Nayeem Hasan breaks down in tears while describing alleged police abuse
نعیم حسن کا پولیس پر سنگین الزامات کا انکشاف
بنگلہ دیشی قومی ٹیم کے اسپنر نعیم حسن نے حال ہی میں ایک ہولناک واقعے کا انکشاف کیا ہے جس نے کرکٹ کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ نعیم حسن کا دعویٰ ہے کہ ڈھاکا پریمیئر لیگ (DPL) میں شرکت کے بعد جب وہ چٹاگانگ واپس پہنچے تو انہیں پولیس افسران کی جانب سے نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ جسمانی تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔
واقعے کی تفصیلات
پچیس سالہ ٹیسٹ کرکٹر نے میڈیا کے سامنے اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ہوائی اڈے سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خود کو ڈیٹیکٹو برانچ (DB) کے ارکان ظاہر کرنے والے کچھ افراد نے انہیں حراست میں لینے کی کوشش کی۔
نعیم حسن نے جذباتی انداز میں بتایا کہ کس طرح انہیں ایک سی این جی آٹو رکشہ سے زبردستی گاڑی میں بٹھایا گیا اور ان کا موبائل فون چھین لیا گیا۔ اس دوران انہیں گلے سے پکڑا گیا اور لاٹھیوں سے مارا پیٹا گیا۔ Nayeem Hasan breaks down in tears while describing alleged police abuse کے دوران وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھیں چھلک پڑیں۔
پولیس کا رویہ اور سنگین الزامات
نعیم کے مطابق، جب ان کا سامنا ایس آئی شفیق سے ہوا تو صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ‘ایس آئی شفیق نے مجھے دھکا دے کر گاڑی میں ڈالا اور دروازہ لاک کر دیا۔ جب میں نے وجہ جاننے کی کوشش کی تو مجھے خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور کہا گیا کہ تم ایک ملزم ہو۔’
- نعیم حسن کے مطابق، انہیں گلے سے پکڑا گیا جس سے وہ خوفزدہ ہو گئے۔
- موقع پر موجود تقریباً 100 لوگوں نے ان کی شناخت بطور قومی کرکٹر کی، لیکن پولیس نے کسی کی بات نہیں سنی۔
- نعیم کا دعویٰ ہے کہ انہیں تھانے لے جا کر وہاں بھی بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
شناخت کے باوجود توہین آمیز سلوک
کرکٹر نے سوال اٹھایا کہ جب وہ بار بار اپنی شناخت کروا رہے تھے اور وہاں موجود ہجوم بھی گواہی دے رہا تھا، تو پھر بھی انہیں تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے بتایا کہ تھانے کے افسر انچارج کے سامنے جب انہوں نے اپنا تعارف کروایا تو انہیں اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا۔ تاہم، جب اس افسر کو ان کے معاملے پر اعلیٰ حکام کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں تو اچانک ان کا رویہ تبدیل ہو گیا۔
ایس آئی شفیق کے خلاف براہ راست الزامات
نعیم حسن نے ایس آئی شفیق پر واضح طور پر جسمانی تشدد کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ایس آئی شفیق نے مجھے لاٹھی سے مارا۔ میں نے انہیں باور کرایا کہ انہیں مجھ پر ہاتھ اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے، اس کے باوجود انہوں نے تشدد کا سلسلہ جاری رکھا۔’ یہ واقعہ ایک مشہور کھلاڑی کی سیکیورٹی اور پولیس کے رویے پر بڑے سوالات اٹھاتا ہے۔ بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ اور حکام کی جانب سے اس معاملے پر تحقیقات کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
