اذان اویس کا شاندار ڈیبیو: سر پر گیند لگنے کے بعد سنچری بنانے کی مکمل کہانی
پاکستان کرکٹ کا نیا ستارہ: اذان اویس کی ہمت اور مہارت کی داستان
پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کئی ایسے کھلاڑی آئے جنہوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں دنیا کو اپنی صلاحیتوں سے روشناس کرایا، لیکن میرپور میں بنگلہ دیش کے خلاف اذان اویس نے جو کارنامہ سرانجام دیا ہے، وہ ان کی ذہنی مضبوطی اور اعصاب پر قابو پانے کی بہترین مثال ہے۔ 21 سالہ اوپنر اذان اویس نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی، لیکن اس سنگ میل تک پہنچنے کا سفر انتہائی کٹھن اور خطرناک تھا۔
ناہید رانا کا باؤنسر اور پانچ منٹ کی بے خودی
کھیل کے دوران ایک ایسا لمحہ آیا جس نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین اور ٹیم انتظامیہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ بنگلہ دیش کے تیز ترین باؤلر ناہید رانا کی پہلی ہی گیند اذان اویس کے ہیلمٹ پر زور سے لگی۔ اس واقعے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اذان نے اعتراف کیا کہ اس ضرب کے بعد وہ تقریباً پانچ منٹ تک ‘زونڈ آؤٹ’ (Zoned out) یعنی ذہنی طور پر سن ہو گئے تھے۔
اذان اویس کا کہنا تھا، “جب میں بیٹنگ کے لیے جا رہا تھا تو تھوڑی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی، لیکن ناہید رانا کا سامنا کرتے وقت میں پراعتماد تھا۔ تاہم، جب گیند میرے ہیلمٹ پر لگی، تو میں پانچ منٹ کے لیے بالکل سن ہو گیا تھا۔ لیکن جلد ہی مجھے احساس ہوا کہ یہ وہ وقت ہے جب مجھے اپنی کردار کی مضبوطی دکھانی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے اس صورتحال کا بہتر انداز میں جواب دیا۔ بین الاقوامی کرکٹ میں آپ کو ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ باؤلرز آپ کے خلاف منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور اگر آپ رنز بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ان چیلنجز کا حل تلاش کرنا ہوتا ہے۔”
طبی معائنہ اور جارحانہ واپسی
ہیلمٹ پر گیند لگنے کے فوراً بعد طبی عملے کو میدان میں بلایا گیا۔ اذان اویس کا دو بار کنسیشن (Concussion) ٹیسٹ کیا گیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ بیٹنگ جاری رکھنے کے لیے مکمل فٹ ہیں۔ طویل طبی معائنے کے بعد جب انہوں نے دوبارہ بیٹنگ شروع کی، تو ان کا اعتماد پہلے سے بھی زیادہ نظر آیا۔
خاص طور پر ناہید رانا کی شارٹ پچ گیندوں کے خلاف اذان کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا۔ انہوں نے رانا کی ایسی 23 گیندوں پر 27 رنز بنائے جن میں پانچ شاندار چوکے شامل تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی سنچری بھی بنگلہ دیش کے اسی تیز ترین باؤلر کے خلاف مکمل کی۔ جب وہ 90 کی دہائی میں پہنچے تو ان کے شاٹس میں بلا کا اعتماد تھا، اور بالآخر انہوں نے تین ہندسوں کی اننگز کھیل کر اپنا نام تاریخ کے اوراق میں درج کروا دیا۔
ایک پرسکون جشن اور بڑا خواب
سنچری مکمل کرنے کے بعد جہاں تماشائی پرجوش تھے، وہیں اذان اویس کا ردعمل انتہائی پرسکون تھا۔ انہوں نے بہت سادہ انداز میں اپنی پہلی بین الاقوامی سنچری کا جشن منایا۔ ان کا کہنا تھا، “میں ایک بہت پرسکون انسان ہوں۔ میں نے صرف ایک عام سا جشن منایا۔ یہ میری پہلی سنچری ہے اور یہ میرے لیے بہت بابرکت احساس ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا میرا خواب تھا اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے ملک کے لیے اپنے پہلے ہی میچ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔”
گرین ٹاپ وکٹ اور پاکستانی ٹاپ آرڈر کی حکمت عملی
میرپور کی وکٹ پر گھاس کی موجودگی کی وجہ سے بنگلہ دیش کو آغاز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی وکٹیں جلد گر گئیں۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا درست فیصلہ کیا تھا، لیکن جب بیٹنگ کی باری آئی تو پاکستانی ٹاپ آرڈر نے ان غلطیوں سے گریز کیا جو میزبان ٹیم سے ہوئی تھیں۔ اذان اویس اور دیگر ٹاپ آرڈر بلے بازوں کی بدولت پاکستان نے 210 رنز پر صرف ایک وکٹ گنوائی، جو کہ اس مشکل پچ پر ایک بہترین پوزیشن تھی۔
ڈومیسٹک کرکٹ کا تجربہ کام آگیا
اذان اویس کی اس کامیابی کے پیچھے ان کی گذشتہ دو سالوں کی انتھک محنت چھپی ہے۔ وہ پاکستان کے ڈومیسٹک سرکٹ میں گذشتہ دو برسوں کے دوران سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا کریڈٹ ڈومیسٹک کرکٹ کو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پچھلے دو سالوں میں 33 فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہیں جن میں ان کی کارکردگی شاندار رہی۔
ان کا مزید کہنا تھا، “ہم نے ڈومیسٹک کرکٹ میں جن پچوں پر کھیلا، انہوں نے ہمیں اس طرح کی گرین ٹریکس کے لیے تیار کر دیا تھا۔ ہم نے ہر قسم کی وکٹوں پر بیٹنگ کی اور بھاری ‘ڈیوکس’ (Dukes) گیند کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے ہمیں معلوم تھا کہ ان حالات میں کیسے کھیلنا ہے۔ اپنے پہلے میچ میں ہمیشہ دباؤ ہوتا ہے، لیکن شکر ہے کہ میں نے اس دباؤ کو اچھے طریقے سے جھیل لیا۔”
مستقبل کی امیدیں
اذان اویس کی یہ اننگز نہ صرف ان کے کیریئر کا ایک شاندار آغاز ہے بلکہ یہ پاکستان کرکٹ کے لیے بھی ایک خوش آئند پیغام ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ٹیم کو مستحکم اوپنرز کی ضرورت ہے، اذان نے اپنی تکنیک اور ذہنی پختگی سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ طویل فارمیٹ کے لیے ایک بہترین انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی سنچری اس بات کی گواہ ہے کہ اگر ڈومیسٹک کرکٹ میں سخت محنت کی جائے تو بین الاقوامی سطح پر نتائج حاصل کرنا ناممکن نہیں رہتا۔
