جیکب بیتھل کا آئی پی ایل اور کاؤنٹی ڈیبیٹ پر دو ٹوک موقف
جیکب بیتھل: آئی پی ایل میں شرکت کا فیصلہ اور ناقدین کا ردعمل
کرکٹ کی دنیا میں اکثر کھلاڑیوں کے لیے کلب کرکٹ اور انٹرنیشنل لیگز کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ حال ہی میں انگلینڈ کے ابھرتے ہوئے اسٹار جیکب بیتھل نے آئی پی ایل 2026 میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کے ساتھ اپنے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں کاؤنٹی چیمپئن شپ کو ترجیح دینی چاہیے تھی، تو بیتھل کا جواب انتہائی واضح اور پراعتماد تھا۔
آئی پی ایل کی اہمیت اور کیریئر کی نشوونما
بیتھل نے رائے پور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ، یہ سال کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہے جہاں دنیا کے بہترین کھلاڑی ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہاں شرکت کرنا ان کے کیریئر کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ بیتھل نے کہا، مجھے یقین ہے کہ یہ تجربہ میری کرکٹ کو بلندیوں پر لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
سابقہ کرکٹرز کی تنقید
یاد رہے کہ ایلسٹر کک جیسے سابق کپتانوں نے یہ رائے دی تھی کہ بیتھل کو آئی پی ایل میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کاؤنٹی کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے۔ دوسری طرف کیون پیٹرسن جیسے کھلاڑیوں نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ آئی پی ایل کا ماحول نوجوان کھلاڑیوں کی تیزی سے نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ بیتھل نے ان تمام آراء کا احترام کرتے ہوئے کہا، ہر کسی کو اپنی رائے دینے کا حق ہے، لیکن ذاتی طور پر میں اپنے فیصلے سے مطمئن ہوں اور اپنی موجودہ پوزیشن سے خوش ہوں۔
فارم اور میدان میں واپسی
اگرچہ بیتھل نے اب تک آئی پی ایل میں اپنی صلاحیتوں کا مکمل لوہا نہیں منوایا ہے، تاہم وہ اپنی فارم کی واپسی کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اپنی توقعات کے مطابق آغاز نہیں ملا، لیکن وہ آنے والے میچوں میں ٹیم کے لیے بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے بے تاب ہیں۔ انہوں نے ویرات کوہلی کے ساتھ بیٹنگ کرنے کے تجربے کو بھی یادگار قرار دیا اور کہا کہ کوہلی جیسے لیجنڈ کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنا اور بیٹنگ کرنا ایک منفرد اعزاز ہے۔
مستقبل کے اہداف
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ٹیم میں اپنی جگہ کے لیے خوفزدہ ہیں، تو بیتھل نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا، میں اپنی جگہ بچانے کے لیے نہیں بلکہ ٹیم کے لیے رنز بنانے کی بھوک لے کر کھیلتا ہوں۔ جب آپ ٹیم کی جیت میں کردار ادا نہیں کر پاتے تو وہ اچھا محسوس نہیں ہوتا۔ اب میری پوری توجہ اگلے میچ اور اپنی اگلی اننگز پر مرکوز ہے۔
اے بی ڈی ویلیئرز کے تبصرے پر دلچسپ ردعمل
انٹرویو کے اختتام پر جب بیتھل سے پوچھا گیا کہ اے بی ڈی ویلیئرز نے ان کا موازنہ ویبھو سوریاونشی سے کیا ہے، تو وہ مسکرا دیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت زبردست ہے کہ ڈی ویلیئرز جیسے کھلاڑی نے میرا نام لیا، لیکن ابھی مجھے خود کو مزید ثابت کرنا ہے۔ بیتھل کا یہ پراعتماد انداز ظاہر کرتا ہے کہ وہ دباؤ میں بھی اپنی سوچ کو مثبت رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آخر میں، جب ان سے آئی پی ایل کی ٹاپ فور ٹیموں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، آر سی بی اور تین دیگر۔ یہ ان کا اپنے ہوم کلب کے ساتھ لگاؤ اور اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
