجوان کرکٹرز کے لیے بھی ایک سبق ہے کہ کیسے دباؤ میں صبر اور حکمت عملی کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔