IPL MVP winners list: Every Most Valuable Player award winner in IPL history
آئی پی ایل ایم وی پی (MVP) ایوارڈ کیا ہے؟
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے ہر سیزن کے اختتام پر، لیگ ان کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازتی ہے جنہوں نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا۔ جہاں اورینج کیپ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کو اور پرپل کیپ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کو دی جاتی ہے، وہیں ‘موسٹ ویلیو ایبل پلیئر’ (MVP) ایوارڈ اس کھلاڑی کو دیا جاتا ہے جو بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں سب سے الگ نظر آتا ہے۔ یہ ایوارڈ 2013 سے آفیشل پوائنٹس سسٹم کے تحت دیا جا رہا ہے، جس سے قبل اسے ‘مین آف دی ٹورنامنٹ’ کہا جاتا تھا۔
آئی پی ایل تاریخ کے فاتحین کا سفر
آئیے 2008 سے 2025 تک کے ایم وی پی فاتحین پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
- 2008: شین واٹسن – راجستھان رائلز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ 472 رنز اور 17 وکٹیں حاصل کیں۔
- 2009: ایڈم گلکرسٹ – ڈیکن چارجرز کی کپتانی کرتے ہوئے 495 رنز بنائے اور 18 شکار کیے۔
- 2010: سچن ٹنڈولکر – 618 رنز کے ساتھ اورینج کیپ اپنے نام کی۔
- 2011: کرس گیل – آر سی بی کے لیے 608 رنز بنائے اور سنچریوں کی ہیٹ ٹرک کی۔
- 2012: سنیل نارائن – کے کے آر کی پہلی جیت میں 24 وکٹیں حاصل کیں۔
- 2013: شین واٹسن – آفیشل پوائنٹس سسٹم کے تحت 386 پوائنٹس کے ساتھ ایوارڈ جیتا۔
- 2014: گلین میکسویل – 552 رنز کے ساتھ مڈل آرڈر میں انقلاب برپا کیا۔
- 2015: آندرے رسل – 326 رنز اور 13 وکٹوں کے ساتھ بہترین کارکردگی۔
- 2016: وراٹ کوہلی – 973 رنز کے ساتھ ایک غیر معمولی سیزن۔
- 2017: بین اسٹوکس – 316 رنز اور 12 وکٹوں کے ساتھ پونے کو فائنل تک پہنچایا۔
- 2018: سنیل نارائن – 357 رنز اور 17 وکٹوں کے ساتھ دوسری بار یہ اعزاز حاصل کیا۔
- 2019: آندرے رسل – 510 رنز اور 52 چھکوں کے ساتھ تباہ کن فارم۔
- 2020: جوفرا آرچر – 20 وکٹوں کے ساتھ ایک مشکل سیزن میں شاندار بولنگ۔
- 2021: ہرشل پٹیل – 32 وکٹوں کے ساتھ ‘پرپل پٹیل’ کا اعزاز پایا۔
- 2022: جوس بٹلر – 863 رنز کے ساتھ اورینج کیپ جیتی۔
- 2023: شبمن گل – 890 رنز کے ساتھ ٹورنامنٹ کے بہترین بلے باز رہے۔
- 2024: سنیل نارائن – 450 پوائنٹس کے ساتھ تیسری بار ایم وی پی ایوارڈ جیتا۔
- 2025: سوریا کمار یادو – 717 رنز بنا کر ایم آئی کی واپسی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایم وی پی پوائنٹس سسٹم کی اہمیت
2013 میں متعارف کرایا گیا یہ پوائنٹس سسٹم کھیل کو مزید شفاف بناتا ہے۔ ہر چوکے پر 2.5 پوائنٹس، چھکے پر 3.5، وکٹ پر 3.5، اور ڈاٹ بال پر 1 پوائنٹ دیا جاتا ہے۔ یہ نظام کھلاڑیوں کی انفرادی صلاحیتوں کو اعداد و شمار کی زبان میں بہترین طریقے سے بیان کرتا ہے۔
چاہے وہ وراٹ کوہلی کی 2016 کی یادگار اننگز ہو یا سنیل نارائن کی مستقل مزاجی، یہ تمام کھلاڑی آئی پی ایل کی تاریخ کے وہ ستون ہیں جنہوں نے اپنی ٹیموں کو کامیابی دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
