News

بھونیشور کمار: کرکٹنگ آئی کیو اور فن کی ایک نئی داستان

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

بھونیشور کمار: ایک تجربہ کار آرٹسٹ کا جادو

کرکٹ کی دنیا میں اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ عمر کے ساتھ رفتار کم ہو جاتی ہے، لیکن بھونیشور کمار نے آئی پی ایل 2026 میں اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ 36 سال سے زائد عمر میں بھی، بھونیشور کی کارکردگی میں وہ تازگی اور نفاست ہے کہ امباتی رائیڈو جیسے تجربہ کار کھلاڑی انہیں ‘ایک آرٹسٹ’ قرار دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ رائی پور کے میدان پر رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) اور ممبئی انڈینز (ایم آئی) کے درمیان ہونے والے میچ میں انہوں نے جس طرح گیند اور بلے سے کمال دکھایا، وہ ایک یادگار منظر تھا۔

گیند بازی کا جادو: چار وکٹوں کا طوفان

بھونیشور کمار کی گیند بازی اس میچ کی خاص بات تھی۔ انہوں نے ممبئی انڈینز کے اہم بلے بازوں کو اپنی سوئنگ اور کنٹرول سے پریشان کیا۔ امباتی رائیڈو نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھونیشور کی سب سے بڑی طاقت ان کی گیند بازی کا زاویہ ہے۔ اکثر باؤنسی پچز پر گیند اسٹمپ سے دور رہتی ہے، لیکن بھونیشور کی گیندیں اس طرح کی پچز پر بلے بازوں کو ایل بی ڈبلیو یا کیچ آؤٹ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔

  • ریان ریکلیٹن: پہلی ہی اوور میں وکٹ حاصل کر کے ٹیم کو ابتدائی برتری دلائی۔
  • روہت شرما: نکل بال کا شاندار استعمال کر کے وکٹ کے پیچھے کیچ کروایا۔
  • سوریا کمار یادو: لیٹ سوئنگ کے ذریعے سلپ میں ویرات کوہلی کو کیچ تھمایا۔
  • تلک ورما: 18ویں اوور میں شاندار گیند بازی سے وکٹیں بکھیر دیں۔

اس شاندار کارکردگی کے بعد بھونیشور نے 4 وکٹیں حاصل کیں اور پرپل کیپ کی دوڑ میں سرفہرست آ گئے۔ یہ صرف رفتار کا کھیل نہیں تھا، بلکہ یہ اس ‘ریلیز’ کا جادو تھا جو انہوں نے اپنے عروج کے دور یعنی 2016 اور 2017 میں دکھایا تھا۔

کرکٹنگ آئی کیو: جیت کی اصل کنجی

ڈیپ داس گپتا کا ماننا ہے کہ بھونیشور کی کامیابی کا راز ان کی گیند کی ریلیز اور بیک اسپن میں پوشیدہ ہے۔ 133-134 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے باوجود، بلے باز ان کی گیندوں پر جلدی کرنے پر مجبور ہو رہے تھے، جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے اپنی پرانی تکنیک کو دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

تاہم، گیند بازی سے ہٹ کر ان کی بیٹنگ بھی اس دن خاص تھی۔ میچ کے آخری لمحات میں جب آر سی بی کو جیت کے لیے رنز درکار تھے، بھونیشور نے ایک شاندار چھکا لگا کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ انہوں نے خود اعتراف کیا کہ یہ چھکا انہیں اپنی چار وکٹوں سے زیادہ عزیز تھا۔

ذہانت کا عملی مظاہرہ

بھونیشور کی کرکٹنگ ذہانت اس وقت عیاں ہوئی جب انہوں نے آخری اوور میں سنگل لینے سے انکار کر دیا تاکہ نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود راسم سلام کو اسٹرائیک نہ ملے۔ انہوں نے جانتے بوجھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ رن آؤٹ ہو جاتے ہیں، تو میچ کا نتیجہ بدل سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ان کی گہری کرکٹنگ سوجھ بوجھ کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

آج کے دور میں جہاں کھلاڑی صرف اپنی طاقت پر انحصار کرتے ہیں، وہاں بھونیشور کمار کا ‘آرٹسٹ’ بننا اور اپنے ‘کرکٹنگ آئی کیو’ کا استعمال کرنا نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر آپ کے پاس مہارت اور ذہانت کا حسین امتزاج ہے، تو آپ کسی بھی عمر میں کرکٹ کے میدان پر حکمرانی کر سکتے ہیں۔