Bangladesh Cricket

Only three bowlers have conquered Chepauk with ODI five-fors

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

چنئی کی پچ پر فاسٹ باؤلنگ کا جادو

ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم، جسے چیپاک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، روایتی طور پر اسپنرز کے لیے جنت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تیز گیند بازوں کے لیے وکٹیں حاصل کرنا ہمیشہ ایک بڑی آزمائش رہا ہے، جہاں انہیں نظم و ضبط اور صبر کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، ہفتے کے روز بھارتی فاسٹ باؤلر پرسدھ کرشنا نے تمام روایات کو توڑتے ہوئے ایک ایسی کارکردگی پیش کی جو کرکٹ کے شائقین کو برسوں یاد رہے گی۔

پرسدھ کرشنا کا تاریخی کارنامہ

پرسدھ کرشنا نے افغانستان کے خلاف تیسرے ون ڈے میچ میں شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 23 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ نہ صرف ان کے کیریئر کی بہترین کارکردگی ہے بلکہ چیپاک کے تاریخی میدان پر ون ڈے کرکٹ کی بہترین باؤلنگ فیگرز بھی ہیں۔ اس کارکردگی کے ساتھ ہی وہ ان چند خوش نصیب کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے اس مشکل وکٹ پر پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔

Only three bowlers have conquered Chepauk with ODI five-fors

کرکٹ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو یہ بات حیران کن ہے کہ اس تاریخی میدان پر اب تک صرف تین گیند باز ہی پانچ وکٹیں حاصل کر پائے ہیں۔ پرسدھ کرشنا سے قبل یہ اعزاز صرف دو دیگر گیند بازوں کو حاصل تھا۔

  • عاقب جاوید (1997): پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر عاقب جاوید نے 1997 کے پیپسی انڈیپنڈنس کپ کے دوران بھارت کے خلاف 61 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور اس فہرست میں جگہ بنانے والے پہلے کھلاڑی بنے۔
  • روی رامپال (2011): ویسٹ انڈیز کے فاسٹ باؤلر روی رامپال نے تقریباً 14 سال بعد 2011 میں بھارت کے خلاف 51 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں اور عاقب جاوید کا ریکارڈ توڑ دیا۔
  • پرسدھ کرشنا (2026): پرسدھ کرشنا نے 23 رنز دے کر 5 وکٹیں لے کر نہ صرف رامپال کا ریکارڈ توڑا بلکہ چیپاک کی تاریخ میں سب سے بہترین باؤلنگ کا نیا معیار قائم کر دیا۔

پرسدھ کرشنا کا ردعمل

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پرسدھ کرشنا نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “میں بہت خوش ہوں کہ اتنی گرمی میں باؤلنگ کرتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کر سکا۔ ہم اپنی لینتھ اور باؤلنگ پر کافی عرصے سے سخت محنت کر رہے ہیں۔ مورنے مورکل کی رہنمائی میں مجھے اپنی باؤلنگ میں بہتری محسوس ہو رہی ہے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بہت تھک چکے تھے، تو انہوں نے اعتراف کیا کہ موسم کافی گرم تھا، لیکن ٹیم کے لیے ایسی کارکردگی دکھانا زیادہ اہم تھا۔

نتیجہ

چیپاک کی پچ پر فاسٹ باؤلرز کی یہ تینوں کارکردگیاں کرکٹ کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ پرسدھ کرشنا نے جس طرح سے افغانستان کے بلے بازوں کو پریشان کیا، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر درست لینتھ اور پلاننگ کے ساتھ گیند بازی کی جائے تو کسی بھی قسم کی پچ پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ کرکٹ میں مہارت اور محنت ہمیشہ نتائج دیتی ہے، اور پرسدھ کرشنا کا یہ کارنامہ آنے والے برسوں تک ریکارڈ بکس میں سنہری حروف میں لکھا رہے گا۔