India make red-ball switch for Afghanistan challenge in New Chandigarh’s maiden ٹیسٹ
نئے سٹیڈیم میں ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز
نیو چندی گڑھ کا پی سی اے سٹیڈیم، جو حال ہی میں آئی پی ایل 2026 کے جوش و خروش کا مرکز تھا، اب مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ یہ مقام اب سرخ رنگ کی بجائے ٹیسٹ کرکٹ کے سفید لباس میں ملبوس نظر آ رہا ہے، کیونکہ یہاں بھارت اور افغانستان کے درمیان پہلا تاریخی ٹیسٹ میچ کھیلا جائے گا۔
چیلنجز اور تیاری
بھارتی ٹیم طویل وقفے کے بعد ٹیسٹ فارمیٹ میں واپسی کر رہی ہے۔ آئی پی ایل فائنل کے صرف چھ دن بعد یہ میچ کھیلنا کھلاڑیوں کے لیے جسمانی اور تکنیکی اعتبار سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ بھارت کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ یہ میچ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ نہیں ہے، لیکن ٹیم اسے ہلکے میں نہیں لے رہی۔
افغانستان کی امیدیں
افغانستان کے لیے یہ ان کا 13واں ٹیسٹ میچ ہے۔ اگرچہ وہ راشد خان کی خدمات سے محروم ہیں، لیکن کپتان حشمت اللہ شاہدی پرعزم ہیں کہ ان کی ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ یہ میچ نئے ہیڈ کوچ رچرڈ پائبس کی نگرانی میں ان کا پہلا بڑا امتحان بھی ہے۔
کھلاڑیوں پر نظر
- کلدیپ یادو: آر ایشون اور رویندرا جڈیجہ کی غیر موجودگی میں، کلدیپ بھارت کے اہم اسپنر ہوں گے۔ ان کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ افغان بلے بازوں کو دباؤ میں رکھیں۔
- رحمت شاہ: افغانستان کے سب سے تجربہ کار بلے باز ہونے کے ناطے، رحمت شاہ پر اننگز کو سنبھالنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
ٹیم کی صورتحال
بھارتی ٹیم میں بی سائی سدرشن نمبر 3 پر بیٹنگ جاری رکھیں گے۔ دوسری جانب، افغانستان اپنی ٹیم میں رحمان اللہ اور ننگیال خروٹے جیسے نئے کھلاڑیوں کو ڈیبیو کا موقع دے سکتا ہے۔
اعداد و شمار اور ریکارڈز
- یہ پہلا موقع ہے جب بھارت 2010 کے بعد ایشون اور جڈیجہ کے بغیر اپنے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ کھیلے گا۔
- رشبھ پنت اس میچ کے ساتھ اپنے کیریئر کا 50واں ٹیسٹ میچ کھیلیں گے۔
- شبھمن گل 3000 ٹیسٹ رنز مکمل کرنے سے محض 157 رنز کی دوری پر ہیں۔
پچ اور موسم
نیو چندی گڑھ کی پچ کالی مٹی سے تیار کی گئی ہے، جو بلے بازوں کے لیے سازگار ثابت ہو سکتی ہے۔ جون کی شدید گرمی، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے، کھلاڑیوں کی برداشت کا امتحان لے گی۔ رچرڈ پائبس کے مطابق، پچ پر موجود گھاس کے باوجود، خشک موسم اور گرمی اسپنرز کو کھیل میں واپس لانے کا باعث بنے گی۔
نتیجہ
یہ میچ نہ صرف نئے اسٹیڈیم کے لیے ایک سنگ میل ہے بلکہ دونوں ٹیموں کے لیے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو جانچنے کا ایک بہترین موقع بھی ہے۔ شائقین کرکٹ اس تاریخی مقابلے کے منتظر ہیں، جہاں سفید لباس میں ملبوس کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کی اصل روح کو زندہ کریں گے۔
