Renshaw: ‘Nice to realise that I’m good enough at T20Is’ اور آسٹریلیا کی شاندار کامیابی
آسٹریلیا کی بنگلہ دیش کے خلاف شاندار واپسی
بنگلہ دیش کے دورے پر آسٹریلوی ٹیم کے لیے حالات کافی مشکل رہے، خاص طور پر ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد ٹیم دباؤ کا شکار تھی۔ تاہم، ٹی ٹوئنٹی سیریز میں آسٹریلیا نے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرتے ہوئے 0-2 کی برتری حاصل کر لی ہے۔ مچل مارش کی جانب سے پرویز حسین ایمون اور سیف حسن کے کیچز لینے کے بعد آسٹریلوی ٹیم کا جارحانہ انداز کھل کر سامنے آیا، جس نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
میٹ رینشا کی شاندار اننگز
آسٹریلیا کی اس کامیابی میں مرکزی کردار میٹ رینشا کا رہا، جنہوں نے ناقابل شکست 89 رنز بنا کر ٹیم کو ایک مستحکم پوزیشن میں پہنچایا۔ رینشا نے اپنی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ Renshaw: ‘Nice to realise that I’m good enough at T20Is’۔ رینشا نے تسلیم کیا کہ ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد ٹیم تھوڑا مایوس تھی، لیکن ٹی ٹوئنٹی میچوں میں انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور بہتر کھیل پیش کیا۔
اپنی جلد میں آرام دہ محسوس کرنا
اپنی اننگز کے بارے میں بات کرتے ہوئے رینشا کا کہنا تھا کہ ان کا بین الاقوامی کیریئر مختلف فارمیٹس کی وجہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “آج کی اننگز میرے لیے بہت اہم تھی کیونکہ میں نے خود کو پرسکون رکھا اور اپنی قدرتی گیم کھیلی۔ یہ میرے ٹی ٹوئنٹی کیریئر کی بہترین شروعاتوں میں سے ایک تھی۔” رینشا نے مزید کہا کہ جب آپ ٹیم سے اندر اور باہر ہوتے رہتے ہیں تو خود پر شکوک پیدا ہونا فطری بات ہے، لیکن اس اننگز نے ان کا اعتماد بحال کیا ہے۔
ٹم ڈیوڈ کا جارحانہ ساتھ
رینشا کی اس اننگز میں ٹم ڈیوڈ نے 26 گیندوں پر 45 رنز بنا کر بہترین تعاون فراہم کیا۔ رینشا نے بتایا کہ ان کے درمیان کوئی خاص پلان نہیں تھا، بلکہ ٹم ڈیوڈ اپنی نیچرل گیم کھیل رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے میچ کے دوران اچھی کمیونیکیشن رکھی اور یہ طے کیا کہ کن بولرز پر حملہ کرنا ہے اور کس طرح اسکور بورڈ کو چلتا رکھنا ہے۔
بولنگ میں غیر متوقع کامیابی
اس دورے پر رینشا کی ایک اور پہلو سے تعریف کی جا رہی ہے، اور وہ ہے ان کی پارٹ ٹائم آف اسپن بولنگ۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اب تک آسٹریلیا کی جانب سے سب سے زیادہ آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں۔ رینشا مذاق میں کہتے ہیں، “بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی جانب سے میری بولنگ پر تنقید سننے کو ملی تھی، لیکن میں اپنی بولنگ کو ایک بلے باز کے نقطہ نظر سے دیکھتا ہوں کہ اگلا بلے باز کیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
ڈیتھ اوورز میں آسٹریلیا کا غلبہ
آسٹریلیا کی اس جیت میں ایڈم زیمپا، ناتھن ایلس اور ایرون ہارڈے کی بولنگ بھی اہم رہی، جنہوں نے آخری پانچ اوورز میں بنگلہ دیش کو قابو میں رکھا۔ خاص طور پر ناتھن ایلس کی ڈیتھ اوورز میں بولنگ کی رینشا نے بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایلس اپنی سلو بالز کا بہترین استعمال کرتے ہیں اور بلے بازوں کو آسانی سے پڑھنے نہیں دیتے۔
آسٹریلیا کی یہ جیت ثابت کرتی ہے کہ ٹیم دباؤ کے لمحات میں کس طرح واپسی کرنا جانتی ہے۔ رینشا کی فارم اور بولنگ میں توازن ٹیم کے لیے آئندہ میچوں میں بھی خوش آئند ثابت ہوگا۔
