گوتھم گمبھیر کا بڑا فیصلہ: بھارت بمقابلہ افغانستان ون ڈے اسکواڈ میں کون ہوگا وکٹ کیپر؟
بھارت بمقابلہ افغانستان: ون ڈے اسکواڈ کی تشکیل میں نئے چیلنجز
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کے اختتام کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کو افغانستان کے خلاف ایک ٹیسٹ اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) کی جانب سے ابھی تک اسکواڈ کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن کرکٹ کے حلقوں میں انتخاب کے حوالے سے قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔
وکٹ کیپنگ کی دوڑ: سنجو سیمسن بمقابلہ ایشان کشن
بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتھم گمبھیر کے سامنے سب سے بڑا سوال متبادل وکٹ کیپر کا انتخاب ہے۔ خبروں کے مطابق، رشبھ پنت کے ون ڈے فارمیٹ میں حالیہ ریکارڈ اور آئی پی ایل 2026 کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، بی سی سی آئی اب ان سے آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس خالی جگہ کو پُر کرنے کے لیے سنجو سیمسن اور ایشان کشن مضبوط امیدوار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، چنئی سپر کنگز (CSK) میں ایم ایس دھونی کے جانشین کے طور پر کھیلنے والے سنجو سیمسن کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ سیمسن، جو آخری بار دسمبر 2023 میں ون ڈے میچ کھیلے تھے، اپنی فارم کی وجہ سے مضبوط پوزیشن میں ہیں۔
اعداد و شمار کا موازنہ
ایشان کشن کو ماضی میں گوتھم گمبھیر کی قیادت میں زیادہ مواقع ملے ہیں اور وہ 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ اسکواڈ کا بھی حصہ تھے۔ تاہم، اگر ہم آئی پی ایل 2026 کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو سنجو سیمسن کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔
- سنجو سیمسن: 12 میچوں میں 450 رنز، دو سنچریاں۔
- ایشان کشن: 12 میچوں میں 420 رنز، 185.84 کا اسٹرائیک ریٹ۔
سیمسن جہاں اپنی مستقل مزاجی اور سنچریوں کی بدولت ٹیم میں واپسی کے لیے پرامید ہیں، وہیں کشن اپنے تیز اسٹرائیک ریٹ کے باعث مڈل آرڈر کے لیے ایک کارآمد کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں۔
تیز گیند بازی کا بحران
وکٹ کیپنگ کے علاوہ، فاسٹ بولنگ کا شعبہ بھی کوچنگ اسٹاف کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ جسپریت بمراہ کو آرام دیے جانے اور ہرشت رانا کے انجرڈ ہونے کے بعد، بھارتی بولنگ اٹیک میں گہرائی کی کمی ہے۔ محمد سراج مکمل فٹ ہیں، جبکہ ارشدیپ سنگھ بھی معمولی انجری کا شکار ہیں۔
ایسی صورتحال میں، گوتھم گمبھیر کے پاس آئی پی ایل 2026 میں اچھی کارکردگی دکھانے والے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں جیسے کہ پرنس یادو، کارتک تیاگی اور پرسیدھ کرشنا کو آزمانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
نتیجہ
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا گوتھم گمبھیر تجربے کو ترجیح دیتے ہیں یا نئے ٹیلنٹ پر اعتماد کرتے ہیں۔ افغانستان کے خلاف یہ سیریز بھارت کے لیے اپنے نئے ون ڈے سیٹ اپ کو مستحکم کرنے کا ایک بہترین موقع ہے تاکہ آئندہ بڑے ایونٹس کے لیے ٹیم کو تیار کیا جا سکے۔ شائقین کی نظریں اب بی سی سی آئی کے حتمی اعلان پر جمی ہوئی ہیں کہ کون سے کھلاڑی ٹیم کا حصہ بنتے ہیں۔
