Devine misses Ireland clash because of illness, New Zealand pick Bates
نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ کا اہم ٹکراؤ
ساؤتھمپٹن کے دھوپ میں نہائے سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس اہم میچ میں آئرلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دفاعی چیمپئن نیوزی لینڈ کی ٹیم اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ وہ اپنے افتتاحی دونوں میچ ہار چکی ہے۔ آج کے میچ میں نیوزی لینڈ کے لیے سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ کپتان صوفی ڈیوائن بیماری کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہیں ہیں، جس کے بعد ان کی جگہ سوزی بیٹس کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
نیوزی لینڈ کی مشکلات اور حکمت عملی
نیوزی لینڈ کے لیے یہ میچ ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلسل شکستوں اور ناقص فیلڈنگ کے بعد ٹیم انتظامیہ پر شدید دباؤ ہے۔ کپتان میلی کیر نے میچ سے قبل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو بیٹنگ اور باؤلنگ میں بہتری کی ضرورت ہے، لیکن سب سے اہم شعبہ فیلڈنگ ہے جس میں انہیں اپنی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنانا ہوگا۔ میلی کیر نے کہا کہ وہ ٹاس ہارنے پر زیادہ پریشان نہیں ہیں اور ان کا ہدف صرف اپنی انرجی اور باڈی لینگویج کو مثبت رکھنا ہے۔
آئرلینڈ کا عزم
دوسری جانب آئرلینڈ کی ٹیم بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ ان کے لیے بھی یہ میچ جیتنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رہ سکیں۔ آئرلینڈ نے اپنی ٹیم میں ایک تبدیلی کی ہے اور الانا ڈالزیل کی جگہ لارا میک برائیڈ کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ آئرلینڈ کی کوشش ہوگی کہ وہ نیوزی لینڈ کی پریشانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹورنامنٹ میں اپنی پہلی بڑی کامیابی حاصل کرے۔
پچ اور ٹیمیں
ساؤتھمپٹن کی ہیمپشائر باؤل میں استعمال ہونے والی پچ تازہ ہے، جس پر اب تک تین میچ کھیلے جا چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ ان میں سے دو میچ ہار چکی ہے جبکہ آئرلینڈ کو انگلینڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ٹیموں کا اعلان
نیوزی لینڈ ٹیم: جارجیا پلمر، ازی گیز (وکٹ کیپر)، میلی کیر (کپتان)، بروک ہیلی ڈے، میڈی گرین، ازی شارپ، سوزی بیٹس، جیس کیر، نینسی پٹیل، روزمیری مائر اور بری ایلنگ۔
آئرلینڈ ٹیم: ایمی ہنٹر (وکٹ کیپر)، گیبی لیوس (کپتان)، اورلا پرینڈرگاسٹ، ربیکا اسٹوکل، لیا پال، ایلس ٹیکٹر، لوئیس لٹل، آرلین کیلی، ایمی میگوائر، کارا مرے اور لارا میک برائیڈ۔
اس میچ کا نتیجہ نہ صرف پوائنٹس ٹیبل پر اثر انداز ہوگا بلکہ دونوں ٹیموں کے ٹورنامنٹ میں مستقبل کا فیصلہ بھی کرے گا۔ شائقین کو ایک بھرپور مقابلے کی امید ہے، جہاں دونوں ٹیمیں اپنی ساکھ بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔
