Bangladesh Cricket

“I knew he would play for Bangladesh” – Ashraful shares untold stories about Nah – I knew he would play for Bangladesh” – Ashraful shares untold stories about Nahid Rana

Snehe Roy · · 1 min read
Share

ناہید رانا کا کرکٹ کا سفر: محمد اشرفل کی نظر سے

بنگلہ دیش کے سابق کپتان اور بلے بازی کے کوچ محمد اشرفل نے ابھرتے ہوئے فاسٹ باؤلر ناہید رانا کے بارے میں کئی ان کہی کہانیاں شیئر کی ہیں۔ اشرفل کا ماننا ہے کہ انہوں نے ناہید کو پہلی بار دیکھتے ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ نوجوان کھلاڑی ایک دن قومی ٹیم کی نمائندگی ضرور کرے گا۔

پہلی ملاقات اور متاثر کن رفتار

بی ڈی کرکٹ ٹائم سے گفتگو کرتے ہوئے اشرفل نے یاد کیا کہ جب انہوں نے ناہید کا سامنا ان کے ڈومیسٹک ڈیبیو میچ میں کیا تھا۔ اشرفل نے کہا، “میں نے پہلی بار ناہید رانا کو کاکس بازار میں دیکھا جب وہ باریشال کے خلاف ڈیبیو کر رہے تھے۔ میں اوپننگ کر رہا تھا اور میں نے اس دن ان کا سامنا کیا۔ میچ کے بعد ہم ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے تھے، تو میں نے انہیں اپنے کمرے میں بلایا۔ بات چیت کے دوران مجھے پتہ چلا کہ وہ انڈر 19 کے 45 کھلاڑیوں کے ابتدائی اسکواڈ میں بھی شامل نہیں تھے۔ یہ سن کر مجھے بہت حیرانی ہوئی۔”

اشرفل کے مطابق ناہید کی رفتار شروع ہی سے منفرد تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حسن محمود جیسے تیز گیند بازوں کی موجودگی کے باوجود، ناہید ان سب سے زیادہ تیز نظر آتے تھے۔ سابق کپتان نے فوری طور پر انڈر 19 سلیکٹرز سے رابطہ کیا تاکہ اس ہیرے کی شناخت ہو سکے۔

ڈسپلن اور عاجزی کی مثال

قومی ٹیم کے سیٹ اپ میں گزشتہ سات ماہ سے ناہید کے ساتھ کام کرنے کے بعد، اشرفل ان کے کردار سے بے حد متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا، “اتنی کم عمری میں اتنی ڈسپلن دیکھنا بہت نایاب ہے۔ میں خود بھی بہت چھوٹی عمر میں بنگلہ دیش ٹیم میں آیا تھا، اس لیے میں جانتا ہوں کہ یہ کتنا مشکل ہوتا ہے۔”

اشرفل نے بتایا کہ کامیابی کے باوجود ناہید کی عاجزی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ روزانہ فجر کی نماز کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کرتے ہیں اور پانچوں وقت کی نمازوں کے پابند ہیں۔

فٹنس کے لیے دیوانگی

ناہید رانا کی فٹنس کے حوالے سے اشرفل نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا: “پی ایس ایل کا فائنل کھیلنے کے بعد جب وہ ہوٹل واپس آئے، تو اپنا سامان رکھا اور سیدھے رات کو سوئمنگ پول چلے گئے۔ وہاں انہوں نے آدھے گھنٹے تک تیراکی کی۔ فٹنس کے لیے ان کی یہ لگن دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا۔”

مشکلات اور کامیابی کا سفر

سابق کپتان نے بتایا کہ ناہید کا کیریئر آسان نہیں رہا۔ انہیں ماضی میں ٹانگ کی انجری جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اپنی ری ہیبلیٹیشن اور سخت محنت سے انہوں نے خود کو ثابت کیا۔ اشرفل نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایک بار کرکٹ چھوڑنے کے بارے میں سوچ چکے تھے، لیکن ناکامیوں نے انہیں مضبوط بنایا۔

رنگپور رائیڈرز کے ساتھ بی پی ایل کے دو سیزن میں بھی اشرفل نے ناہید کی سنجیدگی کو قریب سے دیکھا ہے۔ آج ناہید رانا نہ صرف بنگلہ دیشی ٹیم کا اہم حصہ ہیں بلکہ وہ ہر فارمیٹ میں اپنی رفتار اور مستقل مزاجی سے دنیا کو حیران کر رہے ہیں۔ محمد اشرفل کا ناہید پر یہ یقین کہ “وہ ایک دن بنگلہ دیش کے لیے کھیلیں گے”، اب ایک حقیقت بن کر سامنے آ چکا ہے، اور یہ نوجوان فاسٹ باؤلر بنگلہ دیشی کرکٹ کا ایک تابناک مستقبل ثابت ہو رہا ہے۔

اشرفل کی یہ بصیرت ثابت کرتی ہے کہ ایک کھلاڑی کی کامیابی میں صرف اس کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ اس کا ڈسپلن اور عاجزی بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ناہید رانا کی کہانی ان تمام نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو سخت محنت اور مستقل مزاجی پر یقین رکھتے ہیں۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.