بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان: میرپور ٹیسٹ میں مومن الحق اور شانتو کا شاندار کھیل
میرپور ٹیسٹ: بنگلہ دیش کا پلڑا بھاری
میرپور میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کا کھیل بنگلہ دیشی بلے بازوں کے نام رہا۔ ابتدائی جھٹکوں کے بعد مومن الحق اور نجم الحسن شانتو نے ایک بار پھر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالا اور پاکستان کے خلاف اپنی برتری میں اضافہ کیا۔
ابتدائی مشکلات اور پاکستانی بولرز کا دباؤ
دن کے آغاز پر موسم قدرے ابر آلود تھا جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی پیسرز نے بنگلہ دیشی اوپنرز کو مشکلات میں ڈال دیا۔ محمد عباس نے محمود الحسن جوئے کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکے پہلا نقصان پہنچایا، جبکہ حسن علی نے شادمان اسلام کو گلی میں کیچ آؤٹ کروا کر میزبان ٹیم کو دباؤ میں لایا۔ اس وقت ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پاکستانی بولنگ اٹیک میچ پر حاوی ہو رہا ہے۔
مومن اور شانتو کی بحالی کا سفر
ایک بار پھر ٹیم کو بحران سے نکالنے کا کام مومن الحق اور نجم الحسن شانتو نے سنبھالا۔ یہ وہی جوڑی ہے جس نے پہلی اننگز میں بھی بنگلہ دیش کو مستحکم پوزیشن فراہم کی تھی۔ دونوں بلے بازوں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کا سامنا کیا اور آہستہ آہستہ سکور بورڈ کو حرکت دی۔
- مومن الحق کی محتاط بیٹنگ: مومن الحق نے اپنی روایتی محتاط انداز سے بیٹنگ کی اور وکٹ پر جم کر کھڑے رہے۔
- شانتو کی جارحانہ حکمت عملی: دوسری جانب شانتو نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے سکور کرنے کی رفتار بڑھائی اور اننگز کو آگے بڑھایا۔
لنچ تک کی صورتحال
لنچ بریک سے قبل کا آخری آدھا گھنٹہ بنگلہ دیشی بلے بازوں کے لیے خاصا سودمند رہا۔ اگرچہ پاکستان کے پاس موقع تھا کہ وہ اس شراکت داری کو توڑ سکے، لیکن محمد رضوان سے ایک مشکل کیچ چھوٹ گیا جس کا بنگلہ دیش نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سیشن کے اختتام سے قبل مومن الحق نے سلمان آغا کی گیند پر ایک شاندار شاٹ کھیل کر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔
لنچ تک بنگلہ دیش کا سکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 93 رنز تک پہنچ چکا تھا اور انہیں پاکستان پر مجموعی طور پر 120 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔ اس شراکت داری نے نہ صرف میچ میں بنگلہ دیش کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے بلکہ پاکستان کے لیے چوتھی اننگز میں ہدف کا پیچھا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
میچ کا تناظر
پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 386 رنز بنا سکی تھی، جس میں اویس علی کی سنچری اور فضل، رضوان اور آغا سلمان کی نصف سنچریاں شامل تھیں۔ بنگلہ دیش کی پہلی اننگز کے 413 رنز کے جواب میں پاکستان کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب چوتھے دن کے کھیل کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم ڈرا یا جیت کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے، جبکہ پاکستان کو میچ میں واپسی کے لیے تیزی سے وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی۔
آنے والے سیشنز میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا بنگلہ دیشی بلے باز اپنی اس برتری کو مزید کتنا بڑھا پاتے ہیں اور کیا پاکستانی بولرز آخری سیشن میں کوئی بڑی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
