سی ایس کے کی قیادت اور ایم ایس دھونی کی صورتحال پر بدری ناتھ کا تنقیدی تجزیہ
سی ایس کے میں جاری تنازعات اور قیادت کے سوالات
چنئی سپر کنگز (CSK) کے لیے آئی پی ایل کا موجودہ سیزن کئی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ ٹیم اپنے آخری لیگ میچ میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لیے تیار ہے، لیکن پلے آف میں جگہ بنانے کی راہ اب بھی کافی مشکل ہے۔ اس تمام تر صورتحال کے بیچ، سابق بھارتی اور سی ایس کے کے بلے باز سبرامنیم بدری ناتھ نے اپنی سابقہ ٹیم کی حکمت عملی، خاص طور پر ایم ایس دھونی کی انجری اور رتوراج گائیکواڈ کی کپتانی پر کڑی تنقید کی ہے۔
ایم ایس دھونی کی انجری کا پراسرار معاملہ
سبرامنیم بدری ناتھ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایم ایس دھونی کی انجری اور ان کی دستیابی کے حوالے سے ٹیم کی جانب سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔ بدری ناتھ کا کہنا ہے کہ ٹیم انتظامیہ نے اس معاملے کو جس طرح ہینڈل کیا ہے، وہ غیر تسلی بخش ہے۔ ان کا سوال ہے کہ کیا یہ سب کچھ صرف میچ میں دلچسپی بڑھانے کے لیے کیا جا رہا تھا یا اس کے پیچھے کوئی کاروباری حکمت عملی کارفرما تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ دھونی، جو اس سیزن میں انجریز کے باعث ٹیم کے ساتھ احمد آباد کا سفر بھی نہیں کر رہے، ان کی عدم موجودگی نے مداحوں اور ماہرین کے ذہنوں میں بہت سے شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
رتوراج گائیکواڈ کی کپتانی پر سوال
بدری ناتھ نے صرف دھونی کی صورتحال پر ہی سوال نہیں اٹھائے بلکہ رتوراج گائیکواڈ کو کپتان بنانے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر ٹیم انتظامیہ کا ہے اور اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ دھونی کی جانب سے کچھ مشورے دیے گئے ہوں گے، لیکن حتمی فیصلہ انتظامیہ نے ہی کیا ہے، جس کے نتائج اب ٹیم کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔
جڈیجہ بنام گائیکواڈ: ایک پرانی بحث
ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے بدری ناتھ نے کہا کہ اگر ایم ایس دھونی کی رائے لی جاتی تو شاید وہ رتوراج گائیکواڈ کی بجائے رویندر جڈیجہ کو ترجیح دیتے۔ یاد رہے کہ 2022 میں جڈیجہ کو کپتان بنایا گیا تھا لیکن ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد دوبارہ دھونی کو قیادت سنبھالنی پڑی تھی۔ اس کے بعد 2023 میں دھونی نے اپنی قیادت میں ٹیم کو پانچواں ٹائٹل جتوایا۔ تاہم، جڈیجہ کے مستقبل اور ٹیم میں ان کے کردار پر بھی کافی بحث ہوتی رہی ہے، خاص طور پر حالیہ ٹریڈز کے حوالے سے۔
مستقبل کی حکمت عملی اور منوج تیواری کے خدشات
صرف بدری ناتھ ہی نہیں، بلکہ منوج تیواری جیسے سابق کھلاڑیوں نے بھی چنئی سپر کنگز کی موجودہ قیادت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تیواری نے تجویز دی ہے کہ ٹیم کو 2027 کے سیزن کے لیے ایک نئے کپتان کی جانب دیکھنا چاہیے، جس میں سنجو سیمسن جیسے کھلاڑیوں کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ سی ایس کے ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے جہاں انہیں نہ صرف میدان میں کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک واضح وژن بھی درکار ہے۔
آئی پی ایل کا یہ سیزن چنئی سپر کنگز کے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتظامیہ کو آنے والے وقتوں میں کھلاڑیوں کے انتخاب اور قیادت کی تبدیلیوں کے حوالے سے زیادہ شفاف اور ٹھوس فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ شائقین کا اعتماد بحال رہ سکے۔
