Cricket News

انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان ایم جے کے اسمتھ 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

Siddharth Rao · · 1 min read
Share

کرکٹ کی دنیا ایک عظیم لیجنڈ سے محروم: ایم جے کے اسمتھ کا انتقال

کرکٹ کی تاریخ میں اپنی انفرادی مہارت اور قیادت کے جوہر دکھانے والے انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کپتان ایم جے کے اسمتھ (MJK Smith) 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ اتوار کے روز ان کی وفات کی خبر نے کرکٹ کے حلقوں میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ وہ نہ صرف اپنے دور کے ایک بہترین بلے باز تھے بلکہ ایک ایسے کپتان بھی تھے جنہیں ان کے ساتھی اور حریف یکساں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

ایم جے کے اسمتھ کا شاندار ٹیسٹ کیریئر

ایم جے کے اسمتھ نے 14 سال پر محیط اپنے ٹیسٹ کیریئر میں انگلینڈ کی جانب سے 50 میچ کھیلے۔ ان کی قیادت کی صلاحیتیں اس وقت کھل کر سامنے آئیں جب انہوں نے 25 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی ٹیم کی کپتانی کے فرائض سرانجام دیے۔ ان کا ٹیسٹ ڈیبیو 1958 میں نیوزی لینڈ کے خلاف برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ پر ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ 1972 میں آسٹریلیا کے خلاف ناٹنگھم میں کھیلا۔

اپنے ٹیسٹ کیریئر کے دوران انہوں نے 2,278 رنز بنائے، جس میں تین شاندار سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ کرکٹ کے میدان میں اپنی تکنیک اور گیند کی لائن اور لینتھ کو سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت کے لیے مشہور تھے۔ چشمہ پہن کر کرکٹ کھیلنے کے باوجود ان کی نظر اور بلے بازی میں جو نفاست تھی، اس نے انہیں بولرز کے لیے ایک مشکل حریف بنا دیا تھا۔

ایک ورسٹائل بلے باز اور ماہر قائد

ایم جے کے اسمتھ کی بلے بازی میں ایک خاص قسم کی طاقت اور درستگی شامل تھی۔ ان کے ‘سویپ’ اور ‘پل’ شاٹس اتنے موثر تھے کہ وہ مشکل ترین گیندوں پر بھی مڈ وکٹ کی جانب رنز بنانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف انگلینڈ میں بلکہ ہندوستان، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے دوروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور خود کو ایک قابل موافقت کھلاڑی ثابت کیا۔

واروکشائر کا ناقابل فراموش ہیرو

اگرچہ وہ لیسٹر شائر میں پیدا ہوئے، لیکن ایم جے کے اسمتھ کا نام واروکشائر کاؤنٹی کے ساتھ جڑ گیا تھا۔ 1951 میں اپنا فرسٹ کلاس کیریئر شروع کرنے کے بعد، وہ واروکشائر کی تاریخ کا سب سے بڑا نام بن گئے۔ 1957 سے 1967 تک انہوں نے واروکشائر کی قیادت کی اور اپنی ٹیم کو کئی دہائیوں تک کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔

ان کے فرسٹ کلاس اعدادوشمار حیران کن ہیں: 637 میچوں میں 39,832 رنز اور 69 سنچریاں۔ صرف واروکشائر کے لیے انہوں نے 43.10 کی اوسط سے 27,672 رنز سکور کیے۔ 1959 کے سیزن میں ان کے 2,417 رنز کا ریکارڈ آج بھی واروکشائر کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ کرکٹ سے جڑے رہے اور آئی سی سی میچ ریفری کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔

کرکٹ برادری کا خراج تحسین

ایم جے کے اسمتھ کے انتقال پر انگلینڈ کی تمام کاؤنٹیز اور کرکٹ کے کھلاڑیوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہیں نہ صرف ایک کھلاڑی بلکہ ایک عظیم انسان اور ‘جنٹل مین’ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ واروکشائر اور گلیمورگن کے درمیان ہونے والے کاؤنٹی چیمپئن شپ میچ کے چوتھے دن، کھلاڑیوں اور آفیشلز نے میدان میں کھڑے ہو کر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ یہ مناظر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کرکٹ کی دنیا میں ایم جے کے اسمتھ کا مقام کتنا بلند تھا۔

ان کا انتقال یقیناً ایک دور کا اختتام ہے، لیکن ان کی قیادت، کھیل کے لیے ان کا جذبہ اور میدان میں ان کا شاندار رویہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔ وہ ایک ایسے کرکٹر تھے جنہوں نے کرکٹ کو محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک فن کے طور پر برتا۔