News

Ashwin: Suryakumar’s axing will set precedent for future selection calls

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

کرکٹ میں سلیکشن کے نئے معیارات: آر اشون کی تشویش

بھارتی کرکٹ ٹیم کے تجربہ کار اسپنر آر اشون نے سوریہ کمار یادیو کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے فیصلے پر کھل کر بات کی ہے۔ اشون کا ماننا ہے کہ Ashwin: Suryakumar’s axing will set precedent for future selection calls اور اس قسم کے فیصلے مستقبل میں بھارتی ٹیم کی سلیکشن پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ سوریہ کمار یادیو، جنہوں نے حال ہی میں اپنی قیادت میں بھارت کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فاتح بنایا، انہیں اس طرح ٹیم سے باہر کرنا کئی حلقوں میں حیران کن سمجھا جا رہا ہے۔

سوریہ کمار یادیو کا موقف اور کارکردگی

آر اشون نے اس معاملے کو گہرائی سے دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو سوریہ کمار یادیو کی جگہ رکھ کر سوچ رہے ہیں۔ اگرچہ سوریہ کی حالیہ فارم کچھ عرصے سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے، لیکن ورلڈ کپ جیتنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اشون کے مطابق، ایک ایسا کپتان جس نے ملک کو عالمی ٹائٹل جتوایا ہو، اسے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ٹیم سے نکال دینا کرکٹ کے اخلاقیات کے منافی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا حق بنتا ہے کہ وہ اس طرح کے فیصلوں پر مایوسی کا اظہار کریں۔

سلیکشن کا نیا رجحان

آر اشون نے مزید کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے کیونکہ اس قسم کی سختی مستقبل میں ایک مثال کے طور پر استعمال ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان کو بغیر کسی وجہ کے ٹیم سے الگ کر دیا گیا ہو؟ اگرچہ بورڈ کی جانب سے رابطے کا امکان موجود ہے، لیکن یہ اقدام سلیکشن کے عمل میں ایک نیا معیار طے کر رہا ہے جو دیگر بڑے کھلاڑیوں کے لیے بھی پریشان کن ہو سکتا ہے۔

شریاس آئیر کی واپسی اور کپتانی کا چیلنج

سوریہ کمار یادیو کی جگہ شریاس آئیر کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جو دو سال سے زائد عرصے سے ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے باہر تھے۔ شریاس نے آئی پی ایل میں بطور کپتان شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں کے کے آر کو ٹائٹل جتوانا شامل ہے۔ تاہم، آر اشون کا ماننا ہے کہ شریاس کے لیے براہ راست کپتان کے طور پر ٹیم میں آنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

ٹیم ایتھوس اور نائب کپتان کا کردار

اشون نے ٹیم کے اندرونی معاملات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے دیگر کھلاڑی یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی جگہ کسی باہر سے آنے والے کھلاڑی کو کپتان بنایا جا رہا ہے، تو یہ ٹیم کے ماحول کو متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر اکشر پٹیل کا ذکر کرتے ہوئے اشون نے کہا کہ اگر ایک نائب کپتان کو اگلی قیادت کے لیے تیار نہیں کیا جا سکتا، تو پھر یہ پورا نظام دوبارہ سوالوں کے گھیرے میں آ جاتا ہے۔ ٹیم کے اندر ایک خاص ایتھوس اور باہمی احترام کا ہونا ضروری ہے تاکہ کھلاڑیوں کے حوصلے بلند رہ سکیں۔

نتیجہ

مجموعی طور پر، آر اشون کی یہ تنقید صرف ایک کھلاڑی کے حق میں نہیں بلکہ سلیکشن کے شفاف اور منصفانہ عمل کے مطالبے پر مبنی ہے۔ جب بھی کوئی بڑی تبدیلی ہوتی ہے، اس کا اثر ٹیم کی طویل مدتی حکمت عملی پر پڑتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ بھارتی سلیکٹرز مستقبل میں ان خدشات کو کیسے دور کرتے ہیں اور کیا شریاس آئیر کی قیادت واقعی ٹیم کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگی یا یہ فیصلہ مزید بحث کو جنم دے گا۔