News

Cricket Victoria apply to trademark Melbourne Rangers name

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

بی بی ایل میں نئی تبدیلی: رینجرز کا نام منظرِ عام پر

آسٹریلین کرکٹ کے منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ میلبورن سٹارز کی ٹیم کے لیے ایک نئے نام کی تلاش جاری ہے، اور اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ‘میلبورن رینجرز’ اس فہرست میں سب سے آگے ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ، Cricket Victoria apply to trademark Melbourne Rangers name کی خبروں نے شائقین اور کرکٹ ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ قدم بی بی ایل (BBL) کی نجکاری کے عمل کے دوران ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹریڈ مارک کی درخواست اور قانونی حیثیت

کرکٹ وکٹوریہ (CV) نے باضابطہ طور پر ‘رینجرز’ نام کے ٹریڈ مارک کے لیے آئی پی آسٹریلیا (IP Australia) میں درخواست جمع کروا دی ہے۔ یہ سرکاری دستاویزات 4 جون کو جمع کرائی گئیں، جو کہ سٹارز اور میلبورن رینیگیڈز کے انضمام کی خبروں کے دو دن بعد کی بات ہے۔ فی الحال، یہ درخواست ‘امتحان کے لیے منتظر’ ہے اور 3 ستمبر تک اس پر جواب متوقع ہے۔ یہ ٹریڈ مارک نہ صرف ٹیم کے نام کے لیے ہے بلکہ اس میں ٹیم کی کٹ، برانڈڈ مواد، ڈیجیٹل ایپس اور دیگر کاروباری استعمال بھی شامل ہوں گے۔

نام کا انتخاب: ماضی کی یادیں اور مستقبل کی حکمت عملی

رینجرز کا نام دراصل وکٹوریہ کی ریاستی کرکٹ ٹیم کے پرانے نام ‘بُش رینجرز’ (Bushrangers) سے متاثر ہے، جسے 2018 میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ اس نام کو دوبارہ لانے پر غور کیا گیا تھا، لیکن کرکٹ وکٹوریہ کو خدشہ تھا کہ یہ نام ڈبلیو بی بی ایل (WBBL) کی ٹیم کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہوگا۔ اب یہ طے پایا ہے کہ نئی ٹیم وکٹوریہ کے روایتی نیوی بلیو رنگوں میں میدان میں اترے گی۔ ‘میجک’ (Magic) اور ‘بلیزرز’ (Blazers) جیسے دیگر نام بھی زیرِ غور رہے، لیکن رینجرز کو فوقیت حاصل دکھائی دیتی ہے۔

نجکاری کا عمل اور ٹیموں کا مستقبل

میلبورن کی دونوں ٹیموں کے انضمام کے فیصلے نے آسٹریلین کرکٹ میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ کرکٹ وکٹوریہ کا ماننا ہے کہ ایک مکمل ری برانڈنگ وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ رینیگیڈز کے شائقین شاید سٹارز کی موجودہ شناخت کو قبول نہ کریں۔ ایک ‘وکٹوریہ سینٹرک’ ٹیم بنانے سے شائقین کی حمایت حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

چیلنجز اور انتظامی فیصلے

اس پوری صورتحال میں انتظامی سطح پر کافی تناؤ دیکھا گیا ہے۔ کرکٹ وکٹوریہ کے سی ای او، نک کمنز نے اپنے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غیر یقینی صورتحال میں اپنے عملے کے مفادات کو ترجیح دے رہے تھے۔ دریں اثنا، کرکٹ آسٹریلیا (CA) کو دیگر ریاستوں کی جانب سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ ان منصوبوں کے بارے میں انہیں کتنی آگاہی تھی۔

آئندہ آنے والے دنوں میں میلبورن میں ریاستی سی ای اوز کی اہم میٹنگز متوقع ہیں۔ 15 جون کی تاریخ انتہائی اہم ہے، جب بورڈ کے چیئرمین یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ان ریاستوں کو بی بی ایل ٹیموں میں سرمایہ کاری تلاش کرنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔ نیو ساؤتھ ویلز کے تحفظات کے بعد، کرکٹ آسٹریلیا اب ایک ایسے ماڈل پر کام کر رہا ہے جہاں ہر ریاست کو اپنی حکمت عملی خود طے کرنے کا اختیار حاصل ہو۔

نتیجہ

بی بی ایل کے مستقبل کا انحصار اب ان فیصلوں پر ہے جو آنے والے چند ہفتوں میں کیے جائیں گے۔ میلبورن رینجرز کا قیام صرف ایک نام کی تبدیلی نہیں، بلکہ آسٹریلین کرکٹ کی کمرشل سمت کا تعین کرنے کی ایک کوشش ہے۔ شائقین کے لیے یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ نیا برانڈ میدان میں اپنی پرانی ٹیموں کی طرح مقبولیت حاصل کر پاتا ہے یا نہیں۔