بھارت بمقابلہ افغانستان: وہ کھلاڑی جن کی ٹیم میں شمولیت پر سوالات اٹھ گئے
بھارت اور افغانستان سیریز: سلیکشن کمیٹی کے متنازع فیصلے
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے اختتام کے فوراً بعد بھارتی کرکٹ ٹیم ایک بار پھر بین الاقوامی میدانوں کا رخ کرے گی۔ بی سی سی آئی نے افغانستان کے خلاف شیڈول ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ اجیت اگرکر کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے کئی نئے چہروں کو ٹیم میں جگہ دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی کرکٹ کے حلقوں میں ان کھلاڑیوں کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے جو اپنی حالیہ ناقص کارکردگی کے باوجود ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
افغانستان کے خلاف بھارت کا ٹیسٹ اسکواڈ
ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے بھارتی ٹیم کی قیادت شبمن گل کو سونپی گئی ہے، جبکہ اسکواڈ کے دیگر اراکین درج ذیل ہیں:
- شبمن گل (کپتان)
- یشسوی جیسوال
- کے ایل راہول (نائب کپتان)
- سائی سدھرسن
- رشبھ پنت
- دیو دت پڈیکل
- نتیش کمار ریڈی
- واشنگٹن سندر
- کلدیپ یادو
- محمد سراج
- پرسدھ کرشنا
- مانو ستار
- گرنور برار
- ہرش دوبے
- دھرو جوریل
افغانستان کے خلاف بھارت کا ون ڈے اسکواڈ
ون ڈے فارمیٹ میں بھی شبمن گل ہی قیادت کے فرائض سرانجام دیں گے، اسکواڈ میں شامل دیگر کھلاڑی یہ ہیں:
- شبمن گل (کپتان)
- روہت شرما
- وراٹ کوہلی
- شریاس ایر (نائب کپتان)
- کے ایل راہول
- ایشان کشن
- ہاردک پانڈیا
- نتیش کمار ریڈی
- واشنگٹن سندر
- کلدیپ یادو
- ارشی دیپ سنگھ
- پرسدھ کرشنا
- پرنس یادو
- گرنور برار
- ہرش دوبے
غیر مستحق کھلاڑی: جنہیں ‘آؤٹ آف بلیو’ موقع ملا
اسکواڈ کے گہرے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ کھلاڑی ایسے ہیں جن کی شمولیت محض قسمت یا ٹیم مینجمنٹ کی ضرورت سے زیادہ حمایت کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔
1. نتیش کمار ریڈی (ٹیسٹ فارمیٹ)
نتیش کمار ریڈی نے آسٹریلیا کے خلاف ایک شاندار سنچری بنا کر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی آمد کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت انہیں بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل قرار دیا جا رہا تھا، لیکن اس ایک اننگز کے بعد ان کی کارکردگی کا گراف تیزی سے نیچے گرا ہے۔ آل راؤنڈر کے طور پر ان کے اعداد و شمار اب متاثر کن نہیں رہے۔ نہ تو وہ بلے سے رنز بنا پا رہے ہیں اور نہ ہی گیند کے ساتھ کوئی جادو دکھانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سرخ گیند کے ساتھ ان کے حالیہ اعداد و شمار ان کی ٹیم میں شمولیت پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔
2. واشنگٹن سندر (ون ڈے فارمیٹ)
واشنگٹن سندر ایک طویل عرصے سے بھارتی ٹیم مینجمنٹ کے منظورِ نظر رہے ہیں۔ انہیں بار بار ون ڈے فارمیٹ میں نمبر 5 جیسی اہم پوزیشن پر بیٹنگ کا موقع دیا گیا ہے، لیکن وہ اس اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔ 50 اوورز کے فارمیٹ میں ان کی بیٹنگ اور بولنگ دونوں ہی اوسط درجے کی رہی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں مستحق کھلاڑیوں پر ترجیح دینا کرکٹ ماہرین کی سمجھ سے بالاتر ہے۔
3. گرنور برار (ٹیسٹ فارمیٹ)
گرنور برار کی ٹیسٹ اسکواڈ میں شمولیت نے سب سے زیادہ حیران کیا ہے۔ دائیں ہاتھ کے اس فاسٹ بولر کے فرسٹ کلاس اعداد و شمار تو کسی حد تک ٹھیک ہیں، لیکن یہاں سب سے بڑا سوال ‘عاقب نبی’ کی نظر اندازی کا ہے۔ عاقب نبی نے جموں و کشمیر کی طرف سے کھیلتے ہوئے رانجی ٹرافی میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور ٹورنامنٹ کے ٹاپ وکٹ ٹیکرز میں شامل رہے۔ جموں و کشمیر کو رانجی ٹرافی جتوانے میں ان کا کلیدی کردار رہا۔ سلیکٹرز کی جانب سے عاقب نبی جیسے باصلاحیت کھلاڑی کو نظر انداز کر کے گرنور برار کو منتخب کرنا ناانصافی محسوس ہوتا ہے۔
نتیجہ
بھارتی کرکٹ میں اس وقت ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن ٹیم کے انتخاب میں شفافیت اور حالیہ فارم کو مدنظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔ افغانستان جیسی ٹیم کے خلاف جہاں نئے کھلاڑیوں کو آزمانا اچھا فیصلہ ہے، وہیں ان کھلاڑیوں کو نظر انداز کرنا جو ڈومیسٹک کرکٹ میں خون پسینہ بہا رہے ہیں، بھارتی کرکٹ کے ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کیا یہ فیصلے بھارت کو مستقبل کی بڑی سیریز میں فائدہ پہنچائیں گے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال یہ سلیکشن بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
