Bangladesh Cricket

Tamim tops BCB Election voting as 12 directors elected from club representatives

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کے انتخابات کا پس منظر

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کے انتخابات ملکی کرکٹ کی تاریخ اور اس کے مستقبل کی سمت کا تعین کرنے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ 7 جون کو منعقد ہونے والے بورڈ کے ان انتخابات کا کرکٹ کے حلقوں میں بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس انتخابی عمل کا بنیادی مقصد بورڈ کے نئے ڈائریکٹرز کا انتخاب کرنا تھا جو اگلے چند برسوں تک بنگلہ دیش میں کرکٹ کے معاملات کو چلانے اور اس کی ترقی کے لیے پالیسیاں مرتب کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان انتخابات میں شفافیت اور سخت مقابلے کی فضا نے ملک بھر کے کرکٹ شائقین اور ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائے رکھی۔

کیٹیگری 2: ڈھاکہ کلب کرکٹ کا ڈھانچہ اور اہمیت

بی سی بی کے انتخابی ڈھانچے میں کیٹیگری 2 کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ یہ کیٹیگری ڈھاکہ کے کلب کرکٹ ڈھانچے کی نمائندگی کرتی ہے، جسے بنگلہ دیشی کرکٹ کی نرسری اور ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے۔ ڈھاکہ کلب کرکٹ سے ہی ملک کو بہترین ٹیلنٹ میسر آتا ہے۔ اس سال کیٹیگری 2 کے تحت ڈائریکٹرز کی 12 نشستیں خالی تھیں جن پر انتخاب ہونا تھا۔ ان 12 نشستوں کے لیے کل 16 امیدوار میدان میں اترے، جس کی وجہ سے یہ زمرہ بی سی بی پولز میں سب سے زیادہ مسابقتی اور سنسنی خیز زمرہ بن کر ابھرا۔ ہر امیدوار کی کوشش تھی کہ وہ کلب نمائندوں کا اعتماد حاصل کر کے بورڈ میں اپنی جگہ پکی کر سکے۔

تمیم اقبال کی تاریخی کامیابی اور ووٹوں کی تفصیلات

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز اوپنر تمیم اقبال نے اس بار میدان سے باہر بھی اپنی مقبولیت کا لوہا منوا لیا ہے۔ تمیم اقبال نے کیٹیگری 2 کے انتخابات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سب سے زیادہ 73 ووٹ حاصل کیے۔ ان کی اس شاندار کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ کرکٹ کے انتظامی امور میں بھی ان کی قیادت پر کلب نمائندوں کو بھرپور اعتماد ہے۔ تمیم اقبال کی بورڈ میں شمولیت سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ کھلاڑیوں کے مسائل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اپنے تجربے کا بہترین استعمال کریں گے۔

منتخب ہونے والے دیگر 11 ڈائریکٹرز کا جائزہ

تمیم اقبال کے علاوہ دیگر 11 امیدوار بھی کامیابی حاصل کر کے بی سی بی کے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ بننے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان میں سعید ابراہیم احمد اور اسرافیل خسرو نمایاں رہے جنہوں نے بالترتیب 72، 72 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے بعد مسعود الزماں نے 70 ووٹ لے کر اپنی پوزیشن مستحکم کی جبکہ فیصل یاسر 68 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

کامیاب ہونے والے دیگر امیدواروں میں فہیم سنہا اور شانیاں تنیم شامل ہیں جنہوں نے 66، 66 ووٹ حاصل کیے۔ ثاقب احمد نے 65 ووٹ، آصف ربانی نے 64 ووٹ، مرزا یاسر عباس نے 63 ووٹ، رفیق الاسلام بابو نے 53 ووٹ اور پروفیسر ڈاکٹر سرکار محبوب احمد شمیم نے 41 ووٹ حاصل کر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اپنی نشستیں محفوظ کیں۔ ان تمام نو منتخب اراکین پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں کرکٹ کے معیار کو مزید بلند کریں۔

کیٹیگری 2 کے انتخابی نتائج کا تفصیلی جدول

ذیل میں کیٹیگری 2 کے انتخابات میں حصہ لینے والے کامیاب امیدواروں اور ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں:

امیدوار (Candidate) حاصل کردہ ووٹ (Votes)
Tamim Iqbal 73
Sayeed Ibrahim Ahmed 72
Israfil Khosru 72
Masuduzzaman 70
Yasir Mohammed Foysal Ashik 68
Fahim Sinha 66
Shanian Taneem 66
Sakif Ahmed Salam 65
Asif Rabbani 64
Mirza Yasser Abbas 63
Rafiqul Islam Babu 53
Professor Dr Sarkar Mahbub Ahmed Shamim 41

انتخابات میں ناکام رہنے والے امیدوار

چونکہ کیٹیگری 2 میں صرف 12 نشستیں دستیاب تھیں، اس لیے میدان میں موجود 16 امیدواروں میں سے 4 امیدوار مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور بورڈ کا حصہ نہ بن سکے۔ ناکام ہونے والے امیدواروں میں سید برہان الدین حسین شامل ہیں جو انتہائی معمولی فرق سے پیچھے رہ گئے اور صرف 40 ووٹ حاصل کر سکے۔ ان کے علاوہ امجد حسین نے 32 ووٹ، فیاض الرحمن نے 23 ووٹ جبکہ میجر (ریٹائرڈ) امروز احمد نے محض 20 ووٹ حاصل کیے اور وہ بورڈ کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔ اگرچہ یہ امیدوار کامیابی حاصل نہ کر سکے، لیکن ان کی شرکت نے انتخابی عمل کو انتہائی مسابقتی اور شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بنگلہ دیشی کرکٹ کے مستقبل پر اثرات

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ان انتخابات کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اب بورڈ میں نئے اور پرجوش چہروں کی آمد ہو چکی ہے۔ تمیم اقبال جیسے تجربہ کار کرکٹر کی قیادت اور کلب نمائندوں کی جانب سے منتخب کردہ نئے ڈائریکٹرز کی موجودگی سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ڈھاکہ کلب کرکٹ اور مجموعی طور پر ملکی ڈومیسٹک کرکٹ میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ شائقین کرکٹ کو امید ہے کہ یہ نئی انتظامیہ بنگلہ دیشی کرکٹ کو عالمی سطح پر مزید نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے دن رات کام کرے گی اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین مواقع فراہم کرے گی۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.