Report

Australia bowlers close out T20I series after Renshaw stars with 89*

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

آسٹریلیا کی شاندار فتح اور سیریز پر قبضہ

چٹاگانگ کے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں آسٹریلوی ٹیم نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان بنگلہ دیش کو سات رنز سے شکست دے دی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی آسٹریلیا نے تین میچوں کی سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ جیت آسٹریلوی ٹیم کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ انہیں ڈھاکہ میں ہونے والی ون ڈے سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور اب ٹی ٹوئنٹی سیریز میں واپسی نے ٹیم کے مورال کو بلند کر دیا ہے۔

میٹ رینشا کی شاندار بیٹنگ

آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز کچھ خاص نہیں رہا تھا اور ٹیم نے پاور پلے کے دوران ہی تین اہم وکٹیں گنوا دی تھیں۔ تاہم، اس نازک صورتحال میں میٹ رینشا نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ رینشا نے ناقابل شکست 89 رنز بنائے، جس میں ان کے شاندار اسٹروکس شامل تھے۔ ان کا ساتھ ٹم ڈیوڈ نے دیا، جنہوں نے صرف 26 گیندوں پر 45 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر رینشا کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 97 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ اس شراکت داری نے آسٹریلیا کو 197 رنز کے مستحکم مجموعے تک پہنچانے میں مدد کی۔

بنگلہ دیشی باؤلرز کی مزاحمت

جواب میں بنگلہ دیشی ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں بھرپور کوشش کی۔ بنگلہ دیشی باؤلرز میں نسیم احمد سب سے کامیاب رہے جنہوں نے 27 رنز کے عوض دو وکٹیں حاصل کیں۔ بنگلہ دیشی بلے بازوں نے بھی میچ میں بننے رہنے کی کوشش کی، خاص طور پر سیف حسن نے 42 رنز بنا کر ٹیم کو سہارا دیا۔ 13ویں اوور تک بنگلہ دیش کا اسکور 2 وکٹوں پر 130 رنز تھا، جس سے ایسا لگ رہا تھا کہ میزبان ٹیم ہدف تک پہنچ سکتی ہے، لیکن آسٹریلوی باؤلرز نے آخری اوورز میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔

آسٹریلوی باؤلنگ کا کلیدی کردار

میچ کے آخری لمحات میں ناتھن ایلس کی باؤلنگ خاص طور پر قابل ذکر رہی۔ آسٹریلوی باؤلرز نے دباؤ کے باوجود بنگلہ دیشی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم 189 رنز پر ہی محدود رہی اور یوں آسٹریلیا نے سات رنز سے یہ مقابلہ جیت لیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 2021 میں آسٹریلیا کو بنگلہ دیش کے دورے پر ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 4-1 سے شکست ہوئی تھی، اس لیے یہ سیریز جیت آسٹریلیا کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

مستقبل کی توقعات

اس میچ نے ثابت کیا کہ آسٹریلوی ٹیم کسی بھی مشکل صورتحال سے نکل کر میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی اپنی بھرپور مزاحمت کی لیکن آسٹریلیا کا تجربہ اور رینشا کی کلاسیک بیٹنگ ان پر بھاری پڑی۔ سیریز کا آخری میچ اب محض رسمی کارروائی کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، تاہم دونوں ٹیمیں اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ سیریز کافی دلچسپ رہی ہے، اور آنے والے میچوں میں بھی اسی طرح کے سخت مقابلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • آسٹریلیا: 197/5 (20 اوورز)
  • بنگلہ دیش: 189/6 (20 اوورز)
  • مین آف دی میچ: میٹ رینشا