IPL 2027: کیا ایڈن مارکرم لکھنؤ سپر جائنٹس کے نئے کپتان ہوں گے؟
لکھنؤ سپر جائنٹس کا مستقبل: کیا رشبھ پنت کی کپتانی کا خاتمہ قریب ہے؟
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے حالیہ سیزن 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کی مایوس کن کارکردگی نے ٹیم مینجمنٹ اور شائقین کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ٹیم کی لگاتار ناکامیوں کے بعد، سابق انگلش کپتان مائیکل وان نے ایک اہم تجویز پیش کی ہے کہ فرنچائز کو اب رشبھ پنت کی قیادت سے آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے اور ایڈن مارکرم اس کردار کے لیے موزوں انتخاب ہو سکتے ہیں۔
مسلسل ناکامیوں کا تسلسل
لکھنؤ سپر جائنٹس کا رواں سیزن مایوسیوں سے عبارت رہا ہے۔ ٹیم 13 میچوں میں صرف 4 جیت کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نچلے پائے دان پر موجود ہے۔ منگل کو راجستھان رائلز کے ہاتھوں شکست ان کی اس سیزن کی نویں شکست تھی، جس نے ٹیم کی ناقص حکمت عملی کو کھل کر سامنے لا دیا ہے۔ یاد رہے کہ لکھنؤ کی ٹیم لگاتار دو سیزن سے پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو رہی ہے، اور اس بار وہ پلے آف سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بنی۔
مائیکل وان کا تنقیدی تجزیہ
مشہور کرکٹ مبصر مائیکل وان نے ‘کرک بز’ پر گفتگو کرتے ہوئے ٹیم کے پورے ڈھانچے پر تنقید کی ہے۔ وان کا کہنا ہے کہ ٹیم کی قیادت، کوچنگ اور مینجمنٹ میں ہم آہنگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا:
- قیادت کا بحران: رشبھ پنت بطور کپتان اپنی حکمت عملی میں ناکام رہے ہیں اور ٹیم میں نظم و ضبط کا فقدان نظر آتا ہے۔
- کوچنگ اسٹاف پر دباؤ: جسٹن لینگر اور ٹام موڈی جیسے بڑے ناموں کے باوجود، ٹیم کا پرفارمنس گراف نیچے کی طرف رہا ہے۔
- غیر ملکی کھلاڑیوں کا انحصار: وان کے مطابق ٹاپ آرڈر میں جوش انگلش اور مچل مارش جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی اچھی ہے، لیکن تمام ٹاپ 3 میں غیر ملکی کھلاڑیوں کا ہونا متوازن نہیں لگتا۔
ایڈن مارکرم: ایک ممکنہ متبادل؟
مائیکل وان نے تجویز دی ہے کہ لکھنؤ سپر جائنٹس کو اگلے سیزن کے لیے ایک نئے کپتان کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایڈن مارکرم کا نام لیا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ زیادہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو ٹاپ آرڈر میں شامل کرنا آئی پی ایل کی روایتی کامیابیوں کے برعکس ہو سکتا ہے۔
رشبھ پنت کی انفرادی کارکردگی
صرف ٹیم ہی نہیں، بلکہ رشبھ پنت کی اپنی فارم بھی انتہائی تشویشناک رہی ہے۔ 13 میچوں میں صرف 286 رنز اور 28.60 کی اوسط، ایک کپتان کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 140 کے آس پاس رہا ہے جو جدید ٹی 20 کرکٹ میں کافی نہیں سمجھا جاتا۔ ان کی بیٹنگ آرڈر میں بار بار تبدیلیاں بھی ان کی ناقص کپتانی کا ثبوت سمجھی جا رہی ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
لکھنؤ سپر جائنٹس کا سیزن کا آخری میچ 23 مئی کو لکھنؤ میں پنجاب کنگز کے خلاف کھیلا جانا ہے۔ اب ٹیم کی نظریں مکمل طور پر اگلے سیزن پر مرکوز ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ کو نہ صرف نئے کپتان کا انتخاب کرنا ہوگا بلکہ باؤلنگ، فیلڈنگ اور بیٹنگ کے شعبوں میں بھی بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ کیا سانجیو گوئنکا کی زیر ملکیت یہ فرنچائز اگلے سال ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گی؟ یہ سوال اب ہر کرکٹ مداح کی زبان پر ہے۔
آئی پی ایل 2027 کی تیاریوں کے پیش نظر، لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے یہ فیصلہ کن مرحلہ ہوگا کہ آیا وہ پرانی غلطیوں کو دہرائیں گے یا ٹیم میں ایک بڑی تبدیلی لا کر کامیابی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہوں گے۔
