Bangladesh Cricket

ڈھاکہ پریمیئر لیگ: مِتھن اور شبلی کی سنچریاں، روپ گنج اور لیوپرڈز کی شاندار فتوحات

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

ڈھاکہ پریمیئر لیگ میں جارحانہ بیٹنگ کا طوفان

ڈھاکہ پریمیئر لیگ (DPL) کے حالیہ میچز کرکٹ شائقین کے لیے ایک یادگار دن ثابت ہوئے، جس میں لیجنڈز آف روپ گنج اور ڈھاکہ لیوپرڈز نے اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے بڑی فتوحات اپنے نام کیں۔ ان مقابلوں میں بلے بازوں کی مہارت اور باؤلرز کی حکمت عملی نے کھیل کو یکطرفہ بنا دیا تھا۔

لیجنڈز آف روپ گنج کی گلشن کرکٹ کلب کے خلاف تباہ کن کارکردگی

بی کے ایس پی گراؤنڈ نمبر 4 پر کھیلے گئے میچ میں لیجنڈز آف روپ گنج نے گلشن کرکٹ کلب کو 205 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے روپ گنج نے مقررہ اوورز میں 354 رنز کا پہاڑ جیسا ٹوٹل کھڑا کیا۔ اس شاندار اسکور کی بنیاد عاشق الرحمٰن شبلی نے رکھی، جنہوں نے 130 گیندوں پر 119 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، جس میں 9 چوکے اور 4 چھکے شامل تھے۔

شبلی کا ساتھ دیتے ہوئے ربیع الاسلام نے 65 رنز بنائے، جبکہ سمیع البصیر رتول نے محض 30 گیندوں پر 47 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی۔ کپتان مہدی حسن نے بھی آخری لمحات میں 18 گیندوں پر 33 رنز بنا کر ٹیم کو 350 سے اوپر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہدف کے تعاقب میں گلشن کرکٹ کلب کی ٹیم کبھی بھی سنبھل نہ سکی اور ناسم احمد کی تباہ کن باؤلنگ کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔ ناسم احمد نے چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ گلشن کی جانب سے شہریار ثاقب 61 رنز بنا کر نمایاں رہے، تاہم پوری ٹیم 149 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

ڈھاکہ لیوپرڈز نے برادرز یونین کو آؤٹ کلاس کر دیا

ایک اور ہائی اسکورنگ مقابلے میں ڈھاکہ لیوپرڈز نے برادرز یونین کو 120 رنز سے شکست دی۔ کرکٹرز اکیڈمی گراؤنڈ پر ڈھاکہ لیوپرڈز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 7 وکٹوں کے نقصان پر 351 رنز بنائے۔ اس اننگز کے اصل ہیرو کپتان محمد مِتھن تھے، جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے اسٹیڈیم میں موجود شائقین کے دل جیت لیے۔

محمد مِتھن نے صرف 86 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 112 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی، جس میں 8 بلند و بالا چھکے اور 3 چوکے شامل تھے۔ معین خان نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا اور 44 گیندوں پر 69 رنز بنائے۔ افتخار حسین افتخار نے 51 رنز بنا کر ٹیم کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی تھی۔

برادرز یونین کی جدوجہد:

برادرز یونین کے لیے 352 رنز کا ہدف بہت بڑا ثابت ہوا۔ اگرچہ ان کے بلے بازوں نے کوشش کی، لیکن بڑی شراکت داریاں قائم کرنے میں ناکام رہے۔ غلام کبریا 51 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے، لیکن مجموعی طور پر پوری ٹیم 231 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ ڈھاکہ لیوپرڈز کی جانب سے علاؤالدین بابو اور شیخ پرویز جیون نے عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے تین تین وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کی کامیابی کو یقینی بنایا۔

مستقبل کے امکانات

ان فتوحات نے دونوں ٹیموں، لیجنڈز آف روپ گنج اور ڈھاکہ لیوپرڈز کا مورال بلند کر دیا ہے۔ جس طرح سے ان کے ٹاپ آرڈر بلے بازوں نے سنچریاں اسکور کی ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے میچوں میں بھی لیگ مزید سنسنی خیز ہوگی۔ خاص طور پر محمد مِتھن اور عاشق الرحمٰن شبلی کی فارم دوسری ٹیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

ڈھاکہ پریمیئر لیگ کا معیار اس سیزن میں مسلسل بہتر ہو رہا ہے، اور شائقین کو امید ہے کہ ٹورنامنٹ کے اگلے مراحل میں بھی انہیں ایسی ہی شاندار انفرادی اور اجتماعی کارکردگی دیکھنے کو ملے گی۔