Nigar Sultana Joty excited for 6th World Cup as Bangladesh eye strong campaign – بنگلہ دیشی کپتان کا بڑا عزم
آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا انعقاد انگلینڈ اور ویلز میں ہونے جا رہا ہے، جس میں بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر سے 12 بہترین ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ بنگلہ دیش کی کپتان نگار سلطانہ جوتی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ بطور کپتان ان کا تیسرا اور مجموعی طور پر چھٹا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا، جسے ہم اس عنوان کے تحت دیکھ سکتے ہیں کہ Nigar Sultana Joty excited for 6th World Cup as Bangladesh eye strong campaign۔ انہوں نے اپنے طویل سفر، ٹیم کی تیاریوں اور مستقبل کے چیلنجز پر کھل کر گفتگو کی اور ٹیم کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
نگار سلطانہ جوتی کا یادگار سفر اور قیادت کا اعزاز
آئی سی سی سے گفتگو کرتے ہوئے نگار سلطانہ جوتی نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کے طویل سفر پر روشنی ڈالی اور آنے والے ٹورنامنٹ کے لیے اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، “میں ساتویں آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی قیادت کرنے کے لیے بے حد پرجوش ہوں۔ یہ میرا مجموعی طور پر چھٹا ورلڈ کپ ہے۔ مجھے آج بھی 2016 میں کھیلے گئے اپنے پہلے ٹورنامنٹ کی خوشگوار یادیں اچھی طرح یاد ہیں، جب میں صرف 18 سال کی تھی۔ اس وقت میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میں مستقبل میں تیسری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی قومی ٹیم کی کپتانی کے فرائض انجام دوں گی۔”
کپتان نے اپنے قیادت کے سفر کو چیلنجنگ اور فائدہ مند دونوں قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا، “میں یہ کہوں گی کہ متعدد ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں ٹیم کی قیادت کرنا ایک شاندار اور یادگار سفر رہا ہے۔ یہ میرے لیے ایک بڑا چیلنج بھی رہا ہے اور ایک بہت بڑا اعزاز بھی۔ لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ خوشی دی ہے، وہ ہماری نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی اور ان کا خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ ہم نے ٹیم کے اندر جو اتحاد اور ٹیم اسپرٹ پیدا کی ہے، وہ ہمارے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔”
ٹیم بنگلہ دیش کی ترقی اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف تاریخی کامیابی
نگار سلطانہ نے سال 2024 میں بنگلہ دیشی ٹیم کی کارکردگی اور ترقی کو نمایاں طور پر اجاگر کیا۔ خاص طور پر انہوں نے 10 سال کے طویل انتظار کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حاصل ہونے والی پہلی فتح کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، “2024 میں ہماری ٹیم کی ترقی بالکل واضح نظر آئی جب ہم نے پورے 10 سال بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی پہلی جیت درج کی۔ اسکاٹ لینڈ کو شکست دینا ہماری ٹیم کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور یادگار لمحہ تھا، اور اب ہم اس سال کی مہم کی تیاری کرتے ہوئے اس کامیابی کو بنیاد بنا کر مزید آگے بڑھنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”
مشکل گروپ اور ٹورنامنٹ میں مضبوط حریفوں کا چیلنج
بنگلہ دیشی ٹیم کو اس بار ایک انتہائی مشکل گروپ میں رکھا گیا ہے جہاں ان کا مقابلہ ان ٹیموں سے ہوگا جو مستقل طور پر سیمی فائنلز اور فائنلز کا حصہ بنتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود، کپتان مایوس نہیں ہیں اور ان کا عزم بلند ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں ایک ایسے گروپ میں شامل کیا گیا ہے جو واقعی بہت سخت ہے، جس میں ایسی ٹیمیں موجود ہیں جو اکثر فائنل اور سیمی فائنل کھیل چکی ہیں۔ لیکن ہمارا یہ پختہ یقین ہے کہ ہم میدان میں اتر کر کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم پرامید ہیں کہ یہ ٹورنامنٹ بنگلہ دیشی تاریخ کا بہترین ٹورنامنٹ ثابت ہوگا۔”
نیدرلینڈز کا ڈیبیو اور کوالیفائرز کی یادیں
نگار سلطانہ جوتی نے نیدرلینڈز کی ٹیم کے بارے میں بھی گفتگو کی، جو اس بار ورلڈ کپ میں اپنا ڈیبیو کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارا سامنا نیدرلینڈز سے بھی ہوگا، جو پہلی بار اس بڑے اسٹیج پر آ رہی ہیں۔ ہم نے کوالیفائر میچوں میں انہیں شکست دی تھی، جس کی وجہ سے ہمارا حوصلہ بلند ہے۔ ہمارے لیے اس ٹورنامنٹ کے ہر میچ کو جیتنا اتنا ہی اہم تھا جتنا کہ ورلڈ کپ میں اپنی جگہ بنانا۔ ہم اس جیت کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے میدان میں اتریں گے۔”
حالیہ فارم اور انفرادی کارکردگی پر اطمینان
کپتان نے دیانتداری سے اعتراف کیا کہ حالیہ دوطرفہ (باہمی) سیریز میں ٹیم کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں رہے، لیکن انفرادی کارکردگی نے ٹیم کو بہت سہارا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، “گذشتہ ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد سے باہمی سیریز میں ہمیں وہ نتائج نہیں مل سکے جن کی ہم امید کر رہے تھے، لیکن ہمارے پاس کئی بہترین انفرادی کارکردگیاں سامنے آئی ہیں۔ شورنا اختر اور شارمین اختر نے سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز میں شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا، جبکہ سلطانہ خاتون نے آخری میچ میں اپنے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کی، حالانکہ وہ میچ ہم بہت ہی معمولی فرق سے ہار گئے تھے۔”
انگلینڈ کے حالات اور ایڈنبرا میں سہ ملکی سیریز کا تجربہ
بنگلہ دیش کی ٹیم اس وقت ایڈنبرا میں ایک سہ ملکی سیریز کھیل رہی ہے جس میں اسکاٹ لینڈ اور نیدرلینڈز کی ٹیمیں شامل ہیں۔ یہ سیریز بنگلہ دیش کو وہاں کے مقامی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد دے رہی ہے۔ نگار سلطانہ نے کہا، “یہ ورلڈ کپ پہلا موقع ہوگا جب ہم انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلیں گے۔ اس لیے وہاں کے حالات اور پچز سے ہم آہنگ ہونے میں ہمیں تھوڑا وقت ضرور لگے گا، لیکن ہم یہ دیکھنے کے لیے بے حد پرجوش ہیں کہ ہم وہاں کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔”
انعامی رقم میں اضافہ اور ویمنز کرکٹ کا مستقبل
کپتان نے اس سال کے ٹورنامنٹ کے لیے آئی سی سی کی جانب سے انعامی رقم میں اضافے کے فیصلے کا بھی گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا، “یہ سن کر بہت حوصلہ ملا کہ اس سال کے ٹورنامنٹ کے لیے انعامی رقم میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنگلہ دیش میں خواتین کی کرکٹ پر بہت مثبت اور گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کھیل کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس میں زیادہ جوش، سنسنی اور شدت ہوتی ہے۔ آج کل لوگ اس فارمیٹ میں بہت زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ اس نے عالمی سطح پر خواتین کی کرکٹ کی ترقی پر گہرا اثر ڈالا ہے اور ہم اس تاریخی سفر کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔”
بنگلہ دیش کی ٹیم اپنی ورلڈ کپ مہم کا باقاعدہ آغاز 14 جون کو نیدرلینڈز کے خلاف میچ سے کرے گی۔ مداحوں کو امید ہے کہ نگار سلطانہ جوتی کی قیادت میں ٹیم اس بار نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب رہے گی۔
