کرس روجرز کا وکٹوریہ کے ساتھ دو سالہ معاہدہ: شیفیلڈ شیلڈ ٹائٹل کی تلاش جاری
کرس روجرز اور وکٹوریہ کرکٹ: ایک نئے سفر کا آغاز
آسٹریلیا کے سابق اوپننگ بیٹر کرس روجرز نے وکٹوریہ کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے مزید دو سال کے لیے معاہدے میں توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وکٹوریہ کی ٹیم نے حالیہ برسوں میں ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار تسلسل کا مظاہرہ کیا ہے۔ 2020 کے آخر میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے، روجرز کی قیادت میں وکٹوریہ نے پانچ سیزن میں تین مرتبہ شیفیلڈ شیلڈ کے فائنل تک رسائی حاصل کی ہے، جو کہ ان کی بہترین کوچنگ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شیفیلڈ شیلڈ فائنل کی تلخ یادیں اور مستقبل کے عزائم
گزشتہ 2025-26 کے موسم گرما میں، وکٹوریہ نے شیفیلڈ شیلڈ میں ریکارڈ ساز کارکردگی دکھائی اور سات فتوحات حاصل کیں، جو کہ ایک ریکارڈ کے برابر ہے۔ تاہم، سیزن کا اختتام کسی حد تک مایوس کن رہا جب جنوبی آسٹریلیا کے خلاف فائنل میں ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سنسنی خیز مقابلے میں، وکٹوریہ کو چوتھی اننگز میں صرف 196 رنز کا ہدف حاصل کرنا تھا، لیکن بیٹنگ لائن کی اچانک ناکامی نے انہیں ٹائٹل سے محروم کر دیا۔
اس شکست کے بعد کرس روجرز کافی افسردہ دکھائی دیے، لیکن اب وہ نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترنے کو تیار ہیں۔ روجرز کا کہنا ہے کہ “وکٹوریہ کی کوچنگ کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور میں اس پروگرام کی مضبوط تاریخ کو آگے بڑھانے کے لیے پرجوش ہوں۔ ہم نے ایک ایسا ماحول تخلیق کرنے کے لیے سخت محنت کی ہے جہاں کھلاڑی خود کو چیلنج کر سکیں اور مستقل مزاجی کے ساتھ پرفارم کر سکیں۔ مجھے اس گروپ کی کامیابیوں پر فخر ہے، لیکن کھلاڑیوں میں مزید بہتری لانے اور وکٹورین کرکٹ میں کامیابی لانے کی تڑپ اب بھی باقی ہے۔”
مقامی ٹیلنٹ پر بھروسہ اور کھلاڑیوں کی ترقی
وکٹوریہ کرکٹ کی انتظامیہ روجرز کی کارکردگی سے بے حد مطمئن ہے، خاص طور پر اس لیے کہ انہوں نے مقامی کھلاڑیوں پر مشتمل ایک مضبوط ٹیم تیار کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں شیفیلڈ شیلڈ فائنلز میں وکٹوریہ کی ٹیم کے صرف دو کھلاڑی، مارکس ہیرس اور نک میڈنسن، ایسے تھے جو وکٹوریہ کے اپنے سسٹم کی پیداوار نہیں تھے۔ باقی تمام کھلاڑیوں نے وکٹوریہ کے جونیئر لیول اور پریمیئر کرکٹ سسٹم سے تربیت حاصل کی ہے۔
روجرز کا ایک بڑا ہدف وکٹورین کھلاڑیوں کو آسٹریلیا کی قومی ٹیم تک پہنچانا رہا ہے۔ ان کے دور میں ٹوڈ مرفی نے 2023 میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا، جبکہ میٹ شارٹ اور ول سدرلینڈ نے بھی بین الاقوامی وائٹ بال کرکٹ میں قدم رکھا۔ اس کے علاوہ اولی پیک کو پاکستان کے آئندہ ون ڈے دورے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جبکہ کیمبل کیلا وے اور فرگس او نیل آسٹریلیا اے کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
انتظامیہ کی طرف سے مکمل حمایت
وکٹوریہ کے جنرل مینیجر کرکٹ پرفارمنس، گراہم مینو نے روجرز کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کرس نے وکٹورین کرکٹ کے لیے ایک اہم دور میں ٹیم کی بہترین قیادت کی ہے۔ مینو کے مطابق، روجرز نے ایک ایسا کلچر پروان چڑھایا ہے جہاں ٹیم کو انفرادی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کرس نے نہ صرف ٹیم کو مسلسل فائنلز تک پہنچایا بلکہ ایسے کھلاڑی بھی پیدا کیے جو اعلیٰ ترین سطح پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بہت سے کھلاڑیوں کا وکٹوریہ کے ساتھ دوبارہ وابستہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ انہیں روجرز کے پروگرام پر مکمل اعتماد ہے۔”
اسکواڈ کی صورتحال اور اسٹار کھلاڑیوں کی دستیابی
آئندہ سیزن کے لیے وکٹوریہ نے اپنے بیشتر کھلاڑیوں کو برقرار رکھا ہے۔ اگرچہ میٹ شارٹ اور گلین میکسویل کنٹریکٹ لسٹ میں نمایاں طور پر شامل نہیں ہیں، لیکن دونوں اسٹار کھلاڑیوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جب وہ اپنی فرنچائز مصروفیت سے فارغ ہوں گے تو وہ وکٹوریہ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ میٹ شارٹ، جو اب کوئینز لینڈ میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم ہیں، اب بھی اپنی ریاست کے لیے شیفیلڈ شیلڈ اور ون ڈے کرکٹ کھیلنے کے خواہش مند ہیں۔
خلاصہ: ایک ادھورے مشن کی تکمیل
کرس روجرز کا نیا دو سالہ معاہدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وکٹوریہ کرکٹ اپنی پالیسیوں میں تسلسل چاہتی ہے۔ روجرز کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج شیفیلڈ شیلڈ کی ٹرافی اٹھانا ہے جو گزشتہ چند سالوں سے ان کی پہنچ سے بال بال بچتی رہی ہے۔ ان کی کوچنگ میں ٹیم نے جس طرح کا ڈسپلن اور تیاری دکھائی ہے، اس سے امید کی جا سکتی ہے کہ اگلے دو برسوں میں وکٹوریہ آسٹریلوی ڈومیسٹک کرکٹ کا تاج اپنے سر پر سجانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
