Johnson and Marsh star as Australia secure 3-0 sweep of T20I series
آسٹریلیا کی بنگلہ دیش کے خلاف شاندار کامیابی اور کلین سویپ
آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں ایک بار پھر اپنی غیر معمولی برتری ثابت کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو 7 وکٹوں سے عبرتناک شکست دے دی۔ اس یادگار فتح کے ساتھ ہی کینگروز نے تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 3-0 سے شاندار کلین سویپ مکمل کر لیا ہے۔ بنگلہ دیش کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر صرف 109 رنز ہی بنا سکی، جو ان کے ہوم گراؤنڈ پر ایک انتہائی مایوس کن کارکردگی تھی۔ جواب میں آسٹریلوی کپتان مچل مارش کی طوفانی اور جارحانہ بیٹنگ کی بدولت مہمان ٹیم نے یہ آسان ہدف صرف 11 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر باآسانی حاصل کر لیا اور بنگلہ دیشی باؤلنگ اٹیک کے پرخچے اڑا دیے۔
سپنسر جانسن کی ریکارڈ ساز اور انتہائی کفایتی باؤلنگ
آسٹریلیا کی اس شاندار اور یکطرفہ جیت کی مضبوط بنیاد بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز سپنسر جانسن نے رکھی۔ انہوں نے اپنے 4 اوورز کے اسپیل میں صرف 6 رنز دے کر 2 اہم وکٹیں حاصل کیں، جو کہ آسٹریلیا کی جانب سے مردوں کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں اب تک کا سب سے کفایتی باؤلنگ اسپیل ہے۔ سپنسر جانسن کی اس نپی تلی اور تباہ کن باؤلنگ نے بنگلہ دیشی بلے بازوں کو کریز پر ٹکنے اور کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ ان کی شاندار گیند بازی کی بدولت بنگلہ دیشی ٹیم شروع سے ہی دباؤ کا شکار ہو گئی اور آسٹریلوی باؤلرز میچ پر مکمل حاوی ہو گئے۔ ان کے ساتھ ساتھ ناتھن ایلس اور ایڈم زیمپا نے بھی دو، دو وکٹیں حاصل کر کے بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ کر رکھ دی۔
پاور پلے میں بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن کا زوال
میچ کا آغاز آسٹریلیا کی جانب سے ایک منفرد اور حیران کن تجربے سے ہوا جب نکھل چودھری آسٹریلیا کے لیے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پہلا اوور پھینکنے والے تاریخ کے پہلے لیگ اسپنر بن گئے۔ تاہم، بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن کو اصل نقصان سپنسر جانسن نے پہنچایا۔ انہوں نے اپنے اوور میں سیف حسن کی ایک تیز شاٹ پر گیند کو اپنی انگلیوں سے چھو کر نان اسٹرائیکر اینڈ کی وکٹوں پر مارا، جس کے نتیجے میں کریز سے باہر کھڑے تنزید حسن بدقسمتی سے رن آؤٹ ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد جانسن نے سیف حسن کو بھی ایک بہترین گیند پر مڈ آف پر مچل مارش کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔ ناتھن ایلس نے بنگلہ دیشی اوپنر پرویز حسین ایمون کو آؤٹ کیا جو 13 گیندوں پر صرف 1 رن بنا کر شدید جدوجہد کر رہے تھے اور جوئیل ڈیوس کو کیچ تھما بیٹھے۔ صرف 22 رنز پر 3 اہم وکٹیں گرنے کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہو چکی تھی اور پاور پلے میں ان کا رن ریٹ انتہائی مایوس کن رہا۔
ایڈم زیمپا کا یادگار سنگ میل اور مڈل آرڈر کی تباہی
بنگلہ دیش کے قائم مقام کپتان توحید ہردوئ نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا لیکن دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ کسی صورت نہ رک سکا۔ مایہ ناز لیگ اسپنر ایڈم زیمپا نے نور الحسن کو ایک بہترین اور جادوئی گوگلی پر بولڈ کر کے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی 350 وکٹیں مکمل کیں، جو ان کے شاندار کیریئر کا ایک بہت بڑا سنگ میل ہے۔ اس کے بعد سپنسر جانسن نے شمیم حسین کو ایک تیز باؤنسر پر ہک شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا اور وہ صفر پر پویلین لوٹ گئے۔ نکھل چودھری نے رشاد حسین کو اپنی ہی گیند پر شاندار کیچ آؤٹ کر کے بنگلہ دیش کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم ایک وقت میں صرف 86 رنز پر 8 وکٹیں گنوا چکی تھی اور ایسا لگتا تھا کہ پوری ٹیم 100 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہیں کر پائے گی۔
توحید ہردوئ کی شاندار مزاحمتی اننگز
ان مشکل حالات میں بنگلہ دیشی کپتان توحید ہردوئ نے تنہا لڑائی لڑتے ہوئے 51 گیندوں پر ناقابل شکست 61 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کی اس اننگز میں 6 دلکش چوکے اور 3 شاندار چھکے شامل تھے۔ انہوں نے آرون ہارڈی کی گیند پر ایک زوردار چھکا لگایا جہاں فیلڈر باؤنڈری لائن پر گیند کو روکنے کی کوشش میں زمین پر گر گئے اور معمولی زخمی بھی ہوئے لیکن جلد ہی میدان میں واپس آ گئے۔ ہردوئ کی اس شاندار مزاحمتی اننگز کی بدولت بنگلہ دیشی ٹیم کسی حد تک لڑنے کے قابل اسکور یعنی 109 رنز تک پہنچنے میں کامیاب رہی، لیکن یہ اسکور آسٹریلیا کی مضبوط اور تجربہ کار بیٹنگ لائن کے سامنے انتہائی معمولی اور ناکافی ثابت ہوا۔
مچل مارش کی جارحانہ بیٹنگ اور ہدف کا تیز رفتار تعاقب
110 رنز کے آسان اور معمولی ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی کپتان مچل مارش نے پہلے ہی اوور سے بنگلہ دیشی باؤلرز پر بے رحم حملہ شروع کر دیا۔ انہوں نے اور جوش انگلس نے شریف الاسلام کے پہلے ہی اوور میں 17 رنز بٹورے، جو کہ بنگلہ دیش کی طرف سے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں آسٹریلیا کے خلاف پھینکا گیا سب سے مہنگا پہلا اوور ثابت ہوا۔ اس کے بعد مارش نے تسکین احمد کو نشانہ بنایا اور ان کے پانچویں اوور میں 18 رنز بنائے۔ مارش نے بہترین کور ڈرائیوز اور کڑک شاٹس کھیل کر ہدف کو مزید آسان بنا دیا اور میچ کو یکطرفہ کر دیا۔
ناہید رانا کے خلاف کینگروز کا ہلہ بولنا اور میچ کا اختتام
بنگلہ دیش کے سب سے تیز رفتار گیند باز ناہید رانا کو مچل مارش نے آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے رانا کو اسکوائر لیگ کے اوپر سے ایک فلک شگاف چھکا لگایا اور پھر اگلی دو گیندوں پر لگاتار چوکے رسید کیے۔ کوپر کونولی نے بھی ناہید رانا کو مڈ آف پر شاندار چوکا لگا کر ان کا استقبال کیا۔ رانا نے اپنے پہلے ہی اوور میں 20 رنز لٹائے۔ اگرچہ نسوم احمد نے جوش انگلس کو 17 رنز پر آؤٹ کر کے 54 رنز کی اوپننگ پارٹنرشپ کا خاتمہ کیا، لیکن مچل مارش کو روکنا بنگلہ دیشی باؤلرز کے بس کی بات نہ تھی۔ مارش نے صرف 28 گیندوں پر 60 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی جس میں 11 چوکے اور چھکے شامل تھے۔ آخر میں ٹم ڈیوڈ نے رشاد حسین کو لگاتار دو فلک شگاف چھکے لگا کر میچ کا اختتام کیا اور آسٹریلیا کو 9 اوورز قبل ہی ایک تاریخی اور یادگار فتح دلا کر سیریز میں بنگلہ دیش کا مکمل صفایا کر دیا۔
