News

‘Positive move’ – Gambhir throws his weight behind red-ball-pink-ball switch

Snehe Roy · · 1 min read
Share

کرکٹ میں ایک انقلابی تبدیلی کی حمایت

انڈین کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیا ہے جس میں انہوں نے آئی سی سی کی اس تجویز کی مکمل حمایت کی ہے کہ اگر ٹیسٹ میچ کے دوران خراب روشنی کی وجہ سے کھیل متاثر ہو رہا ہو تو ریڈ بال کو پنک بال سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ گمبھیر کا ماننا ہے کہ کھیل کا نتیجہ نکلنا ہر صورت میں ضروری ہے اور یہ فیصلہ میچ کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ خیز کرکٹ کی اہمیت

ایک پریس کانفرنس کے دوران گمبھیر نے وضاحت کی کہ وہ اس تبدیلی کے حق میں کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘میں اس آئیڈیا سے بہت متاثر ہوں کیونکہ میرا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ اگر میچ کا نتیجہ حاصل کرنے کا کوئی موقع موجود ہے تو اسے ضرور استعمال کرنا چاہیے۔ تصور کریں کہ آپ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل سے پہلے آخری ٹیسٹ کھیل رہے ہیں اور آپ کو کوالیفائی کرنے کے لیے جیت درکار ہے، لیکن خراب روشنی کی وجہ سے کھیل نہیں ہو پا رہا، تو یہ کتنا مایوس کن ہوگا۔’

شرائط اور ضوابط

تاہم، اس تبدیلی کے لیے آئی سی سی نے یہ شرط رکھی ہے کہ دونوں کپتانوں کا اس پر رضامند ہونا ضروری ہے۔ گمبھیر نے تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ کبھی کبھی کھلاڑیوں کے لیے غیر منصفانہ یا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ کھیل کی بہتری کے لیے ایک جرات مندانہ اور مثبت قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کو اس تبدیلی کو ایک مثبت پہلو سے دیکھنا چاہیے تاکہ کھیل کو کسی بھی صورت میں مکمل کیا جا سکے۔

ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اور ٹیم انڈیا کا عزم

بھارتی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر بات کرتے ہوئے، گمبھیر نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں شکست کے باوجود پرامید لہجہ اختیار کیا۔ فی الحال انڈیا ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل پر چھٹے نمبر پر موجود ہے، لیکن کوچ کو یقین ہے کہ ٹیم میں موجود ٹیلنٹ اور بھوک (Hunger) انہیں فائنل تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریسنگ روم میں ہر کوئی اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سائی سدرشن اور ٹیم میں مواقع

ٹیم کے انتخاب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گمبھیر نے سائی سدرشن کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سدرشن کو ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں مناسب موقع نہیں ملا۔ جبکہ دیودت پڈیکل نے رانجی ٹرافی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن گمبھیر کا ماننا ہے کہ سائی کو مزید مواقع دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خود کو ثابت کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیم میں کھلاڑیوں کو صرف چند میچوں کی بنیاد پر جج نہیں کیا جا سکتا، بلکہ انہیں اپنی قابلیت دکھانے کے لیے ایک ‘فیئر رن’ (مناسب موقع) دینا ضروری ہے۔

مستقبل کے چیلنجز

آنے والے مہینوں میں انڈیا کو سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف اہم دورے کرنے ہیں۔ ان سیریز میں ٹیم کا مقصد اپنی کمزوریوں کو دور کرنا اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی دوڑ میں واپس آنا ہے۔ گمبھیر کی قیادت میں، ٹیم انڈیا کا یہ سفر یقینی طور پر دلچسپ رہے گا، خاص طور پر جب وہ کھیل کو بہتر بنانے کے لیے جدید اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔

آخر میں، گمبھیر نے یہ واضح کیا کہ ٹیم کا ہر رکن، چاہے وہ نیا ہو یا پرانا، اپنے موقع کا منتظر ہے اور جب بھی ان کا وقت آئے گا، انہیں پورا اعتماد دیا جائے گا۔ کرکٹ میں اس طرح کے تکنیکی اور انتظامی فیصلوں کا مقصد صرف کھیل کو شفاف اور نتیجہ خیز بنانا ہے۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.