بی سی سی آئی: جسپریت بمراہ کے متبادل کے طور پر پرنس یادو کا نام سامنے آگیا
بھارتی کرکٹ میں نئی تبدیلی: جسپریت بمراہ کے ورک لوڈ کا اثر
جسپریت بمراہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے وہ ستون ہیں جن پر وائٹ بال اور ریڈ بال دونوں فارمیٹس کا دارومدار ہے۔ تاہم، 2025 کے بارڈر-گاوسکر ٹرافی کے بعد سے ہی ان کے ورک لوڈ مینجمنٹ پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسے بولر کے لیے جو تمام فارمیٹس میں مسلسل کھیل رہا ہو، آرام کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بمراہ جون میں افغانستان کے خلاف ہونے والی ون ڈے سیریز یا واحد ٹیسٹ میچ میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے۔
پرنس یادو: بی سی سی آئی کی نظروں میں نیا ٹیلنٹ
منی کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی نے جسپریت بمراہ کی غیر موجودگی میں دہلی سے تعلق رکھنے والے اور لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے کھیلنے والے نوجوان فاسٹ بولر پرنس یادو کو متبادل کے طور پر شارٹ لسٹ کیا ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں ان کی کارکردگی نے سلیکٹرز کو متاثر کیا ہے، خاص طور پر ان کی 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار اور وکٹ لینے کی صلاحیت نے انہیں قومی کال اپ کا مضبوط امیدوار بنا دیا ہے۔
آئی پی ایل 2026 میں فارم کا تجزیہ
پرنس یادو نے آئی پی ایل 2026 کے 12 میچوں میں 16 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ ان کی اسٹرائیک ریٹ 16.00 رہی ہے۔ اگرچہ ٹورنامنٹ کے آخری مراحل میں ان کی کارکردگی میں کچھ اتار چڑھاؤ آیا، لیکن دو مرتبہ تین وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ دباؤ میں بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اس کے برعکس، جسپریت بمراہ کے لیے آئی پی ایل 2026 انتہائی مایوس کن رہا۔ 2016 کے بعد یہ ان کا بدترین سیزن ثابت ہوا، جہاں وہ 12 میچوں میں صرف 3 وکٹیں حاصل کر سکے۔ ان کی اکانومی ریٹ 8.53 رہی، جو ان کے معیار کے مطابق کافی مہنگی تھی۔
ون ڈے سیریز: پرنس یادو کے لیے سنہری موقع
بی سی سی آئی انتظامیہ اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ بمراہ کو ورک لوڈ کو دیکھتے ہوئے صرف ٹیسٹ میچوں پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر بمراہ افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز سے باہر ہوتے ہیں تو پرنس یادو کا قومی ٹیم میں داخلہ تقریباً یقینی ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں ہارشیت رانا کی انجری کے باعث پرنس یادو کے لیے دروازے مزید کھل گئے ہیں۔
اگر سلیکشن کمیٹی روایتی انداز برقرار رکھتی ہے، تو ریڈ بال کرکٹ میں محمد سراج اور پرسید کرشنا کے ساتھ جموں و کشمیر کے عاقب نبی جیسے کھلاڑیوں کو بھی موقع مل سکتا ہے۔ تاہم، ون ڈے سیریز ہی وہ واحد موقع ہے جہاں پرنس یادو جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑی کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع ملے گا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
گوتھم گمبھیر اور اجیت اگرکر کی قیادت میں سلیکشن کمیٹی اب ٹیم کی تشکیل نو پر کام کر رہی ہے۔ ٹیم انتظامیہ کا مقصد 2027 کے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ٹیلنٹ کو موقع فراہم کرنا ہے۔ پرنس یادو جیسے بولرز کا منظر عام پر آنا بھارتی پیس اٹیک کے مستقبل کے لیے نیک شگون ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا پرنس یادو اپنی اس فارم کو بین الاقوامی کرکٹ میں بھی برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔
بہرحال، جسپریت بمراہ جیسے بڑے نام کا ورک لوڈ مینجمنٹ اب ٹیم انڈیا کی اولین ترجیح بن چکا ہے، جس کا براہ راست فائدہ ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو مل رہا ہے۔
