Bangladesh Cricket

BCB appoints only one vice president as Fahim Sinha takes role – بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا بڑا فیصلہ

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی نئی کمیٹی اور نائب صدر کا تقرر

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (BCB) کی نومنتخب انتظامیہ نے بورڈ کے معاملات کو منظم کرنے کے لیے پہلا بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ بورڈ کے آئین کے مطابق، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں بیک وقت دو نائب صدور کی گنجائش موجود ہے۔ اگر ماضی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو امین الاسلام بلبل کی قیادت میں قائم گزشتہ بورڈ میں بھی دو نائب صدور نے اپنی خدمات سرانجام دی تھیں۔ تاہم، موجودہ نومنتخب کمیٹی میں ایک منفرد اور اہم فیصلہ لیتے ہوئے فی الحال صرف فہیم سنہا کو ہی نائب صدر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ اہم تبدیلی سرخیوں کا حصہ بنی ہوئی ہے۔

فہیم سنہا کا بطور واحد نائب صدر انتخاب

تجربہ کار کرکٹ منتظم فہیم سنہا اس وقت بورڈ کے تمام اراکین کی جانب سے اس اہم ترین ذمہ داری کے لیے واحد اور متفقہ انتخاب بن کر سامنے آئے ہیں۔ جہاں ایک طرف فہیم سنہا کو نائب صدر کی اہم ترین کرسی سونپ دی گئی ہے، وہاں دوسری طرف بورڈ کے دیگر نومنتخب اراکین کو تاحال مخصوص اور الگ الگ تنظیمی ذمہ داریاں تفویض کی جانی باقی ہیں۔ بورڈ کے صدر تمیم اقبال کے مطابق، دیگر اراکین کے محکموں اور کرداروں کا فیصلہ بھی جلد ہی باہمی مشاورت سے کر لیا جائے گا، لیکن فی الحال فہیم سنہا کو اس عہدے پر لا کر بورڈ نے اپنے باضابطہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔

صدر تمیم اقبال کا موقف اور مستقبل کا لائحہ عمل

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے نومنتخب صدر تمیم اقبال نے اس اہم فیصلے کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ یہ فیصلہ بورڈ کے تمام معزز اراکین کے ساتھ تفصیلی گفتگو اور مشاورت کے بعد ہی عمل میں لایا گیا ہے۔ تمیم اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال صرف ایک ہی نائب صدر مقرر کرنے کی تجویز خود انہوں نے پیش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا: “میں نے ہی یہ تجویز دی تھی کہ اس وقت صرف ایک نائب صدر کا تقرر کیا جائے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم مستقبل میں دوسرا نائب صدر مقرر نہیں کریں گے۔ اگر بورڈ کو آگے چل کر یہ محسوس ہوا کہ دوسرے نائب صدر کی ضرورت ہے، تو ہم یقیناً آئین کے مطابق ایک اور نائب صدر کا تقرر کر لیں گے۔ فی الحال، بورڈ نے متفقہ طور پر اس فیصلے پر اتفاق کیا ہے اور فہیم سنہا کو سب کی رضامندی اور حمایت سے اس عہدے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔”

بورڈ کے متفقہ فیصلے کی اہمیت

تمیم اقبال نے بورڈ کے جمہوری عمل اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے مزید وضاحت کی کہ انفرادی آراء کے مقابلے میں بورڈ کا اجتماعی فیصلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا: “اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انفرادی طور پر آپ یا میں کیا سوچتے ہیں۔ بورڈ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایک نائب صدر کے ساتھ کام شروع کریں گے، اور بورڈ کے تمام اراکین نے ہاتھ اٹھا کر اس فیصلے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ میں دوبارہ اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے۔ اگر مستقبل میں ضرورت محسوس ہوئی تو کسی بھی کیٹیگری سے دوسرے نائب صدر کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ بورڈ کا بنیادی مقصد بنگلہ دیش کرکٹ کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا ہے۔”

ای ووٹنگ کا تنازع اور صدر کے خدشات

اس اہم اجلاس کے دوران کرکٹ بورڈ کے انتخابات میں ماضی میں زیر بحث رہنے والے ای ووٹنگ (e-voting) کے متنازع معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ یاد رہے کہ پچھلے انتخابات کے دوران ای ووٹنگ کا طریقہ کار کافی تنازعات کا شکار رہا تھا، جس پر اب موجودہ صدر تمیم اقبال نے اپنا واضح موقف پیش کیا ہے۔ تمیم اقبال کا کہنا تھا کہ انہیں ای ووٹنگ کے بنیادی تصور سے کوئی اختلاف نہیں ہے، بلکہ ان کے تحفظات اس کے غلط استعمال سے متعلق تھے۔

صدر تمیم اقبال نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا: “میں نے ای ووٹنگ کے حوالے سے پہلے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ میرا اصل اعتراض اور تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب 30 سے 40 لوگ ایک ہی جگہ جمع ہو کر ایک ساتھ ووٹ ڈالتے ہیں۔ یہ چیز انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے گھر سے انفرادی طور پر اور تنہا بیٹھ کر ای ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کرتا ہے، تو وہ بالکل ایک الگ اور درست طریقہ کار ہے۔ لیکن اگر 20 یا 30 لوگ ایک جگہ بیٹھ کر گروپ کی شکل میں ووٹ ڈالتے ہیں، تو یہ عمل غیر منصفانہ اور مشکوک بن جاتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ ای ووٹنگ ہمارے آئین کا حصہ ہے، اس لیے ہمیں اس کی روح کے مطابق شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔”

خلاصہ اور آئندہ کے امکانات

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں ہونے والی یہ حالیہ تبدیلیاں اور فہیم سنہا کا بطور واحد نائب صدر انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ نئی انتظامیہ محتاط اور منظم انداز میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جہاں ایک طرف انتظامی امور کو سنبھالنے کے لیے فہیم سنہا جیسے تجربہ کار منتظم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، وہاں دوسری طرف صدر تمیم اقبال کی قیادت میں بورڈ نے مستقبل میں ضرورت کے مطابق فیصلے کرنے کا آپشن بھی کھلا رکھا ہے۔ شائقینِ کرکٹ اور تجزیہ کاروں کو امید ہے کہ یہ نئی انتظامیہ بنگلہ دیش میں کرکٹ کے تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنائے گی اور ماضی کے تنازعات، خاص طور پر انتخابی شفافیت اور ای ووٹنگ کے مسائل کو احسن طریقے سے حل کرنے میں کامیاب رہے گی۔