Ailsa Lister handed demerit point for breaching Level 1 of ICC Code of Conduct – آئی سی سی کی تادیبی کارروائی
سکاٹ لینڈ کی خواتین کرکٹ ٹیم کی اہم بلے باز ایلسا لسٹر (Ailsa Lister) کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے دوران ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے میچ میں غیر مناسب رویہ اپنانے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے باضابطہ طور پر سرزنش کی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد ان کے ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والی باضابطہ رپورٹ کے مطابق، یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب ایلسا لسٹر نے جمعرات کو کھیلے گئے میچ میں آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے لیول 1 کی خلاف ورزی کی۔ اس سنگین تادیبی کارروائی کے نتیجے میں Ailsa Lister handed demerit point for breaching Level 1 of ICC Code of Conduct کا فیصلہ سنایا گیا، جو ان کے بین الاقوامی کیریئر میں ایک ناپسندیدہ ریکارڈ کا اضافہ ہے۔
میچ کے دوران پیش آنے والا واقعہ اور ایلسا لسٹر کا ردعمل
یہ واقعہ سکاٹ لینڈ کی اننگز کے 19ویں اوور میں پیش آیا۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے دیے گئے 154 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سکاٹ لینڈ کی ٹیم شدید دباؤ کا شکار تھی۔ ایلسا لسٹر جو کہ 25 گیندوں پر 33 رنز بنا کر کریز پر موجود تھیں اور ٹیم کی جیت کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی تھیں، اچھے فارم میں نظر آ رہی تھیں۔ تاہم، 19ویں اوور میں ان کی اہم وکٹ گر گئی اور وہ آؤٹ ہو کر پویلین کی طرف لوٹنے لگیں۔
آؤٹ ہونے کے بعد شدید مایوسی اور غصے کے عالم میں ایلسا لسٹر نے میدان سے باہر جاتے ہوئے اپنے بلے اور دستانے (bat and gloves) زمین پر دے مارے۔ ان کا غصہ یہیں ختم نہیں ہوا، بلکہ پویلین کے قریب پہنچ کر انہوں نے ٹیم کے ڈگ آؤٹ (dugout) کے پاس پڑے کچرے کے ڈبے (bin) کو زوردار لات ماری اور اسے گرا دیا۔ ان کا یہ جارحانہ رویہ کیمروں اور گراؤنڈ میں موجود امپائرز کی نظروں سے بچ نہ سکا۔ ایلسا لسٹر سکاٹ لینڈ کی جانب سے آؤٹ ہونے والی ساتویں کھلاڑی تھیں، اور ان کے آؤٹ ہوتے ہی سکاٹ لینڈ کی 154 رنز کے ہدف کے تعاقب کی مہم بری طرح پٹری سے اتر گئی اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی سی سی ضابطہ اخلاق کا آرٹیکل 2.2 کیا ہے؟
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، ایلسا لسٹر کو کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کے لیے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.2 (Article 2.2) کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے۔ یہ مخصوص آرٹیکل بین الاقوامی میچ کے دوران “کرکٹ کے سازوسامان، کپڑوں، گراؤنڈ کے آلات یا فکسچر اور فٹنگز کے غلط استعمال یا نقصان پہنچانے” سے متعلق ہے۔
میدان کے اندر کسی بھی قسم کا غیر اخلاقی رویہ یا گراؤنڈ کی املاک کو نقصان پہنچانا آئی سی سی کے قوانین کے تحت سخت ناپسندیدہ عمل مانا جاتا ہے۔ ایلسا لسٹر کا کچرے کے ڈبے کو لات مارنا اور اپنے بلے اور دستانے غصے میں پھینکنا براہ راست آرٹیکل 2.2 کے دائرہ کار میں آتا ہے، جس کی وجہ سے ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
امپائرز کے الزامات اور میچ ریفری کا فیصلہ
اس واقعے پر آن فیلڈ امپائرز کلیئر پولوساک (Claire Polosak) اور کیرن کلاسٹے (Kerrin Klaaste) کے ساتھ ساتھ تھرڈ امپائر این جنانی (N Janani) اور فورتھ امپائر نمیلی پریرا (Nimali Perera) نے باضابطہ طور پر چارج عائد کیا۔ میچ ریفری جی ایس لکشمی (GS Lakshmi) نے اس معاملے پر جرمانے کی سزا تجویز کی تھی۔
سکاٹش بلے باز ایلسا لسٹر نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور میچ ریفری کی جانب سے تجویز کردہ سزا کو بلا جھجک قبول کر لیا، جس کے باعث اس معاملے پر کسی باقاعدہ سماعت (formal hearing) کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یہ گزشتہ 24 ماہ کے دوران ایلسا لسٹر کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا پہلا واقعہ ہے۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، اگر کوئی کھلاڑی 24 ماہ کے اندر دوبارہ ایسی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف مزید سخت تادیبی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
آئی سی سی کے لیول 1 قوانین اور سزاؤں کی تفصیلات
کرکٹ شائقین کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے لیول 1 (Level 1 breaches) کے تحت کیا سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق درج ذیل سزائیں دی جاتی ہیں:
- کم از کم سزا: کھلاڑی کو باضابطہ طور پر وارننگ یا سرزنش (official reprimand) جاری کی جاتی ہے۔
- زیادہ سے زیادہ سزا: کھلاڑی پر اس کی میچ فیس کا 50 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
- ڈی میرٹ پوائنٹس: کھلاڑی کے تادیبی ریکارڈ میں ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس (demerit points) کا اضافہ کیا جاتا ہے۔
ایلسا لسٹر کے معاملے میں، انہیں باضابطہ سرزنش کے ساتھ ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی 24 ماہ کے عرصے میں چار یا اس سے زیادہ ڈی میرٹ پوائنٹس حاصل کر لیتا ہے، تو یہ پوائنٹس سسپنشن پوائنٹس (suspension points) میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کھلاڑی پر ایک یا زیادہ میچوں کی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ چونکہ یہ ایلسا کا پہلا جرم تھا، اس لیے وہ فی الحال کسی میچ کی پابندی سے محفوظ رہی ہیں، لیکن مستقبل میں انہیں اپنے رویے پر قابو رکھنا ہوگا۔
سکاٹ لینڈ کی ٹیم پر میچ کے اثرات
اس ورلڈ کپ میچ میں ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 153 رنز بنائے، جس کے جواب میں سکاٹ لینڈ کی ٹیم ہدف کے حصول میں ناکام رہی۔ ایلسا لسٹر کی 33 رنز کی اننگز سکاٹ لینڈ کے لیے امید کی کرن تھی، لیکن ان کے آؤٹ ہوتے ہی ٹیم کا مڈل اور لوئر آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ دباؤ کے اس ماحول میں کھلاڑیوں کے جذبات پر قابو پانا انتہائی اہم ہوتا ہے، اور ایلسا لسٹر کی جانب سے جذبات کا یہ بے جا اظہار نہ صرف ان کے ذاتی ریکارڈ پر ایک داغ بن گیا بلکہ اس سے ٹیم کے مورال پر بھی منفی اثر پڑا۔
سکاٹ لینڈ کی ٹیم اس شکست کے بعد ٹورنامنٹ میں بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، اور ایسے نازک موڑ پر ان کے اہم کھلاڑیوں کا نظم و ضبط برقرار رکھنا ٹیم کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ آئی سی سی کا یہ فیصلہ تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک سبق ہے کہ کھیل کی مہارت کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں اخلاقی اقدار اور ڈسپلن کی پاسداری بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔
