Report

Sooryavanshi thumps fastest List A fifty as India A win tri-series – انڈیا اے کی تاریخی فتح

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

انڈیا اے کی تاریخی فتح: ویبھو سوریاونشی کی طوفانی بیٹنگ

دمبولا میں کھیلے گئے ٹرائے سیریز کے سنسنی خیز فائنل میچ میں، Sooryavanshi thumps fastest List A fifty as India A win tri-series جس کی بدولت انڈیا اے نے سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست دے کر فائنل ٹرافی اپنے نام کر لی۔ اس فائنل میچ کی سب سے بڑی خاص بات نوجوان اوپنر ویبھو سوریاونشی کی وہ یادگار اننگز تھی جس نے لسٹ اے کرکٹ کی تاریخ کے کئی پرانے ریکارڈ پاش پاش کر دیے۔

میچ کا خلاصہ اور سکور کارڈ

اس فائنل میچ میں دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ میچ کے اہم اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

  • انڈیا اے کا سکور: 50 اوورز میں 377 رنز، 9 وکٹوں کے نقصان پر (ویبھو سوریاونشی 94، تلک ورما 67، روتوراج گائیکواڈ 40)
  • سری لنکا اے کا سکور: 48 اوورز میں 311 رنز پر آل آؤٹ (وانوجا سہان 62، سدیرا سماراوکرما 52)
  • بھارتی گیند بازوں کی کارکردگی: یش ٹھاکر 3/45، وپراج نگم 3/60، انوکول رائے 2 وکٹیں
  • میچ کا نتیجہ: انڈیا اے نے سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست دے کر ٹرائے سیریز جیت لی۔

ویبھو سوریاونشی کی ریکارڈ ساز اور طوفانی اننگز

ویبھو سوریاونشی نے میدان میں قدم رکھتے ہی حریف ٹیم کے گیند بازوں پر ایسا دباؤ بنایا کہ سری لنکن فیلڈرز اور باؤلرز بے بس نظر آنے لگے۔ انہوں نے محض 11 گیندوں پر لسٹ اے کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری اسکور کی۔ اپنی اس اننگز کے آغاز میں انہوں نے پہلی پانچ گیندوں پر مسلسل پانچ چوکے لگائے۔ سوریاونشی نے صرف 29 گیندوں پر 94 رنز کی ایک دلیرانہ اننگز کھیلی۔

ان کی اس برق رفتار بیٹنگ کی بدولت انڈیا اے نے محض 8.5 اوورز میں 132 رنز کا ہندسہ عبور کر لیا تھا۔ سوریاونشی لسٹ اے کرکٹ کی تیز ترین سنچری بنانے کے انتہائی قریب تھے، لیکن نویں اوور میں سری لنکا اے کے کپتان اور آف اسپنر سہان آراچیگے کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ اگرچہ وہ اپنی سنچری مکمل نہ کر سکے، لیکن ان کی اس اننگز نے میچ کا رخ شروع میں ہی انڈیا اے کی طرف موڑ دیا۔

تنازعات کا جواب بلے سے دیا

اس فائنل میچ سے قبل، ٹورنامنٹ میں سوریاونشی کی کارکردگی اوسط درجے کی رہی تھی جہاں انہوں نے چار اننگز میں 117 رنز بنائے تھے۔ اس کے علاوہ، چار دن پہلے کھیلے گئے ایک سخت گروپ میچ میں سری لنکا اے کے کھلاڑیوں کے ساتھ ان کی تلخ کلامی بھی سرخیوں میں رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد ان پر جرمانے اور تادیبی کارروائی کے حوالے سے کافی باتیں کی جا رہی تھیں۔ تاہم، نوجوان بلے باز نے ان تمام منفی باتوں کا جواب میدان میں اپنے بلے سے دیا اور ثابت کیا کہ ان کا دھیان صرف اپنے کھیل پر مرکوز ہے۔

مڈل آرڈر کی جدوجہد اور انوکول رائے کا شاندار کردار

سوریاونشی کے آؤٹ ہونے کے بعد انڈیا اے کی اننگز کی رفتار کچھ مدہم پڑ گئی اور ٹیم مختلف مواقع پر مشکلات کا شکار نظر آئی۔ مڈل آرڈر میں تلک ورما نے 67 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جبکہ کپتان روتوراج گائیکواڈ نے 40 رنز بنائے۔ ایک وقت پر ایسا لگ رہا تھا کہ انڈیا اے آسانی سے 400 سے زائد رنز بنا لے گی، لیکن یکے بعد دیگرے وکٹیں گرنے کے باعث ٹیم کا سکور 334 رنز پر 8 وکٹیں ہو گیا اور خطرہ تھا کہ ٹیم پورے اوورز بھی نہیں کھیل پائے گی۔

ایسے نازک وقت پر سمستی پور سے تعلق رکھنے والے انوکول رائے نے میدان سنبھالا۔ انہوں نے صرف 15 گیندوں پر 39 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیلی جس میں چار بلند و بالا چھکے شامل تھے۔ ان کی اس کارکردگی کی بدولت انڈیا اے نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 377 رنز کا بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا۔

سری لنکا اے کا تعاقب اور بھارتی باؤلرز کا شاندار کم بیک

378 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں سری لنکا اے کی ٹیم نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ وانوجا سہان نے سب سے زیادہ 62 رنز بنا کر اپنی ٹیم کی امیدوں کو زندہ رکھا۔ ان کے علاوہ سدیرا سماراوکرما نے 52 رنز بنائے۔ ایک موقع پر ساتویں وکٹ کے لیے 77 رنز کی شراکت نے انڈیا اے کے کیمپ میں تشویش پیدا کر دی تھی، لیکن انوکول رائے نے وجے کانتھ ویاس کانتھ کی اہم وکٹ حاصل کر کے اس خطرناک شراکت کا خاتمہ کیا۔

باؤلنگ سیکشن میں فاسٹ باؤلر یش ٹھاکر نے 45 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ لیگ اسپنر وپراج نگم نے 60 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انوکول رائے نے باؤلنگ میں بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے دو اہم وکٹیں حاصل کیں اور سری لنکن ٹیم کو 48 ویں اوور میں 311 رنز پر آل آؤٹ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس شاندار فتح کے بعد انڈیا اے نے ٹرائے سیریز کی ٹرافی اپنے نام کر کے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ان کا ڈومیسٹک سیٹ اپ اور نوجوان ٹیلنٹ دنیا میں سب سے بہترین ہے۔