بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں بین اسٹوکس کو پیچھے چھوڑ دیا: پاکستان بنگلہ دیش ٹیسٹ میں اہم سنگ میل
بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں بین اسٹوکس کو پیچھے چھوڑ دیا: سلہٹ ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے اہم سنگ میل
پاکستان کرکٹ کے مایہ ناز بلے باز اور سابق کپتان بابر اعظم نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) میں اپنی 28ویں نصف سنچری مکمل کر کے ایک بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ یہ اہم کارنامہ انہوں نے بنگلہ دیش کے خلاف سلہٹ میں کھیلے جا رہے موجودہ ٹیسٹ میچ کے دوران انجام دیا۔ اس نصف سنچری کے ساتھ ہی بابر اعظم نے انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جن کے نام 27 نصف سنچریاں ہیں۔ یہ سنگ میل بابر اعظم کے ٹیسٹ کیریئر کی ایک اور اہم کامیابی ہے جو عالمی کرکٹ میں ان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نصف سنچریوں کا ریکارڈ
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نصف سنچریوں کی فہرست میں انگلینڈ کے بلے باز جو روٹ 45 نصف سنچریوں کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ آسٹریلیا کے مارنس لابوشین 35 نصف سنچریوں کے ساتھ دوسرے اور اسٹیو اسمتھ 34 نصف سنچریوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر براجمان ہیں۔ بابر اعظم کا 28 نصف سنچریوں کے ساتھ اس ایلیٹ گروپ میں شامل ہونا ان کی مستقل مزاجی اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی گہری جڑوں کو ظاہر کرتا ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں میں رویندر جڈیجہ 23 نصف سنچریوں کے ساتھ سرفہرست ہیں، ان کے بعد رشبھ پنت 22 اور یشسوی جیسوال 20 نصف سنچریوں کے ساتھ موجود ہیں۔ بابر اعظم کا یہ کارنامہ نہ صرف ان کے لیے ذاتی طور پر اہم ہے بلکہ پاکستانی کرکٹ کے لیے بھی فخر کا باعث ہے۔
بابر اعظم، جو 31 سال کی عمر میں ہیں، نے ڈھاکہ میں کھیلے گئے افتتاحی میچ میں فٹنس مسائل کے باعث شرکت نہیں کی تھی اور امام الحق کی جگہ ٹیم میں واپس آئے تھے۔ ان کی واپسی سے قبل کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ وہ افتتاحی ٹیسٹ میں ناقص کارکردگی کے بعد شان مسعود کی جگہ نئے ٹیسٹ کپتان بننے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، ان کی واپسی نے ٹیم کو ایک تجربہ کار بلے باز فراہم کیا اور انہوں نے اپنی نصف سنچری کے ساتھ ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کی۔
بنگلہ دیشی باؤلرز کا پاکستان پر دباؤ
میچ کی صورتحال کے تناظر میں، بنگلہ دیش اپنی پہلی اننگز میں 278 رنز بنا کر آؤٹ ہو گیا تھا۔ جواب میں، پاکستانی ٹیم نے پہلے دن کا اختتام بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے کیا۔ تاہم، دوسرے دن بنگلہ دیشی باؤلرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بلے بازوں پر دباؤ بڑھایا۔ تسکین احمد نے دن کا پہلا شکار کیا جب انہوں نے عبداللہ فضل کو صرف نو رنز پر لٹن داس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ یہ پاکستان کے لیے پہلا دھچکا تھا اور اس کے بعد وکٹوں کے گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
تسکین احمد نے اپنی عمدہ باؤلنگ جاری رکھی اور جلد ہی اظان اویس کو 13 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔ ان دو ابتدائی وکٹوں نے پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کو ہلا کر رکھ دیا اور انہیں مشکلات سے دوچار کر دیا۔ کپتان شان مسعود اور بابر اعظم نے اس نازک صورتحال میں تیسری وکٹ کے لیے 38 رنز کی شراکت قائم کرنے کی کوشش کی، جو کہ ٹیم کو استحکام فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش تھی۔ تاہم، یہ شراکت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی جب مہدی حسن میراز نے شان مسعود کو 21 رنز پر آؤٹ کر کے بنگلہ دیش کو ایک اور اہم کامیابی دلائی۔
مہدی میراز نے اپنی اسپن باؤلنگ سے پاکستانی بلے بازوں کو مزید پریشان کیا اور جلد ہی سعود شکیل کو بھی چھ رنز پر آؤٹ کر دیا۔ اس طرح پاکستانی ٹیم نے وقفے وقفے سے وکٹیں گنوانا شروع کر دیں اور ان کی بیٹنگ لائن اپ پر دباؤ بڑھتا چلا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ناہد رانا نے پاکستان کے سابق کپتان بابر اعظم کی بڑی وکٹ حاصل کی، انہیں 40ویں اوور میں مشفق الرحیم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ بابر اعظم نے اپنی نصف سنچری تو مکمل کی لیکن وہ اپنی اننگز کو مزید آگے نہ بڑھا سکے جو کہ پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔
تائیجول اسلام کی تباہ کن باؤلنگ نے پاکستان کو مشکلات میں ڈال دیا
میزبان ٹیم نے میچ میں اپنی گرفت مضبوط کر لی جب بائیں ہاتھ کے اسپنر تائیجول اسلام نے پاکستانی مڈل اور لوئر آرڈر کو تہس نہس کر دیا۔ تائیجول نے پہلے سلمان آغا کو 21 رنز پر آؤٹ کیا، جو کہ ایک اہم وکٹ تھی۔ اس کے بعد انہوں نے محمد رضوان کو 13 اور حسن علی کو 18 رنز پر آؤٹ کر کے پاکستان کی رہی سہی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ان کی تباہ کن باؤلنگ نے پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کو مکمل طور پر بے بس کر دیا۔
چائے کے وقفے تک، پاکستانی ٹیم 206 رنز پر آٹھ وکٹوں کے نقصان پر تھی، اور اسے بنگلہ دیش کے اسکور کو پیچھے چھوڑنے کے لیے ابھی بھی 73 رنز درکار تھے۔ اس وقت ساجد خان 12 رنز پر اور خرم شہزاد 10 رنز پر کریز پر موجود تھے، جو کہ اپنی ٹیم کو مزید تباہی سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ میچ ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر پہنچ چکا تھا جہاں بنگلہ دیشی باؤلرز نے زبردست واپسی کی تھی اور پاکستانی بلے بازوں کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا تھا۔
بابر اعظم کی نصف سنچری بلاشبہ ان کی ذاتی کامیابی تھی لیکن ٹیم کی مجموعی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ ایک تلخ میٹھا لمحہ تھا۔ پاکستانی ٹیم کو اس میچ میں مضبوط واپسی کے لیے مزید محنت اور ایک بہتر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیشی باؤلرز نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ میچ پر اپنی گرفت مضبوط کیے ہوئے ہیں۔ اگلے سیشنز میں دیکھنا ہوگا کہ کیا پاکستانی ٹیم باقی ماندہ وکٹوں کے ساتھ بنگلہ دیش کے اسکور کو عبور کر پاتی ہے یا بنگلہ دیشی باؤلرز انہیں کم اسکور پر آؤٹ کر دیتے ہیں۔ یہ میچ ٹیسٹ کرکٹ کی خوبصورتی کا عکاس ہے جہاں ہر سیشن میں حالات بدل سکتے ہیں۔
