IPL 2026: ممبئی انڈینز کن کھلاڑیوں کو ریلیز کرنے والی ہے؟ مکمل فہرست
ممبئی انڈینز کے لیے آئی پی ایل 2026 کا مایوس کن سیزن
آئی پی ایل 2026 میں ممبئی انڈینز (MI) کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ 11 میچوں میں صرف تین فتوحات کے ساتھ، ٹیم پلے آف کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو چکی ہے۔ پچھلے سال ٹیم نے شاندار واپسی کی تھی، لیکن اس سال وہ جادو دیکھنے کو نہیں ملا۔
ٹیم کی ناکامی کی وجوہات
ٹیم کی سب سے بڑی پریشانی اہم کھلاڑیوں کی خراب فارم رہی ہے۔ جہاں روہت شرما نے کچھ میچوں میں فارم بحال کی، وہیں کپتان ہاردک پانڈیا اور سوریہ کمار یادو اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ جسپریت بمراہ جیسے ورلڈ کلاس گیند باز بھی اس بار وہ اثر نہیں چھوڑ سکے جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔ 2020 کے بعد سے ممبئی انڈینز کا فائنل تک نہ پہنچنا ایک سنجیدہ تشویش بن چکا ہے۔
وہ کھلاڑی جو ٹیم سے باہر ہو سکتے ہیں
ایک خراب سیزن کے بعد ٹیم میں بڑی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ ذیل میں ان کھلاڑیوں کی فہرست ہے جنہیں ممبئی انڈینز ریلیز کر سکتی ہے:
- روبن منز: جھارکھنڈ کے اس وکٹ کیپر بلے باز نے گزشتہ دو سالوں میں بہت کم مواقع ملنے کے باوجود کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی۔ کوئنٹن ڈی کاک اور ریان ریکلیٹن کی موجودگی میں منز کا ٹیم سے اخراج یقینی دکھائی دیتا ہے۔
- شیرفین ردرفورڈ: گجرات ٹائٹنز سے ٹریڈ کیے جانے کے باوجود ردرفورڈ وہ اثر نہیں چھوڑ سکے جس کی امید تھی۔ ول جیکس کی آمد کے بعد ان کا ٹیم میں مقام خطرے میں ہے۔
- دانش ملیوار: ودربھ کے اس نوجوان بلے باز کو روہت شرما کی انجری کے بعد موقع ملا، لیکن وہ خود کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
- دیپک چاہر: 9.25 کروڑ کی بڑی رقم میں خریدے گئے چاہر اپنی فٹنس اور فارم سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ 5 میچوں میں صرف 3 وکٹیں ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
- مینک مارکنڈے: ان کا ممبئی انڈینز کے ساتھ تیسرا دور بھی ناکام رہا۔ اس سال وہ مہنگے ثابت ہوئے اور وکٹیں حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔
- شاردل ٹھاکر: حالانکہ انہوں نے کچھ مواقع پر بہتر کارکردگی دکھائی، لیکن ان کا مہنگا ایکانومی ریٹ (13 سے زائد) ٹیم کے لیے بوجھ بن چکا ہے۔
- کیشو مہاراج: مچل سینٹنر کے متبادل کے طور پر آئے مہاراج کو ایک بھی میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ ٹیم انہیں ریلیز کر کے سینٹنر کو برقرار رکھنے کو ترجیح دے گی۔
نتیجہ
ممبئی انڈینز کو اب مستقبل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ٹیم انتظامیہ نوجوان ٹیلنٹ پر سرمایہ کاری کر کے دوبارہ سے ایک مضبوط یونٹ بنانے کی کوشش کرے گی۔ کیا یہ تبدیلیاں ممبئی انڈینز کو اگلے سال دوبارہ چیمپئن بنا سکیں گی؟ یہ وقت ہی بتائے گا۔
