روہت شرما اور ویرات کوہلی کے درمیان آئی پی ایل کے ایلیٹ ریکارڈ میں دلچسپ مقابلہ
روہت شرما، ویرات کوہلی کے قریب: آئی پی ایل کے ایک اور ایلیٹ ریکارڈ میں دلچسپ مقابلہ
آئی پی ایل کی تاریخ میں کچھ مقابلے صرف میچز نہیں ہوتے، بلکہ وہ ثقافتوں، ورثوں اور دو عظیم بیٹسمین کے درمیان مستقل مقابلے کی علامت بن جاتے ہیں۔ ویرات کوہلی اور روہت شرما کا ہر سیزن آئی پی ایل کے مداحوں کے لیے ایک نیا باب ہوتا ہے۔ اب، جیسے جیسے آئی پی ایل 2026 سیزن کے مقابلے شدت اختیار کر رہے ہیں، روہت شرما ایک اور اہم بات میں کوہلی کے قریب پہنچ رہے ہیں: ٹورنامنٹ میں ایک ہی حریف کے خلاف سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ۔
ایک ہی ٹیم کے خلاف رنز: ایک نایاب کارنامہ
آئی پی ایل میں ایک ہی ٹیم کے خلاف لمبے عرصے تک مستقل کارکردگی دکھانا آسان نہیں۔ یہ صرف ہنر کا نہیں، بلکہ اعتماد، حکمت عملی اور ذہنی استقلال کا مظہر ہے۔ اس معیار پر ویرات کوہلی نے اب تک بالا دستی قائم رکھی ہوئی ہے، خاص طور پر پنجاب کنگز، سی ایس کے، اور دہلی کیپٹلز کے خلاف اپنے رنز کی بدولت۔
لیکن اب روہت شرما، جو اس ورلڈ کپ کے بعد سے ایک اور بار کمزور نہیں ہوئے، کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے خلاف اپنی تاریخی کارکردگی کے ذریعے کوہلی کے اس ایلیٹ ریکارڈ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
روہت شرما کا کے کے آر کے خلاف بادشاہت
روہت شرما کا نام کے کے آر کے خلاف تاریخی کامیابی کی داستان کا حصہ ہے۔ انہوں نے اب تک 37 میچز میں 1176 رنز بنا چکے ہیں، جس کا اوسط 39.2 ہے۔ ان کی اس کارکردگی میں سات نصف سنچریاں اور ایک یادگار سنچری شامل ہے۔
لیکن اس کا دلچسپ حصہ یہ ہے: وہ کے کے آر کے گھر، ایڈن گارڈنز میں بھی ایک ہیرو بن کر ابھرے ہیں۔ وہاں پر انہوں نے 446 رنز صرف 9 اننگز میں بنائے ہیں، جس کا اوسط 49.55 اور سٹرائیک ریٹ 138.08 ہے۔
آئی پی ایل 2026: ایک مضبوط شروعات، پھر رکاوٹیں
آئی پی ایل 2026 میں، روہت شرما نے کے کے آر کے خلاف ایک 35 گیندوں پر 78 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر یہ ظاہر کر دیا تھا کہ وہ ابھی بھی اسی سطح پر کھیل سکتے ہیں۔ یہ پاری نہ صرف ممبئی انڈینز کی فتح کی کنجی تھی، بلکہ مداحوں کے دلوں میں ایک بار پھر امید جگا دی تھی۔
لیکن، سیزن کے بعد کے مراحل میں، زخموں اور ایک عارضی عدم استحکام کی وجہ سے، ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ 283 رنز کے ساتھ، وہ ایک مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، لیکن کے کے آر کے خلاف دوسرے میچ میں صرف 15 رنز بنانا ان کے تاریخی مقابلے کو مکمل طور پر نمایاں نہ کر سکا۔
کوہلی کا ریکارڈ: اب بھی محفوظ، لیکن دور نہیں
ویرات کوہلی اب بھی اس فہرست کے سرِفہرست ہیں، خاص طور پر پنجاب کنگز کے خلاف اپنے 1300+ رنز کی بدولت۔ ان کے علاوہ ڈیوڈ وارنر بھی پنجاب کنگز کے خلاف اپنی کارکردگی کی بدولت اس فہرست میں جگہ بنا چکے ہیں۔
تاہم، روہت شرما کا مسلسل کے کے آر کے خلاف کھیلنا اور ان کی ایڈن گارڈنز پر بہترین کارکردگی اس ریکارڈ کے پاس ایک حقیقی چیلنج بن چکی ہے۔ اگر وہ اگلے سیزن میں فٹ رہے اور مستقل کارکردگی دکھائیں، تو یہ ریکارڈ ان کی پہنچ میں ہو سکتا ہے۔
آخری لفظ
ویرات کوہلی اور روہت شرما ایک دوسرے کو آئی پی ایل میں آگے بڑھتے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان یہ مقابلہ صرف رنز کا نہیں، بلکہ ورثے کا ہے۔ روہت شرما کا کے کے آر کے خلاف کارنامہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک عہد کی یادگار عکاسی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ایک اور ایلیٹ ریکارڈ میں ویرات کوہلی کا ہم پلہ بن پاتے ہیں۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے، تو وہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ کرکٹ کے ایک سنہرے دور کا اختتام بھی ہوگا۔
