Bangladesh Cricket

پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میں نعیم حسن کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ محمد صلاح الدین کا جواب

Shanti Mukherjee · · 1 min read
Share

پاکستان کے خلاف ڈھاکا ٹیسٹ: نعیم حسن کی عدم شمولیت پر بحث

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کھیلے گئے ڈھاکا ٹیسٹ کے دوران ٹیم سلیکشن ایک بڑا موضوع بحث بن گیا۔ خاص طور پر جب پاکستانی بیٹنگ لائن اپ میں سات بائیں ہاتھ کے بلے باز موجود تھے، تو بنگلہ دیشی ٹیم انتظامیہ کی جانب سے آف اسپنر نعیم حسن کو پلیئنگ الیون سے باہر رکھنے کا فیصلہ حیران کن رہا۔ ٹیم نے نعیم کے بجائے طیجل اسلام کو بطور واحد بائیں ہاتھ کے اسپنر اور مہدی حسن معراج پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ٹیم بیلنس اور سلیکشن کا فلسفہ

نعیم حسن کی شاندار فارم کے باوجود ان کی عدم موجودگی پر بڑھتے ہوئے سوالات کے جواب میں بنگلہ دیش کے سینئر اسسٹنٹ کوچ محمد صلاح الدین نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کے پیچھے بنیادی وجہ ‘ٹیم کا توازن’ تھا۔ صلاح الدین نے کہا، ‘آپ کو ہمیشہ ٹیم کی طاقت اور توازن کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے۔ کبھی چیزیں آپ کے حق میں ہوتی ہیں اور کبھی نہیں۔ کسی کھلاڑی کو موقع دینے سے زیادہ، میرا ماننا ہے کہ اسے اپنی جگہ بنانی پڑتی ہے۔ کچھ اوقات ایسے ہوتے ہیں جب آپ ٹیم کے بیلنس کی وجہ سے ہر خواہش پوری نہیں کر سکتے۔’

کیا آف اسپنر کی کمی محسوس ہوئی؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نعیم حسن، جنہوں نے حال ہی میں سری لنکا میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، پاکستان کے بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار ثابت ہو سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی ابتدائی بلے بازی کے دوران بنگلہ دیش کو جو واحد وکٹ ملی، وہ بھی آف اسپنر مہدی حسن معراج نے ہی حاصل کی، جس نے نعیم حسن کی ضرورت کے بارے میں بحث کو مزید تقویت دی۔

کوچ کا موقف: کوالٹی بولنگ اہمیت رکھتی ہے

محمد صلاح الدین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ براہ راست ٹیم کے انتخاب کے عمل میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، ‘ایمانداری سے کہوں تو، بائیں اور دائیں ہاتھ کے بلے بازوں پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، میرا ماننا ہے کہ اگر کوئی بولر اچھا ہے اور وہ درست لائن اور لینتھ پر گیند کر رہا ہے، تو وکٹیں ضرور ملیں گی۔ ان کے ٹاپ تھری بلے باز بائیں ہاتھ کے ہیں، لیکن کیا ہم نے صرف اسی وجہ سے بہت زیادہ جدوجہد کی؟ ایک معیاری بولر کہیں بھی کارکردگی دکھا سکتا ہے۔’

نعیم حسن کا کیریئر اور مستقبل

نعیم حسن نے 2018 میں اپنے ٹیسٹ ڈیبیو کے بعد سے اب تک صرف 14 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔ حالانکہ وہ بی سی ایل (BCL) میں 300 وکٹوں کا سنگ میل عبور کر چکے ہیں، لیکن بین الاقوامی سطح پر انہیں مسلسل مواقع ملنے میں دشواری کا سامنا رہا ہے۔ صلاح الدین نے اس بات کو مسترد کیا کہ نعیم حسن ‘بدقسمت’ ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ٹیم کے انتخاب کا حتمی فیصلہ کوچنگ اسٹاف کے انفرادی ارکان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک اجتماعی منصوبہ بندی کا حصہ ہوتا ہے۔

خلاصہ

ڈھاکا ٹیسٹ میں پاکستان کے خلاف نعیم حسن کا نہ کھیلنا یقینی طور پر کرکٹ کے حلقوں میں بحث کا باعث بنا۔ جہاں ایک طرف ٹیم انتظامیہ اپنے ‘ٹیم بیلنس’ کے فیصلے کا دفاع کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ماہرین کا ماننا ہے کہ نعیم جیسے تجربہ کار اور فارم میں موجود اسپنر کو ایسی پچز پر باہر بٹھانا ایک مشکل فیصلہ تھا۔ مستقبل میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بنگلہ دیشی انتظامیہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتی ہے یا نہیں۔

Shanti Mukherjee
Shanti Mukherjee

Shanti Mukherjee is a pioneering Indian sports journalist specializing in cricket. She is renowned for her sharp analysis and breaking gender barriers in the male-dominated field of sports media.