Lord’s pitch rated as ‘unsatisfactory’ following England’s first Test win
لارڈز کی پچ پر آئی سی سی کا سخت ایکشن
کرکٹ کی دنیا کے سب سے تاریخی اور معتبر میدان، لارڈز، کو حال ہی میں اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب آئی سی سی نے اسے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے بعد Lord’s pitch rated as ‘unsatisfactory’ following England’s first Test win قرار دے دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کو آئی سی سی کی پچ اور آؤٹ فیلڈ مانیٹرنگ کے عمل کے تحت ڈی میرٹ پوائنٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
میچ کا مختصر دورانیہ اور پچ کی صورتحال
اگرچہ اس ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے 115 رنز سے کامیابی حاصل کی، لیکن یہ مقابلہ چوتھے دن کی صبح ہی ختم ہو گیا، جس کی بڑی وجہ بارش کے وقفے اور پچ کا غیر معمولی رویہ تھا۔ اس میچ میں کل 40 وکٹیں صرف 996 گیندوں پر گریں، جو گزشتہ 140 سالوں میں لارڈز میں ہونے والا سب سے مختصر ٹیسٹ میچ ثابت ہوا۔
آئی سی سی اور ماہرین کی رائے
میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ پچ پر ضرورت سے زیادہ سیم موومنٹ تھی اور گیند غیر متوقع طور پر نیچی رہ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پچ پر باؤنس میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ پایا گیا، جس کے نتیجے میں پہلے دن 16 اور دوسرے دن 17 وکٹیں گر گئیں۔ یہ واضح طور پر بلے بازوں کے مقابلے میں گیند بازوں کے لیے بہت زیادہ سازگار حالات تھے۔
بین اسٹوکس اور ایم سی سی کا ردعمل
انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ‘انتہائی حالات’ ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے لیے سودمند نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ پانچ دن کا کھیل ہے، اور اگر اس طرح کے حالات رہیں گے تو شائقین اور کھیل دونوں کا نقصان ہوگا۔ ایم سی سی کے چیف ایگزیکٹو روب لاسن نے بھی اعتراف کیا کہ پچ توقعات پر پورا نہیں اتر سکی اور انہوں نے مئی کے موسم میں تبدیلیوں کو اس کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔
کیا مستقبل میں بہتری ممکن ہے؟
ایم سی سی نے پچھلے کچھ عرصے میں پچ کی بہتری کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس میں پچ کو ‘اسٹیم’ کرنا اور آؤٹ فیلڈ کو دوبارہ تیار کرنا شامل ہے۔ تاہم، اس واقعے نے انتظامیہ کو مزید محتاط کر دیا ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کے پاس اس پابندی کے خلاف اپیل کرنے کے لیے 14 دن کا وقت موجود ہے۔
دیگر میدانوں کی صورتحال
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دوران پاکستان میں قذافی اسٹیڈیم لاہور کی پچ کو بھی آئی سی سی کی جانب سے ‘غیر تسلی بخش’ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرے ون ڈے میچ کے بعد میچ ریفری گریم لیبرائے نے پچ کو ‘سست اور نیچی’ قرار دیا، جس میں اسپن باؤلنگ کو حد سے زیادہ مدد مل رہی تھی۔
نتیجہ
لارڈز جیسے تاریخی گراؤنڈ کا اس فہرست میں آنا کرکٹ کے منتظمین کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی بقا کے لیے متوازن پچز کا ہونا ناگزیر ہے تاکہ بلے اور گیند کے درمیان ایک منصفانہ مقابلہ دیکھنے کو مل سکے اور کھیل پانچ دن تک جاری رہ سکے۔
