News

بنگلہ دیش حکومت کا 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ تنازعہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کا قیام

Snehe Roy · · 1 min read
Share

بنگلہ دیش کرکٹ میں ایک نیا موڑ: 2026 ورلڈ کپ تنازعہ کی تحقیقات شروع

بنگلہ دیش کی حکومت نے حال ہی میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ سابقہ حکومت کے دور میں بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت میں ہونے والے 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے کیوں روکا گیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو فروری اور مارچ میں ہونے والے ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔

کمیٹی کی تشکیل اور ذمہ داریاں

اسپورٹس منسٹری کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس تین رکنی کمیٹی کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر اے کے ایم ولی اللہ کریں گے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سابق بنگلہ دیشی کپتان اور چیف سلیکٹر حبیب البشر اور فیصل دستگیر شامل ہیں۔ اس کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان تمام عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لے جس کی وجہ سے بنگلہ دیش اپنی ٹیم ورلڈ کپ میں بھیجنے سے قاصر رہا۔ کمیٹی کو اپنی رپورٹ 15 کاروباری دنوں کے اندر جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے۔

تنازعہ کا پس منظر

یہ پورا واقعہ 3 جنوری کو شروع ہوا جب بی سی سی آئی نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت کی کہ وہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے اسکواڈ سے باہر کر دیں۔ اس وقت بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا تھا۔ اس اقدام کے ردعمل میں، اس وقت کے بنگلہ دیشی اسپورٹس ایڈوائزر آصف نذرل نے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا کہ آئی سی سی کو بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کر دینے چاہئیں۔

آصف نذرل کا موقف تھا کہ اگر ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی بھارت میں نہیں کھیل سکتا، تو پوری ٹیم وہاں محفوظ محسوس نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بی سی بی کو ہدایت کی تھی کہ وہ آئی سی سی کو اس معاملے سے آگاہ کرے اور مطالبہ کرے کہ میچز سری لنکا میں منعقد کیے جائیں۔

آئی سی سی کا ردعمل اور اخراج

بی سی بی کی جانب سے آئی سی سی کو آگاہ کرنے کے بعد، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کیونکہ ان کے مطابق بھارت میں سیکیورٹی کے کوئی ٹھوس خدشات موجود نہیں تھے۔ آئی سی سی کے وفد کے دورہ بنگلہ دیش کے باوجود یہ تعطل برقرار رہا۔ بالآخر 24 جنوری کو آئی سی سی بورڈ نے بنگلہ دیش کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے انہیں ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا اور ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا گیا۔

حکومتی تبدیلی اور تحقیقات کا ارادہ

بنگلہ دیش میں قومی انتخابات سے ایک دن قبل، آصف نذرل نے اپنے بیان سے یو-ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ورلڈ کپ سے دستبرداری کا فیصلہ نہیں کیا تھا بلکہ اس کا ذمہ دار کھلاڑیوں کو ٹھہرایا۔ تاہم، موجودہ حکومت کے قیام کے بعد اسپورٹس منسٹر امین الحق نے واضح کیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کھیلوں کے تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ بی سی بی اور سابقہ حکومت کی جانب سے اس معاملے کو جس انداز میں ہینڈل کیا گیا، اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔

یہ تحقیقات اس بات کا تعین کرے گی کہ کرکٹ کے میدان میں سیاست کا اثر کس حد تک تھا اور مستقبل میں ایسی غلطیوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ کرکٹ شائقین اب اس رپورٹ کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.