Mitchell fifty guides New Zealand’s lead past 400 at The Oval
اوول میں نیوزی لینڈ کا غلبہ
اوول کے میدان پر جاری ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز نیوزی لینڈ نے اپنی برتری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے انگلینڈ کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کیوی ٹیم نے لنچ کے وقفے تک اپنی مجموعی برتری کو 400 رنز سے تجاوز کروا دیا ہے، جس کے بعد اب انگلینڈ کو ایک ایسے ہدف کا سامنا ہے جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک عالمی ریکارڈ کا متقاضی ہے۔
ڈیرل مچل کی شاندار اننگز
نیوزی لینڈ کی بیٹنگ لائن اپ کی بنیاد ڈیرل مچل کی ذمہ دارانہ بیٹنگ پر کھڑی رہی۔ Mitchell fifty guides New Zealand’s lead past 400 کے ہدف تک پہنچنے میں مچل کا کردار کلیدی رہا، جنہوں نے لنچ کے وقفے تک ناقابل شکست 66 رنز بنائے۔ اگرچہ انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر جوفرا آرچر نے صبح کے سیشن میں انتہائی تیز اور درست لائن و لینتھ پر باؤلنگ کی، لیکن مچل نے انتہائی اطمینان کے ساتھ ان کا سامنا کیا اور اپنی ٹیم کو ایک محفوظ پوزیشن میں پہنچایا۔
انگلش باؤلنگ کا ردعمل
جوفرا آرچر نے دن کے آغاز میں نیوزی لینڈ کے بیٹرز کو خاصا پریشان کیا۔ انہوں نے پیویلین اینڈ سے مسلسل آٹھ اوورز کرائے اور اپنی رفتار سے کیوی بیٹرز کو بارہا ٹیسٹ کیا۔ آرچر نے ہینری نکولس کی وکٹ حاصل کرکے انگلینڈ کو اہم کامیابی دلائی، تاہم اس سے قبل ہینری بروک سے ایک کیچ چھوٹنے کا واقعہ انگلینڈ کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ نکولس اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد پویلین لوٹے، لیکن اس دوران نیوزی لینڈ اپنی پوزیشن کافی حد تک بہتر کر چکا تھا۔
پارٹنرشپ اور ریکارڈز
ٹام بلنڈل اور ڈیرل مچل کی شراکت داری نیوزی لینڈ کے لیے ایک اور سنگ میل ثابت ہوئی۔ ان دونوں بیٹرز نے ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کے خلاف 1000 رنز کی شراکت داری کا اعزاز حاصل کیا، اور وہ ایسا کرنے والی پہلی کیوی جوڑی بن گئے ہیں۔ لنچ سے قبل نیتھن اسمتھ نے بھی جارحانہ انداز اپنایا اور انگلینڈ کے اسپنرز کے خلاف چھکے اور چوکے لگا کر اسکور بورڈ کو تیزی سے آگے بڑھایا۔
انگلینڈ کے لیے مشکل امتحان
انگلینڈ کی ٹیم اب ایک ایسے پہاڑ جیسے ہدف کے سامنے کھڑی ہے جسے عبور کرنا ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک ناممکن کام سمجھا جاتا ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی چوتھی اننگز کی کامیاب تعاقب (Run Chase) کرنی ہوگی۔ اگر انگلینڈ یہ کارنامہ سر انجام دینے میں ناکام رہتا ہے تو نیوزی لینڈ سیریز میں اپنی پوزیشن کو ناقابل تسخیر بنا لے گا۔
مستقبل کی حکمت عملی
کپتان ٹام لیتھم کے پاس اب یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے کہ وہ کب ڈکلیریشن کا اعلان کریں گے۔ نیوزی لینڈ نے کھیل کے پہلے تین دن سے زائد کے عرصے میں جس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس میچ میں مکمل طور پر حاوی ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ کو سیریز میں 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کے لیے ایک غیر معمولی کارکردگی کی ضرورت ہوگی۔
چوتھے دن کے بقیہ سیشنز یہ طے کریں گے کہ آیا انگلینڈ میچ بچانے کے لیے دفاعی حکمت عملی اپناتا ہے یا نیوزی لینڈ اپنی جارحانہ بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے انگلینڈ کو فوری طور پر بیٹنگ کی دعوت دیتا ہے۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ ٹیسٹ میچ اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے۔
