Cricket News

معصوم رامیسہ اختر کا قتل: بنگلہ دیشی کرکٹرز اور کرکٹ بورڈ کا انصاف کا مطالبہ

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

معصوم رامیسہ اختر کا لرزہ خیز قتل: بنگلہ دیشی کرکٹرز اور کرکٹ بورڈ انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاقے پَلّابی میں آٹھ سالہ معصوم بچی رامیسہ اختر کے ساتھ پیش آنے والے انتہائی سفاکانہ اور دل دہلا دینے والے واقعے نے پوری بنگلہ دیشی قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جماعت کی اس ننھی طالبہ کو اس کے ایک پڑوسی، سہیل رانا، نے مبینہ طور پر اپنی درندگی کا نشانہ بنایا اور بعد میں اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس لرزہ خیز اور اندوہناک واقعے کی خبر جیسے ہی پھیلی، ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس مشکل اور انتہائی افسوسناک گھڑی میں بنگلہ دیش کی کرکٹ برادری بھی خاموش نہ رہ سکی۔ قومی ٹیم کے کپتانوں، سینئر کھلاڑیوں اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے سوشل میڈیا پر اپنے شدید صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مجرم کے لیے فوری اور عبرتناک سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

وہ دردناک واقعہ جس نے بنگلہ دیش کو خون کے آنسو رُلا دیا

آٹھ سالہ معصوم رامیسہ اختر ڈھاکہ کے ایک گنجان آباد علاقے پَلّابی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی اور دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ رپورٹ کے مطابق، صبح تقریباً ساڑھے دس بجے، معصوم رامیسہ اپنی بڑی بہن کے ساتھ اسکول جانے کی تیاری کر رہی تھی کہ اچانک لاپتہ ہو گئی۔ اس کی گمشدگی کے بعد گھر والوں نے تلاش شروع کی، لیکن یہ تلاش اس وقت ایک بھیانک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گئی جب رامیسہ کی والدہ نے پڑوسی سہیل رانا کے اپارٹمنٹ کے باہر اپنی معصوم بچی کا ایک جوتا دیکھا۔

شک ہونے پر جب ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کو اطلاع دی گئی اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر تلاشی لی، تو وہاں کا منظر دیکھ کر سب کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پولیس کو معصوم رامیسہ کی لاش بستر کے نیچے سے ملی جبکہ اس کا سر باتھ روم کے ٹوائلٹ میں ایک بالٹی کے اندر چھپایا گیا تھا۔ اس لرزہ خیز جرم کی تفصیلات سامنے آتے ہی پورے بنگلہ دیش میں غم و غصے کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ ہر طرف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر مجرم کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ٹائیگرز کی انصاف کے لیے آواز: معصوم کلی کے لیے کرکٹرز کا احتجاج

بنگلہ دیش میں کرکٹرز کو ملک کی سب سے بااثر اور مقبول ترین شخصیات مانا جاتا ہے۔ اس المناک واقعے کے سامنے آنے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر، ملک کے مایہ ناز کھلاڑیوں نے اپنے آفیشل فیس بک پیجز کے ذریعے اس درندگی کے خلاف آواز اٹھائی اور انصاف کے حصول کے لیے مہم شروع کی۔

ٹیسٹ کپتان نجم الحسین شانتو کی درد بھری پکار

بنگلہ دیشی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نجم الحسین شانتو نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر معصوم رامیسہ کا ایک خاکہ (اسکیچ) شیئر کیا۔ ان کا یہ پیغام گہرے دکھ اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی تڑپ سے بھرپور تھا۔ شانتو نے لکھا:

“ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں ہر بچہ خوف کے بغیر، محفوظ طریقے سے مسکرا سکے اور اپنے خوابوں کے ساتھ بڑا ہو سکے۔ کسی دوسری رامیسہ کی زندگی کا اس طرح المناک خاتمہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اس معصوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور مجرموں کو ایسی سزا ملے جو معاشرے کے لیے ایک عبرت ناک مثال بن جائے۔”

ٹی 20 کپتان لٹن داس کا بطور والد جذباتی اور فکر انگیز پیغام

ٹی 20 ٹیم کے کپتان لٹن داس، جو خود بھی ایک ننھی بیٹی کے والد ہیں، نے اس سانحے پر اپنے دلی جذبات کا اظہار کیا۔ ان کا بیان محض ایک کپتان کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک فکرمند باپ کی تڑپ کی عکاسی کر رہا تھا۔ انہوں نے لکھا:

“ایک بیٹی کا باپ ہونے کے ناطے، رامیسہ کے بارے میں یہ خبر سننا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ اور دل توڑ دینے والا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس طرح کی درندگی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ہم سب کے بچے ایک محفوظ دنیا کے حقدار ہیں جہاں وہ بغیر کسی خوف کے جی سکیں۔ جو بھی غلط کام ہوتا ہے، اس کا مناسب انصاف ہونا چاہیے اور رامیسہ کے معاملے میں انصاف کی فراہمی میں ذرا بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔”

لٹن داس نے مزید زور دیتے ہوئے لکھا کہ “جب ہم سب مل کر رامیسہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو ہمیں یہ بات بالکل واضح اور بلند آواز میں کہنی چاہیے: اس طرح کے گھناؤنے جرائم کی سزا صرف اور صرف سخت ترین ہونی چاہیے۔ ہم اب کبھی بھی کوئی دوسرا ایسا سانحہ نہیں دیکھنا چاہتے۔” لٹن داس کے اس بیان نے ہر اس باپ اور ماں کے دل کو چھو لیا جو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے فکرمند ہیں۔

مشفیق الرحیم کا سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

بنگلہ دیشی کرکٹ کے سب سے قابل احترام اور تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز مشفیق الرحیم نے بھی اس سفاکی پر اپنے گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا:

“آج صبح یہ خبر سن کر مجھے شدید دھچکا لگا ہے۔ ننھی رامیسہ حفاظت، محبت اور تحفظ کی حقدار تھی… نہ کہ اس طرح کی خوفناک سفاکی کا نشانہ بنتی۔ میں اس معصوم بچی کے لیے فوری اور مناسب انصاف کا مطالبہ کرتا ہوں۔ کسی بھی خاندان کو کبھی بھی اس طرح کے ناقابل برداشت درد سے نہ گزرنا پڑے۔ بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی سزا سخت ترین ہونی چاہیے۔”

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) بھی انصاف کے مطالبے میں شامل

بنگلہ دیش میں کرکٹ کے نگران ادارے، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) نے بھی اس گھناؤنے واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بورڈ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا:

“ہم ننھی رامیسہ کے خلاف کیے جانے والے اس گھناؤنے اور سفاکانہ جرم پر شدید صدمے اور غصے میں ہیں۔ رامیسہ اور اس طرح کے بے رحمانہ تشدد کا شکار ہونے والے تمام متاثرین کے لیے ہمارا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ آج ہم سب انصاف کے اس مطالبے میں متحد کھڑے ہیں۔”

نتیجہ: ایک محفوظ معاشرے کی تعمیر کے لیے مشترکہ عزم

بنگلہ دیش کے کرکٹ ہیروز کی طرف سے یک زبان ہو کر انصاف کی یہ پکار یقیناً قاتل سہیل رانا کو سخت ترین سزا دلوانے کی تحریک کو مزید تقویت دے گی۔ کھلاڑیوں نے نہ صرف متاثرہ خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے بلکہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں بنیادی اور نظامی تبدیلی لانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ پورا معاشرہ متحد ہو کر بچوں کے خلاف ایسے گھناؤنے جرائم کا خاتمہ کرے تاکہ ملک کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔