Cricket News

لٹن داس کا کولکتہ نائٹ رائیڈرز پر سنگین الزام اور پاکستان کے خلاف شاندار کارکردگی

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

لٹن داس کے انکشافات: آئی پی ایل اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے ساتھ تلخ تجربہ

بنگلہ دیش کے مایہ ناز وکٹ کیپر بلے باز لٹن داس نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی اپنی سابقہ فرنچائز، کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے حوالے سے چند چونکا دینے والے بیانات جاری کیے ہیں۔ لٹن داس 2023 کے آئی پی ایل سیزن میں کولکتہ کی ٹیم کا حصہ تھے، لیکن وہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران صرف ایک ہی میچ کھیل سکے، جس میں انہوں نے صرف چار رنز بنائے۔ اس کے بعد انہیں خاندانی ہنگامی صورتحال کے باعث وطن واپس لوٹنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کا آئی پی ایل کا سفر وقت سے پہلے ختم ہو گیا۔

کولکتہ نائٹ رائیڈرز پر تنقید: ‘ٹیم مجھے نہیں چاہتی تھی’

لٹن داس نے حال ہی میں ‘چار چھکا’ نامی پوڈ کاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے آئی پی ایل تجربے کے بارے میں کھل کر بات کی۔ 31 سالہ کرکٹر کا کہنا تھا کہ، ‘مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کے کے آر (KKR) واقعی مجھے اپنی ٹیم میں نہیں رکھنا چاہتی تھی۔ مجھے ٹیم سے وہ تعاون نہیں ملا جس کی میں توقع کر رہا تھا۔’ ان کے بقول، ایک غیر ملکی کھلاڑی کے لیے نئی ٹیم میں ایڈجسٹ ہونا مشکل ہوتا ہے اور اگر انتظامیہ کا تعاون حاصل نہ ہو تو یہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

مواصلاتی فقدان اور گیارہ بجے کی کال

پوڈ کاسٹ کے دوران لٹن داس نے سابق آئی پی ایل چیمپئنز پر پیشہ ورانہ مواصلات کی کمی کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے بتایا کہ عام طور پر کھلاڑیوں کو میچ سے کافی پہلے مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ پلیئنگ الیون کا حصہ ہیں یا نہیں۔ لٹن داس کے مطابق، ‘دو میچوں میں باہر بیٹھنے کے بعد، فرنچائز مجھ سے صحیح طریقے سے بات کرنے میں ناکام رہی اور کوئی بحث بھی نہیں ہوئی۔ اچانک ایک میچ سے پہلے والی رات گیارہ بجے مجھے بتایا گیا کہ میں کل کے میچ کی پلیئنگ الیون میں شامل ہوں۔’ اس طرح کی غیر یقینی صورتحال نے لٹن داس کی کارکردگی اور ذہنی آمادگی پر منفی اثرات مرتب کیے۔

پاکستان کے خلاف شاندار واپسی: لٹن داس کی سینچری

آئی پی ایل کی مایوسی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، لٹن داس اس وقت اپنی قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سلہٹ میں دوسرے ٹیسٹ میچ میں بہترین فارم میں نظر آ رہے ہیں۔ دیناج پور میں پیدا ہونے والے اس کھلاڑی نے پہلی اننگز میں 159 گیندوں پر 126 رنز کی شاندار باری کھیلی، جس کی بدولت میزبان ٹیم پہلی اننگز میں 278 رنز کا مجموعہ ترتیب دینے میں کامیاب رہی۔ ان کی اس اننگز میں بہترین اسٹروک پلے اور تکنیکی مہارت دیکھنے کو ملی۔

دوسری اننگز میں بھی لٹن داس کا جادو

لٹن داس کی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ دوسری اننگز میں بھی جاری رہا۔ انہوں نے 92 گیندوں پر 69 رنز بنائے، جس میں پانچ خوبصورت چوکے شامل تھے۔ تاہم، وہ حسن علی کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ اس رپورٹ کے لکھے جانے تک، بنگلہ دیش نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 241 رنز بنا لیے تھے اور انہیں مجموعی طور پر 287 رنز کی برتری حاصل تھی۔ پاکستان اس وقت سیریز میں 1-0 کے خسارے میں ہے، کیونکہ اسے ڈھاکہ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی تاریخ

لٹن داس کے بیان کے بعد آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی شرکت پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ لیگ کی تاریخ میں شامل ہونے والے پہلے بنگلہ دیشی کھلاڑی لیفٹ آرم اسپنر عبدالرزاق تھے، جو 2008 میں رائل چیلنجرز بنگلور کا حصہ بنے تھے۔ اس کے اگلے سال، 2009 میں سابق کپتان مشرفی مرتضیٰ کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے خریدا، لیکن وہ صرف ایک میچ کھیل سکے۔ اس میچ میں دکن چارجرز کی جانب سے کھیلتے ہوئے روہت شرما نے مشرفی مرتضیٰ کے ایک اوور میں زبردست چھکے لگا کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا تھا۔

شکیب الحسن اور مستفیض الرحمان: سب سے کامیاب کھلاڑی

اگر کامیابی کی بات کی جائے تو شکیب الحسن اور مستفیض الرحمان بنگلہ دیش کے سب سے کامیاب آئی پی ایل کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں۔ شکیب الحسن نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ٹائٹل جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ مستفیض الرحمان نے سن رائزرز حیدرآباد کے لیے اپنی جادوئی باؤلنگ سے دھوم مچائی۔ ان دونوں کے علاوہ محمد اشرفل ممبئی انڈینز اور تمیم اقبال پونے واریئرز انڈیا کا حصہ رہ چکے ہیں، تاہم انہیں زیادہ مواقع میسر نہیں آئے۔

نتیجہ

لٹن داس کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئی پی ایل جیسی بڑی لیگز میں کھلاڑیوں کی نفسیاتی اور پیشہ ورانہ ضروریات کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے۔ اگرچہ ان کا آئی پی ایل کا سفر تلخ رہا، لیکن پاکستان کے خلاف ان کی حالیہ کارکردگی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اب بھی بنگلہ دیش کے سب سے بھروسہ مند بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔