Latest Cricket News

IPL 2026: کرس شری کانت کا راجستھان رائلز کی ناقص حکمت عملی پر سخت ردعمل

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

آئی پی ایل 2026: راجستھان رائلز کا بحران اور کرس شری کانت کی ناراضگی

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن راجستھان رائلز کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ شاندار آغاز کے بعد ٹیم کی کارکردگی میں اچانک گراوٹ نے کرکٹ ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ سابق بھارتی کپتان کرس شری کانت نے حال ہی میں دہلی کیپیٹلز کے ہاتھوں راجستھان کی شکست پر ٹیم کی ناقص حکمت عملی اور فیصلہ سازی پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔

رویندرا جڈیجہ کا اخراج اور ٹیم کے اندرونی مسائل

شری کانت کے مطابق، راجستھان رائلز کی جانب سے تجربہ کار آل راؤنڈر رویندرا جڈیجہ کو پلینگ الیون سے باہر رکھنا ایک تباہ کن فیصلہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جڈیجہ جیسے میچ ونر کھلاڑی کو ڈراپ کر کے ان کی جگہ غیر تجربہ کار روی سنگھ کو شامل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ شری کانت نے اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے کہا، ‘یہ ایک احمقانہ حرکت تھی۔ جڈیجہ اس میچ کے لیے ناگزیر تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹیم کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔’ انہوں نے مزید کہا کہ کپتان ریان پراگ کا ٹرافی وصول نہ کرنا ٹیم کے اندرونی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔

میچ کا احوال اور شکست کی وجوہات

دہلی کے خلاف میچ میں راجستھان رائلز نے ایک مضبوط آغاز کیا تھا۔ ویبھو سوریہ ونشی کی جارحانہ بیٹنگ اور دھرو جریل کی شراکت داری نے ٹیم کو ایک اچھی پوزیشن پر پہنچایا تھا۔ تاہم، مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ نے راجستھان کی کمر توڑ دی۔ اسٹارک نے 15ویں اوور میں ریان پراگ، ڈونوون فیریرا اور روی سنگھ کو آؤٹ کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ 161 رنز پر 2 وکٹوں سے 193 رنز پر 8 وکٹوں تک کا سفر راجستھان کے لیے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

امپیکٹ پلیئر اور ناقص کپتانی

شری کانت نے ‘امپیکٹ پلیئر’ رول کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ داسن شناکا کو ٹیم میں لانے کا فیصلہ کارگر ثابت نہ ہوا۔ بولنگ کے شعبے میں ریان پراگ کے فیصلے بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ 18ویں اوور میں ڈونوون فیریرا کو گیند تھمانا اور پھر ان کے 16 رنز دینے پر کپتان کا غصہ دکھانا غیر پیشہ ورانہ رویے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

آگے کی راہ: کیا پلے آف ممکن ہے؟

راجستھان رائلز نے اپنے پہلے چار میچوں میں فتوحات حاصل کی تھیں، لیکن اس کے بعد سے وہ آخری 8 میں سے 6 میچ ہار چکے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ انہیں پلے آف میں پہنچنے کے لیے اپنے باقی دونوں میچ لازمی جیتنے ہوں گے اور ساتھ ہی دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔ 19 مئی کو لکھنؤ سپر جائنٹس اور 24 مئی کو ممبئی انڈینز کے خلاف میچ اب راجستھان کے لیے ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیا راجستھان رائلز اپنی غلطیوں سے سیکھ کر واپسی کر سکے گی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

نتیجہ

کرس شری کانت کے یہ سخت تبصرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ راجستھان رائلز کو فوری طور پر اپنی حکمت عملی اور ٹیم کے نظم و ضبط پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اگر ٹیم کو آئی پی ایل 2026 میں اپنی ساکھ بچانی ہے تو انہیں یکجہتی کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.