Report

Latham, Conway put NZ on cruise control in sweltering conditions

Snehe Roy · · 1 min read
Share

ٹرینٹ برج میں نیوزی لینڈ کا شاندار آغاز

ٹرینٹ برج میں سیریز کے فیصلہ کن تیسرے ٹیسٹ میچ کے آغاز پر، نیوزی لینڈ کی ٹیم نے شدید گرمی اور انجریز کے چیلنجوں کے باوجود کھیل پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔ میچ کے پہلے سیشن میں ٹام لیتہم اور ڈیون کونوے نے ثابت کیا کہ Latham, Conway put NZ on cruise control in sweltering conditions کی حکمت عملی کے تحت وہ انگلینڈ کے باؤلنگ اٹیک کو کس طرح آسانی سے ناکام بنا سکتے ہیں۔ لنچ تک نیوزی لینڈ کا اسکور بغیر کسی نقصان کے 108 رنز تھا۔

انجریز کے باوجود ٹیم کا عزم

نیوزی لینڈ کی ٹیم کو میچ سے قبل ہی دو بڑے دھچکے لگے تھے۔ گزشتہ ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے میٹ ہنری پنڈلی کی انجری کے باعث باہر ہو گئے، جبکہ گلین فلپس کو پسلی میں تکلیف کی وجہ سے آرام دیا گیا۔ ان کی جگہ مچل سینٹنر اور بین سیئرز کو شامل کیا گیا، جبکہ کائل جیمیسن کی عدم موجودگی میں بلیئر ٹکنر کو ٹیم میں جگہ ملی۔ ان تبدیلیوں کے باوجود، کپتان ٹام لیتہم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کہ شدید گرمی کے پیش نظر ایک دانشمندانہ اقدام ثابت ہوا۔

بیٹرز کا غلبہ

پچ کی ہموار سطح کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، لیتہم اور کونوے نے انگلش باؤلرز کو کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔ ٹام لیتہم نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے محض 65 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جبکہ ڈیون کونوے بھی 45 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے اور اپنی سنچری کی جانب گامزن نظر آئے۔ انگلینڈ کے فاسٹ باؤلرز، بشمول جوفرا آرچر، نے پوری کوشش کی لیکن وہ کیوی اوپنرز کو پریشان کرنے میں ناکام رہے۔ یہاں تک کہ بین اسٹوکس نے خود بھی گیند بازی کی ذمہ داری سنبھالی، لیکن کونوے نے ان کی دوسری ہی گیند پر شاندار چوکا لگا کر واضح کر دیا کہ آج کا دن بلے بازوں کا ہے۔

اسپن کا تجربہ

انگلینڈ نے اپنے اسپنر شعیب بشیر کو 11ویں اوور میں ہی اٹیک میں شامل کر لیا۔ بشیر نے لنچ سے قبل لگاتار نو اوورز کروائے، جو 2013 کے بعد سے کسی بھی ہوم ٹیسٹ کے پہلے سیشن میں انگلینڈ کے کسی اسپنر کی جانب سے سب سے طویل اسپیل تھا۔ اس کے باوجود، نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے اسپن کے خلاف بھی انتہائی اعتماد کا مظاہرہ کیا۔

مستقبل کا لائحہ عمل

آنے والے دنوں میں درجہ حرارت 38 ڈگری تک جانے کی پیش گوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ انگلینڈ کے باؤلرز کو میدان میں مزید تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیوزی لینڈ کی کوشش ہوگی کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بڑا اسکور بورڈ پر سجائے اور میچ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرے۔ اگر لیتہم اور کونوے اسی طرح کریز پر جمے رہے، تو انگلینڈ کے لیے اس میچ میں واپسی کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ یہ ٹیسٹ میچ نہ صرف کھلاڑیوں کی تکنیک کا امتحان ہے بلکہ یہ ان کی جسمانی برداشت کا بھی ایک کڑا امتحان ثابت ہو رہا ہے۔

Avatar photo
Snehe Roy

Sneha Roy produces feature stories about legendary matches, historic rivalries, and memorable IPL moments.