News

Jaiswal misses out on ODI squad for England tour despite Afghanistan ton – جیسوال کو افغانستان کے خلاف سنچری کے باوجود انگلینڈ کے ون ڈے اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا

Snehe Roy · · 1 min read
Share

کرکٹ کی دنیا میں اکثر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جو شائقین اور ماہرین دونوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسا ہی فیصلہ ہوا جب نوجوان اور باصلاحیت بلے باز یشسوی جیسوال کو اگلے ماہ انگلینڈ میں ہونے والی تین میچوں کی ون ڈے سیریز کے لیے بھارتی اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت مزید حیران کن ہو گیا جب جیسوال نے اپنے آخری ون ڈے میچ میں افغانستان کے خلاف ناقابل شکست 110 رنز کی شاندار سنچری بنائی تھی۔ یہ ان کے صرف چھٹے ون ڈے میچ میں دوسری سنچری تھی، جو ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم، بھارت کے وائٹ بال کرکٹ میں موجود ٹیلنٹ کی گہرائی اس قدر زیادہ ہے کہ ایک شاندار کارکردگی بھی اسکواڈ میں جگہ کی ضمانت نہیں دے سکتی۔

جیسوال کا اسکواڈ سے باہر ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ بھارتی کرکٹ اس وقت مضبوط ترین دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر پوزیشن پر کئی بہترین کھلاڑی دستیاب ہیں۔ انگلینڈ کے دورے کے لیے 15 رکنی اسکواڈ میں جگہ نہ ملنا اگرچہ جیسوال کے لیے مایوس کن ہو سکتا ہے، لیکن یہ انہیں مستقبل میں مزید محنت کرنے اور اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی ترغیب دے گا۔ انہیں افغانستان سیریز میں ویرات کوہلی کے متبادل کے طور پر بلایا گیا تھا، جو ہیمسٹرنگ انجری کے باعث باہر ہو گئے تھے۔ اب کوہلی اپنی فٹنس کلیئرنس کے بعد اسکواڈ میں واپس آ رہے ہیں، جس سے ٹاپ آرڈر میں مزید مقابلہ بڑھ گیا ہے۔

ویرات کوہلی کی متوقع واپسی اور فٹنس کا جائزہ

ویرات کوہلی، جو دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں، اپنی فٹنس کلیئرنس کے بعد اسکواڈ میں واپس آ رہے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوہلی آنے والے ہفتے میں بی سی سی آئی کے سنٹر آف ایکسیلنس (CoE) بنگلورو میں اپنا فٹنس جائزہ لیں گے۔ ان کی واپسی سے بھارتی بیٹنگ لائن اپ کو مزید مضبوطی ملے گی اور تجربہ کار کھلاڑی کی موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گی۔ کوہلی کی انجری کے بعد جیسوال کو موقع ملا اور انہوں نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا، لیکن ٹیم کی حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبے مختلف کھلاڑیوں کی شمولیت کا تقاضا کرتے ہیں۔

2027 ورلڈ کپ کی تیاری اور مکمل طاقت والا اسکواڈ

بھارت 2027 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر انگلینڈ سیریز کے لیے ایک مکمل طاقت والا اسکواڈ نامزد کیا گیا ہے، جس میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ کچھ نئے ٹیلنٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس اسکواڈ میں دو اہم کھلاڑیوں، اکسر پٹیل اور جسپریت بمراہ کی واپسی ہوئی ہے، جو طویل عرصے بعد ون ڈے فارمیٹ میں نظر آئیں گے۔ ان کی واپسی سے ٹیم کی بولنگ اور آل راؤنڈ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

بمراہ اور اکسر کی اہم واپسی

جسپریت بمراہ، جو دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں سے ایک ہیں، 2023 ورلڈ کپ فائنل کے بعد سے ورک لوڈ مینجمنٹ کی وجوہات کی بنا پر ون ڈے کرکٹ نہیں کھیلے تھے۔ ان کی واپسی سے بھارتی تیز باؤلنگ اٹیک کو نئی توانائی ملے گی اور وہ ایک بار پھر اپنی یارکرز اور سوئنگ سے حریف بلے بازوں کو پریشان کر سکیں گے۔ بمراہ نے پرنس یادیو کی جگہ لی ہے، جنہوں نے افغانستان کے خلاف اپنا ون ڈے ڈیبیو کیا تھا۔

دوسری جانب، بائیں ہاتھ کے اسپن آل راؤنڈر اکسر پٹیل بھی اسکواڈ میں واپس آ گئے ہیں۔ وہ گزشتہ تین ون ڈے سیریز – جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور افغانستان کے خلاف – سے باہر تھے۔ اکسر کی واپسی سے ٹیم کو ایک مضبوط اسپن آپشن ملے گا جو بلے بازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے ہرش دوبے کی جگہ لی ہے، جنہوں نے حال ہی میں افغانستان کے خلاف اپنا ڈیبیو کیا تھا۔ اکسر کی موجودگی سے ٹیم کی فیلڈنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں استحکام آئے گا۔

ہاردک پانڈیا کی غیر موجودگی

آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کو بھی اس اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ وہ اصل میں افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے منتخب کیے گئے تھے لیکن CoE میں تربیت کے دوران ٹانگ میں کھنچاؤ کے باعث باہر ہو گئے تھے۔ پانڈیا کی غیر موجودگی بھارتی ٹیم کے لیے ایک دھچکا ہے، کیونکہ وہ اپنی تیز باؤلنگ اور جارحانہ بلے بازی سے میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی جگہ ایک اور آل راؤنڈر نتیش کمار ریڈی کو موقع دیا گیا ہے، جو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں سے ہیں۔ ٹیم کو پانڈیا جیسے تجربہ کار آل راؤنڈر کی کمی محسوس ہو سکتی ہے، تاہم، نئے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔

انگلینڈ میں ون ڈے سیریز کا شیڈول

  • پہلا ون ڈے: 14 جولائی، برمنگھم
  • دوسرا ون ڈے: 16 جولائی، کارڈف
  • تیسرا ون ڈے: 19 جولائی، لارڈز

یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے اپنی بہترین حکمت عملی اور کھلاڑیوں کے امتزاج کی جانچ کریں گے۔ انگلینڈ کی سرزمین پر کھیلنا ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، اور بھارتی ٹیم کو سیریز جیتنے کے لیے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

انگلینڈ میں ون ڈے سیریز کے لیے بھارتی اسکواڈ

  • شبمن گل (کپتان)
  • روہت شرما
  • ویرات کوہلی (فٹنس کلیئرنس سے مشروط)
  • شریاس آئیر (نائب کپتان)
  • کے ایل راہول (وکٹ کیپر)
  • ایشان کشن (وکٹ کیپر)
  • واشنگٹن سندر
  • اکسر پٹیل
  • نتیش کمار ریڈی
  • کلدیپ یادیو
  • جسپریت بمراہ
  • پرسیدھ کرشنا
  • ہर्षیت رانا
  • ارشدیپ سنگھ
  • گورنور برار

اس اسکواڈ میں نوجوانوں اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا ایک اچھا امتزاج نظر آتا ہے۔ شبمن گل کپتانی کے فرائض سنبھالیں گے، جو ان کے لیے ایک اہم تجربہ ہوگا۔ کے ایل راہول اور ایشان کشن کی موجودگی وکٹ کیپر کے اختیارات فراہم کرتی ہے۔ بولنگ اٹیک میں جسپریت بمراہ کی واپسی ایک بڑا پلس ہے، جبکہ پرسیدھ کرشنا، ہریشت رانا، ارشدیپ سنگھ اور گورنور برار جیسے نوجوان تیز باؤلرز کو بھی موقع دیا گیا ہے۔ کلدیپ یادیو اور واشنگٹن سندر اسپن ڈپارٹمنٹ کی قیادت کریں گے، جن کے ساتھ اکسر پٹیل بھی ہوں گے۔ مجموعی طور پر، یہ ایک متوازن اسکواڈ ہے جو انگلینڈ میں چیلنجنگ حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے یہ سیریز ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی، جہاں کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے اور ورلڈ کپ کے لیے اپنی دعویداری مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.