India march ahead despite Saleem’s strikes, Pant misses out on century – انڈین کرکٹ ٹیم کی مستحکم پوزیشن
چنڈی گڑھ کے نئے اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے اس اہم مقابلے کا دوسرا دن دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی سنسنی خیز ثابت ہوا۔ بھارتی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز کو آگے بڑھاتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا، لیکن افغان باؤلر محمد سلیم کی شاندار باؤلنگ نے ہندوستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کے باوجود، ہندوستانی ٹیم نے دوسرے دن کے پہلے سیشن کے اختتام تک 6 وکٹوں کے نقصان پر 475 رنز بنا کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ پہلے سیشن کے اختتام پر واشنگٹن سندر 14 اور اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے مانو سوتھر 9 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود تھے۔
افغانستان کا نئی گیند کے ساتھ شاندار آغاز
دوسرے دن کے کھیل کا آغاز افغانستان کے لیے انتہائی امید افزا رہا۔ افغان ٹیم نے کھیل کے دوسرے ہی اوور میں نئی گیند لینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد انہیں فوری طور پر سوئنگ اور سیم کی مدد ملنا شروع ہو گئی۔ عظمت اللہ عمرزئی نے نئی گیند کا بہترین استعمال کیا اور بھارتی بلے بازوں کو کافی حد تک پریشان کیا۔ انہوں نے اپنے اسپیل کے دوران شبمن گل کو لیگ اسٹمپ کے سامنے ایل بی ڈبلیو کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اگلی ہی گیند پر رشبھ پنت کے بلے کا باہری کنارہ بھی لیا جو وکٹ کیپر کے ہاتھوں میں گیا۔ تاہم، امپائر نے دونوں بار آؤٹ دینے سے انکار کر دیا اور حیران کن طور پر افغانستان نے ریویو دستیاب ہونے کے باوجود ریویو نہیں لیا، جو بعد میں ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
رشبھ پنت اور شبمن گل کی جارحانہ بیٹنگ
رشبھ پنت نے ہمیشہ کی طرح اپنے روایتی اور جارحانہ انداز میں بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ ضیاء الرحمن کے خلاف ایک میڈن اوور کھیلنے کے بعد پنت نے اگلی ہی گیندوں پر قدموں کا استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھ کر دو شاندار چوکے لگائے۔ دوسری جانب شبمن گل نے بھی بہترین شاٹس کھیلے اور خوبصورت کٹ شاٹ کے ذریعے بھارت کا اسکور 400 رنز تک پہنچا دیا۔ گل نے محمد سلیم کے اوور میں دو مزید چوکے لگا کر اپنے ارادے ظاہر کیے۔ محمد سلیم نے شروع میں کچھ شارٹ اور فل لینتھ گیندیں پھینکیں جن پر بھارتی بلے بازوں نے آسانی سے رنز بنائے۔
محمد سلیم کی شاندار واپسی اور وکٹیں
محمد سلیم نے رنز کھانے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنے لائن اور لینتھ پر توجہ مرکوز رکھی۔ کھیل کے 96 ویں اوور میں انہوں نے اپنی گیند کی لمبائی کو تھوڑا پیچھے کھینچا جس کا صلہ انہیں شبمن گل کی وکٹ کی صورت میں ملا۔ شبمن گل گیند کو کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کو کیچ دے بیٹھے۔ وہ اپنے گزشتہ روز کے اسکور میں صرف 23 رنز کا اضافہ کر سکے اور پویلین لوٹ گئے۔ اپنے اگلے ہی اوور میں سلیم نے رشبھ پنت کو بھی آؤٹ کرنے کا موقع پیدا کیا لیکن گیند بال بال بچ گئی۔
اس کے بعد دھرو جوریل کریز پر آئے اور انہوں نے آتے ہی جارحانہ شاٹس کھیلے۔ جوریل کے ایک خوبصورت پل شاٹ کے ذریعے بھارت نے اپنے 450 رنز مکمل کیے۔ لیکن اگلی ہی گیند پر محمد سلیم نے ایک بہترین ان سوئنگر پھینکی جس پر جوریل نے گیند کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا، مگر گیند ان کی آف اسٹمپ کے اوپری حصے کو اڑا لے گئی۔ محمد سلیم نے صبح کے سیشن میں 7 اوورز کرائے اور اگرچہ وہ 42 رنز دے کر تھوڑے مہنگے ثابت ہوئے، لیکن انہوں نے دو اہم سیٹ بلے بازوں کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو میچ میں واپس لانے کی کوشش کی۔
رشبھ پنت کی سنچری سے محرومی
رشبھ پنت ایک اینڈ پر مضبوطی سے کھڑے رہے لیکن 101 ویں اوور میں سستی رننگ کی وجہ سے وہ رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچ گئے۔ تاہم، ان کی یہ خوش یقیناً زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ دو اوورز کے بعد جب میچ میں پہلی بار اسپن باؤلنگ کو متعارف کروایا گیا تو پنت نے اسپنر کے خلاف بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش کی۔ وہ گیند کو باؤنڈری لائن سے باہر بھیجنے کی کوشش میں لانگ آف پر کھڑے فیلڈر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ پنت بدقسمتی سے صرف 81 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور ایک شاندار سنچری بنانے کا موقع گنوا بیٹھے۔ ان کے آؤٹ ہونے پر گراؤنڈ میں موجود تماشائی بھی افسردہ نظر آئے۔
مانو سوتھر اور واشنگٹن سندر کی مزاحمت
رشبھ پنت کے آؤٹ ہونے کے بعد اپنا پہلا میچ کھیلنے والے مانو سوتھر کریز پر آئے۔ حشمت اللہ شاہدی کی گیند پر ان کا ایک شاٹ مس ٹائم ہوا اور مڈ آن کے قریب سے ہوا میں اڑتا ہوا نکل گیا لیکن وہاں کوئی فیلڈر موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچ گئے۔ اس کے علاوہ سوتھر نے انتہائی پراعتماد بیٹنگ کی اور واشنگٹن سندر کے ساتھ مل کر لنچ تک مزید کوئی وکٹ گرنے نہیں دی۔ دونوں کھلاڑیوں نے سیشن کے اختتام تک بھارتی اسکور کو 475 رنز تک پہنچایا۔
سیشن کا مجموعی جائزہ اور اگلے سیشن کی حکمت عملی
بھارتی ٹیم نے اس سیشن میں 25 اوورز کھیل کر 4.28 کے بہترین رن ریٹ سے 107 رنز بنائے۔ اگرچہ انہوں نے تین اہم وکٹیں کھوئیں، لیکن اسکور بورڈ پر رنز کی بڑی تعداد نے انہیں ایک مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ افغانستان کی جانب سے محمد سلیم اب تک 109 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں اور وہ افغان باؤلنگ لائن کے سب سے کامیاب باؤلر ثابت ہوئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بھارتی آل راؤنڈرز واشنگٹن سندر اور مانو سوتھر آنے والے سیشن میں اس اسکور کو کہاں تک لے کر جاتے ہیں اور کیا افغانستان بقیہ چار وکٹیں جلد حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔
