Cricket News

From BCCI Ban To RCB Match-Winner In IPL 2026: Rasikh Salam’s Incredible Comebac – راسخ سلام کی شاندار واپسی

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

کھیلوں کی دنیا میں عروج و زوال کی کہانیاں تو بہت ہیں، لیکن کچھ کہانیاں دل کو اس حد تک متاثر کرتی ہیں کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتی ہیں۔ رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کے نوجوان اور باصلاحیت تیز گیند باز راسخ سلام کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ From BCCI Ban To RCB Match-Winner In IPL 2026: Rasikh Salam’s Incredible Comebac محض ایک کرکٹ کی خبر نہیں، بلکہ یہ عزمِ مصمم، صبر اور انتھک محنت کی ایک زندہ جاوید داستان ہے۔ آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں آر سی بی کے لیے شاندار کارکردگی دکھانے والے راسخ سلام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر انسان میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو، تو وہ بدترین حالات سے بھی کامیابی کا راستہ نکال سکتا ہے۔ آئیے ان کے اس مشکل اور سبق آموز سفر پر ایک گہری نظر ڈالتے ہیں۔

جب بی سی سی آئی نے عمر کے تنازعے پر راسخ سلام پر پابندی لگائی

سال 2019 راسخ سلام کے کیریئر کا ایک ایسا موڑ تھا جہاں ان کے خواب یکایک بکھرتے ہوئے محسوس ہوئے۔ بی سی سی آئی (BCCI) نے پیدائشی سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے دوران معلومات میں فرق پائے جانے پر ان پر دو سال کی سخت پابندی عائد کر دی۔ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگی جب وہ ابھی پیشہ ورانہ کرکٹ میں اپنے قدم جمانے کی شروعات کر رہے تھے۔

جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے اس ہونہار فاسٹ بولر کو حال ہی میں ممبئی انڈینز نے آئی پی ایل 2019 کے لیے منتخب کیا تھا، اور وہ انڈیا کی انڈر 19 ٹیم کا بھی حصہ بن چکے تھے۔ انہیں ہندوستانی کرکٹ کا ایک چمکتا ہوا ستارہ مانا جا رہا تھا جو اپنی تیز رفتار اور سوئنگ بولنگ سے سب کو حیران کر رہا تھا۔ لیکن اس معطلی نے ان کی ترقی کو اچانک بریک لگا دیا۔ انہیں انگلینڈ کا دورہ کرنے والے انڈیا انڈر 19 اسکواڈ سے فوری طور پر باہر کر دیا گیا، جس سے ان کا حوصلہ بری طرح متاثر ہوا۔ صرف چند مقامی میچز اور ایک آئی پی ایل میچ کھیلنے کے بعد، ان کا شاندار عروج یکدم خاموشی میں بدل گیا۔

پابندی کے سائے اور واپسی کے لیے کی جانے والی انتھک جدوجہد

دو سال کی طویل پابندی کسی بھی نوجوان کرکٹر کے کیریئر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ راسخ سلام بھی اس دور میں شدید مایوسی اور خوف کا شکار تھے کہ شاید اب وہ کبھی بھی پیشہ ورانہ کرکٹ کے میدانوں میں قدم نہیں رکھ پائیں گے۔ لیکن انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے خاموشی سے اپنی محنت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس تاریک دور میں ممبئی انڈینز کی فرنچائز نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے راسخ سلام کو تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ انہیں کرکٹ سے جوڑے رکھنے اور ان کی فٹنس و بولنگ کی مہارت کو برقرار رکھنے میں مسلسل رہنمائی فراہم کی۔ راسخ نے گھریلو سرکٹ میں سخت ٹریننگ کی اور بالآخر 2021-22 کے گھریلو سیزن میں دوبارہ میدان کا رخ کیا۔ اپنی شاندار کارکردگی کے بلبوتے پر انہوں نے 2022 سے 2024 کے دوران کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) اور دہلی کیپٹلز کے ساتھ دوبارہ آئی پی ایل کے سفر کا آغاز کیا۔

ان کی اسی محنت کا نتیجہ تھا کہ رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) نے سال 2025 کی نیلامی میں انہیں 6 کروڑ روپے کی خطیر رقم میں خریدا۔ آر سی بی کی انتظامیہ نے ان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ کیا اور آئی پی ایل 2026 کے لیے انہیں ایک اہم ان کیپڈ کھلاڑی کے طور پر برقرار رکھا۔ یہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

آئی پی ایل 2026: آر سی بی کے لیے نجات دہندہ اور بہترین سیزن

آئی پی ایل 2026 کا سیزن راسخ سلام کے لیے ان کے برسوں کے صبر اور قربانیوں کا صلہ بن کر آیا۔ ابتدائی چار میچز نہ کھیلنے کے باوجود، انہوں نے مایوس ہونے کے بجائے اپنی باری کا انتظار کیا۔ جیسے ہی انہیں موقع ملا، انہوں نے ٹیم کے تجربہ کار بولرز بھونیشور کمار اور جوش ہیزل ووڈ کے ساتھ مل کر ایک مضبوط بولنگ لائن اپ تشکیل دی اور خود کو ٹیم کا ایک ناگزیر تیسرا تیز گیند باز ثابت کیا۔

انہوں نے اس سیزن کا اختتام 21.31 کی اوسط اور 9.45 کے بہترین اکانومی ریٹ کے ساتھ 19 وکٹیں لے کر کیا۔ وہ مڈل اوورز اور ڈیتھ اوورز میں نہ صرف رنز روکنے میں کامیاب رہے بلکہ اہم شراکت داریاں توڑ کر آر سی بی کو فتوحات سے ہمکنار کرواتے رہے۔ دباؤ کے لمحات میں ان کا پرسکون رہنا اور بہترین یارکرز پھینکنا آر سی بی کی کامیابی کا بڑا سبب بنا۔

ان کے اس خواب جیسے سیزن کا سب سے یادگار لمحہ احمد آباد میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف کھیلا جانے والا فائنل میچ تھا۔ جہاں انہوں نے دباؤ کے باوجود انتہائی نپی تلی بولنگ کی اور صرف 27 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی اس تباہ کن بولنگ نے گجرات ٹائٹنز کو ایک کم اسکور پر روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دو سالہ پابندی کی تاریکی سے نکل کر فائنل کے ہیرو بننے تک، راسخ سلام کا یہ سفر عزم و استقلال کی ایک بہترین مثال ہے۔ راسخ سلام نے ثابت کر دیا کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.