Bangladesh Cricket

نجمل حسین شانتو: پاکستان کے خلاف ٹیسٹ جیت میں ایک خود تنقیدی لیڈر

Pooja Pandey · · 1 min read
Share

پاکستان کے خلاف تاریخی فتح کے بعد شانتو کی خود احتسابی

ڈھاکہ ٹیسٹ میں بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف یادگار جیت میں نجمل حسین شانتو کا کردار کلیدی رہا۔ شانتو نے دونوں اننگز میں 101 اور 87 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر نہ صرف ٹیم کو کامیابی دلائی بلکہ ‘پلیئر آف دی میچ’ کا اعزاز بھی اپنے نام کیا۔ تاہم، کپتان کی حیثیت سے وہ اپنی کارکردگی پر مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے۔

سنچری کو ڈبل سنچری میں بدلنا کیوں ضروری تھا؟

میچ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شانتو نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی پہلی اننگز کی سنچری کو اس سے بھی بڑی اننگز میں تبدیل نہ کر پانے پر مایوس ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک ٹاپ کلاس بلے باز اگر اس پوزیشن پر ہوتا تو وہ یقینی طور پر اس سکور کو 200 تک لے جاتا۔ شانتو نے کہا، ‘اگر میری جگہ کوئی عظیم بلے باز ہوتا تو 101 رنز شاید 200 بن جاتے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگر آپ عالمی کرکٹ پر نظر ڈالیں تو بہترین بلے باز یہی کرتے ہیں۔ اس لیے میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں اپنی بہترین فارم میں ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ مجھے پہلی اننگز میں اس سے بھی بہتر بیٹنگ کرنی چاہیے تھی۔’

بیٹنگ پارٹنرز اور ٹیم کا ساتھ

جب شانتو سے ان کے پسندیدہ بیٹنگ پارٹنر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کسی ایک کھلاڑی کا نام لینے سے گریز کیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ‘میں ہمیشہ بیٹنگ سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ مجھے صرف تب برا لگتا ہے جب میں رنز بنانے میں ناکام رہتا ہوں۔ میں ہر کسی کے ساتھ بیٹنگ کرنا پسند کرتا ہوں۔ میں صرف ایک نام نہیں لینا چاہتا۔ مشفق الرحیم، مومن الحق، لٹن داس… حالانکہ مجھے ٹیسٹ میں لٹن کے ساتھ بیٹنگ کرنے کے کافی مواقع ملے ہیں۔’

وکٹ کی صورتحال اور بیٹنگ کا چیلنج

فتح اور ذاتی سنگ میل کے باوجود، شانتو کا سب سے بڑا ملال پہلی اننگز کے حوالے سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح وہ بیٹنگ کر رہے تھے، پہلی اننگز کا سکور اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ ‘پہلے دو یا تین گھنٹوں کے دوران وکٹ کافی چیلنجنگ تھی۔ دوسری اننگز میں، میں اپنی مرضی کے مطابق بیٹنگ کرنے کے قابل تھا۔ عام طور پر تیسرے اور چوتھے دن وکٹ زیادہ مشکل ہو جاتی ہے۔’

لیجنڈز کے ساتھ موازنہ پر ردعمل

میچ کے بعد شانتو کو یہ بتایا گیا کہ ٹیسٹ تاریخ میں صرف دو بلے باز، سر ڈان بریڈمین اور جارج ہیڈلی، ان سے بہتر ‘ففٹی ٹو سنچری’ کنورژن ریٹ رکھتے ہیں۔ یہ سن کر بنگلہ دیشی کپتان کچھ شرمندہ نظر آئے۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ‘جن دو ناموں کا آپ نے ذکر کیا، بریڈمین اور جارج ہیڈلی، ان کا موازنہ مجھ سے نہ کریں۔ براہ کرم مجھے اس سے معاف رکھیں۔ میں بیٹنگ سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ جب میں بیٹنگ کرتا ہوں تو صرف ایک بلے باز کی طرح سوچتا ہوں۔ میرا کام رنز بنانا ہے، جبکہ کپتانی میدان میں حکمت عملی کا نام ہے۔’

نتیجہ

نجمل حسین شانتو کا یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے کپتان ہیں جو کامیابی کے باوجود اپنی خامیوں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی یہ خود تنقیدی اور سیکھنے کی خواہش نہ صرف ان کی ذاتی بہتری کے لیے اہم ہے بلکہ بنگلہ دیشی ٹیم کی مستقبل کی کامیابیوں کے لیے بھی ایک مثبت علامت ہے۔ ایک لیڈر کے طور پر ان کا یہ انداز ٹیم میں نظم و ضبط اور مسلسل بہتری کی ثقافت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے۔