News

Ryan ten Doeschate impressed with India’s pool of allrounders کے خیالات

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

بھارتی کرکٹ میں آل راؤنڈرز کا مستقبل

بھارتی کرکٹ ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ Ryan ten Doeschate نے حال ہی میں ٹیم کے آل راؤنڈرز کے پول پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ٹیم مینجمنٹ اس وقت 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کو نکھارنے اور پرانے کھلاڑیوں کی فارم کو بحال کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ افغانستان کے خلاف موجودہ سیریز میں ہاردک پانڈیا کی عدم موجودگی میں بھی ٹیم نے نئے کھلاڑیوں جیسے ہرش ڈوبے اور ہرشت رانا کو موقع دے کر اپنے بینچ اسٹرینتھ کی گہرائی کو ثابت کیا ہے۔

آل راؤنڈرز کی اہمیت اور ہاردک پانڈیا کا متبادل

ٹین ڈوشاٹے کا ماننا ہے کہ ٹیم میں موجود زیادہ تر کھلاڑی ‘بولنگ آل راؤنڈرز’ ہیں، لیکن ہاردک پانڈیا کی مہارتیں ایک الگ درجہ رکھتی ہیں۔ ہاردک ایک بہترین بلے باز اور فنشر کے ساتھ ساتھ بولنگ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، نیتش کمار ریڈی جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے۔ ٹین ڈوشاٹے کے مطابق، نیتش گزشتہ 18 ماہ سے مسلسل بہتری لا رہے ہیں اور وہ ہاردک پانڈیا کے قدرتی متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔

مزید برآں، ٹیم مینجمنٹ کا مقصد ایسے کھلاڑی تیار کرنا ہے جو نمبر 9 پوزیشن تک بیٹنگ کر سکیں۔ خاص طور پر جنوبی افریقہ کے آئندہ دوروں کے لیے، جہاں تین تیز گیند بازوں کے ساتھ ٹیم میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا، ایسے آل راؤنڈرز کی موجودگی ٹیم کے لیے کلیدی ثابت ہوگی۔

کلدیپ یادو کی فارم پر وضاحت

کولدیپ یادو کی حالیہ کارکردگی پر جاری بحث کے حوالے سے ٹین ڈوشاٹے نے کسی بھی قسم کے خدشات کو مسترد کر دیا ہے۔ آئی پی ایل میں مشکل وقت گزارنے کے باوجود، کوچ کا ماننا ہے کہ کولدیپ کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑی کو دوبارہ فارم میں لانے کے لیے نئے اسپن کوچ سائیراج بہوتولے کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

ٹین ڈوشاٹے نے واضح کیا کہ ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے سب کو مقابلہ کرنا ہوگا، اور یہ عمل ٹیم کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ کولدیپ یادو کے پاس تجربہ ہے، اور ٹیم مینجمنٹ کا کام انہیں مزید چیلنج کر کے ان کی بہترین کارکردگی کو سامنے لانا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی

بھارتی ٹیم انتظامیہ کا ماننا ہے کہ جدید کرکٹ میں اسپنرز کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ بلے باز اسپن کے خلاف زیادہ جارحانہ کھیل پیش کر رہے ہیں۔ اس لیے، حکمت عملی اور نئے آئیڈیاز پر کام کرنا ناگزیر ہے۔ پرنس یادو، گرنور برار اور اوقیب نبی جیسے نوجوان گیند بازوں کی شمولیت سے ٹیم کا اسپن اور فاسٹ بولنگ ڈپارٹمنٹ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

مختصراً، بھارت کے پاس اب ایک ایسا پول موجود ہے جو نہ صرف موجودہ سیریز کے لیے بلکہ طویل مدتی منصوبوں کے لیے بھی کارآمد ہے۔ ٹیم کا زور اب صرف جیتنے پر نہیں بلکہ ہر پوزیشن کے لیے متبادل تیار کرنے پر ہے، تاکہ 2027 کے ورلڈ کپ تک ایک ناقابل شکست اسکواڈ تیار کیا جا سکے۔ ٹین ڈوشاٹے کی یہ بصیرت ثابت کرتی ہے کہ بھارتی کرکٹ مستقبل کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہے۔