IPL 2026: کیا پلے آف میچز بند دروازوں کے پیچھے ہوں گے؟ ایندھن کے بحران پر بڑی تجویز
آئی پی ایل 2026: کیا پلے آف میچز کے شیڈول میں تبدیلی متوقع ہے؟
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن اپنے فیصلہ کن مرحلے کی جانب گامزن ہے، تاہم پلے آف کے انعقاد سے قبل ہی ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بھارت میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں، ‘چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری’ (CTI) نے مرکزی وزارت کھیل سے مطالبہ کیا ہے کہ پلے آف میچز کے دوران ایندھن کی بچت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
پلے آف کی دوڑ اور خدشات
آئی پی ایل 2026 کا پلے آف مرحلہ 26 مئی بروز منگل سے شروع ہونا ہے۔ دفاعی چیمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) نے پنجاب کنگز کو شکست دے کر پلے آف میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے، جبکہ گجرات ٹائٹنز، سن رائزرز حیدرآباد، راجستھان رائلز، اور چنئی سپر کنگز کے درمیان بقیہ تین نشستوں کے لیے کانٹے کا مقابلہ جاری ہے۔ ان حالات میں سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے وفاقی وزیر کھیل منسکھ مانڈویہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ میچوں کے انعقاد کے مقامات کی تعداد کم کی جائے اور تماشائیوں کی آمدورفت کو محدود کیا جائے۔
ایندھن کا بحران اور ماحولیاتی اثرات
برجیش گوئل کا موقف ہے کہ یہ اقدامات قومی مفاد میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میچوں کے لیے فضائی سفر کو کم کرنا اور بند دروازوں کے پیچھے مقابلے کروانا نہ صرف لاکھوں لیٹر پیٹرول اور ڈیزل کی بچت کرے گا بلکہ ٹورنامنٹ کے کاربن فٹ پرنٹ کو بھی کم کرنے میں مدد دے گا۔ رپورٹ کے مطابق، ایک آئی پی ایل فرنچائز پورے سیزن کے دوران تقریباً 50,000 سے 70,000 لیٹر ایندھن صرف اپنی پروازوں پر خرچ کرتی ہے۔
بند دروازوں کے پیچھے میچز: کیا ماضی کا تجربہ دہرایا جائے گا؟
سی ٹی آئی چیئرمین نے اپنے اس مطالبے کو تقویت دینے کے لیے کووڈ-19 کے دوران منعقدہ آئی پی ایل سیزن کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جب بی سی سی آئی ماضی میں بائیو سیکیور ببل کے تحت میچز کروا سکتا ہے، تو اب بھی ایندھن بچانے کے لیے اسی طرح کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسٹیڈیمز میں آنے والے 50,000 سے زائد تماشائیوں کی نقل و حرکت بھی ایندھن کے ضیاع کا ایک بڑا سبب بنتی ہے۔
بی سی سی آئی کا ردعمل
ان تمام تر مطالبات اور خبروں کے درمیان، آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل نے واضح کیا ہے کہ بی سی سی آئی کو تاحال حکومتی سطح پر ایسی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے ‘دی نیو انڈین ایکسپریس’ سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘آزاد اداروں کی اپنی رائے ہو سکتی ہے، لیکن ہم حکومتِ ہند کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اگر حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ہدایات آتی ہیں، تو ہم اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔’
مستقبل کے فیصلے
فی الحال، بی سی سی آئی نے آئی پی ایل 2026 کے پلے آف شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ 28 مارچ سے شروع ہونے والا یہ ٹورنامنٹ اپنی معمول کی رفتار سے جاری ہے، تاہم بورڈ موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ کرکٹ شائقین اب اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا یہ میچز روایتی جوش و خروش کے ساتھ اسٹیڈیمز میں کھیلے جائیں گے یا ایندھن کے بحران کے پیش نظر کوئی نیا فیصلہ سامنے آئے گا۔
کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل شائقین کو سرکاری اعلانات کا انتظار کرنا ہوگا۔ بی سی سی آئی کا موقف ہے کہ عوامی مفاد اور حکومتی پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ٹورنامنٹ کے بقیہ حصے کا انعقاد کیا جائے گا۔
