Niamh Holland steers Somerset chase against winless Bears – سمرسیٹ کی شاندار فتح
سمرسیٹ کی ایک اور شاندار کامیابی اور واروکشائر کی مسلسل ناکامی
ٹاؤنٹن کے خوبصورت میدان کوپر ایسوسی ایٹس گراؤنڈ پر کھیلے گئے وائٹلٹی بلاسٹ کے ایک انتہائی اہم میچ میں سمرسیٹ کی ٹیم نے اپنی شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے واروکشائر بیئرز کو پانچ وکٹوں سے شکست دے دی۔ اس میچ کی خاص بات نوجوان آل راؤنڈر نیام ہالینڈ کی شاندار بلے بازی تھی جس نے سمرسیٹ کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میچ کے دوران سمرسیٹ کی باؤلنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں بہترین توازن دیکھنے کو ملا، جس کی وجہ سے مخالف ٹیم یعنی واروکشائر بیئرز کو ایک بار پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ واروکشائر بیئرز کی ٹورنامنٹ میں مسلسل ناکامیوں کا تسلسل ہے، جبکہ سمرسیٹ کی ٹیم نے پانچ میچوں میں چوتھی فتح حاصل کر کے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔
واروکشائر بیئرز کی بیٹنگ کا آغاز اور مشکلات
میچ کی شروعات میں واروکشائر بیئرز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی حد تک جرات مندانہ تھا کیونکہ سمرسیٹ کی باؤلنگ لائن اپ اس وقت بہترین فارم میں ہے۔ واروکشائر کی اوپنر میگ آسٹن نے اننگز کا آغاز انتہائی جارحانہ انداز میں کیا۔ انہوں نے سمرسیٹ کے الیکس گریفتھس کے پہلے ہی اوور میں دو شاندار چوکے لگا کر مجموعی طور پر 14 رنز حاصل کیے۔ اس جارحانہ آغاز سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ واروکشائر کی ٹیم ایک بڑا اسکور بورڈ پر سجانے میں کامیاب ہو جائے گی، لیکن سمرسیٹ کے کپتان نے جلد ہی اسپنرز کو گیند بازی سونپ دی، جس نے میچ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
سمرسیٹ کی جانب سے اسپن باؤلنگ کے شعبے نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ چلو اسکیلٹن نے اپنے پہلے ہی اوور میں ابی فریبورن کو پوائنٹ کی جانب کیچ آؤٹ کروا کر واروکشائر کو پہلا جھٹکا دیا۔ ابھی واروکشائر کی ٹیم اس نقصان سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ بائیں ہاتھ کی اسپنر لیو بارنس نے جارجیا ریڈمائن کو کلین بولڈ کر کے سمرسیٹ کی گرفت کو مزید مضبوط کر دیا۔ ریڈمائن نے لائن کو غلط سمجھا اور گیند سیدھی ان کی آف اسٹمپ پر جا لگی۔ اس وقت واروکشائر کا اسکور 26 رنز پر دو وکٹ ہو چکا تھا اور ٹیم دباؤ میں آ چکی تھی۔
میڈل آرڈر کی ناکامی اور رن آؤٹ کا نقصان
ایک طرف جہاں وکٹیں گر رہی تھیں، وہیں دوسری طرف میگ آسٹن نے اپنی انفرادی کارکردگی کو جاری رکھا۔ انہوں نے 26 گیندوں پر چار چوکوں کی مدد سے 31 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔ تاہم، ان کی یہ مزاحمت بھی زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔ ایرن ووکاسک کی ایک دھیمی گیند پر شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وہ ٹائمنگ درست نہ رکھ سکیں اور لانگ آف پر کھڑے فیلڈر کو آسان کیچ دے بیٹھیں۔ آسٹن کے آؤٹ ہوتے ہی واروکشائر کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔
واروکشائر کے لیے اس سے بھی برا لمحہ اس وقت آیا جب سابق ویسٹرن اسٹارم کی کھلاڑی نیٹ ریتھ دوسرا رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئیں۔ چلو اسکیلٹن نے شاندار فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیزی سے گیند وکٹوں پر ماری اور ریتھ کو پویلین واپس جانا پڑا۔ اس وکٹ کے گرنے سے واروکشائر کا اسکور 53 رنز پر 4 وکٹ ہو گیا اور ان کی اننگز کی رفتار مکمل طور پر دھیمی ہو گئی۔
سمرسیٹ کے اسپنرز کا شاندار اسپیل
سمرسیٹ کے باؤلرز نے میچ کے وسطی اوورز میں واروکشائر کے بلے بازوں کو بالکل بھی کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ لیو بارنس نے شاندار گیند بازی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چارس پیولی کو مجبور کیا کہ وہ ایک غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیلیں، جس کے نتیجے میں وہ اضافی کور پر لیرائڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئیں۔ اس طرح واروکشائر کی آدھی ٹیم صرف 65 رنز پر پویلین لوٹ چکی تھی۔
اس کے بعد لولا ہیرس نے اپنی کلائی کی اسپن کا جادو جگایا اور امو سورین کمار کو بیک ورڈ پوائنٹ پر روبی ڈیوائس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ نیام ہالینڈ نے بھی باؤلنگ میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے الیکسا اسٹون ہاؤس کو اسی انداز میں آؤٹ کیا، جس سے واروکشائر کی ٹیم 72 رنز پر 7 وکٹیں گنوا چکی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم 100 رنز بھی نہیں بنا پائے گی۔
ایسے مشکل وقت میں میری ٹیلر نے اپنی بہن ملی ٹیلر کے آؤٹ ہونے کے بعد اننگز کو سنبھالا۔ میری ٹیلر نے 32 گیندوں پر ناقابل شکست 31 رنز بنائے اور ٹیم کو کسی حد تک ایک باعزت اسکور تک پہنچانے میں مدد کی۔ ان کی اس اننگز کی بدولت واروکشائر بیئرز نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 123 رنز بنائے۔ سمرسیٹ کی جانب سے لیو بارنس نے 20 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں جبکہ چلو اسکیلٹن نے 21 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
سمرسیٹ کا ہدف کا تعاقب اور نیام ہالینڈ کا جادو
124 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سمرسیٹ کی ٹیم نے انتہائی جارحانہ آغاز کیا۔ اوپنر صوفی لوف اور بیکس اوجرز نے واروکشائر کے باؤلرز پر دباؤ ڈالتے ہوئے ابتدائی اوورز میں ہی چھ شاندار چوکے لگائے۔ تاہم، واروکشائر نے جلد ہی واپسی کی کوشش کی اور 38 کے مجموعی اسکور پر دونوں اوپنرز کو آؤٹ کر دیا۔ پہلے بیکس اوجرز الیکسا اسٹون ہاؤس کی گیند پر ڈیپ مڈ وکٹ پر کیچ آؤٹ ہوئیں، اور پھر صوفی لوف کو میری ٹیلر نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے سمرسیٹ کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔
لیکن اس کے بعد میدان میں نیام ہالینڈ اور انیکا لیرائڈ کی جوڑی آئی، جنہوں نے واروکشائر کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ دونوں نے پاور پلے کے اختتام تک ٹیم کا اسکور 52 رنز تک پہنچا دیا۔ ان دونوں بلے بازوں نے بہترین تال میل کا مظاہرہ کیا اور وکٹوں کے درمیان تیز دوڑ اور بہترین شاٹ سلیکشن کی بدولت اسکور کو تیزی سے آگے بڑھایا۔ انہوں نے صرف 33 گیندوں پر 50 رنز کی شراکت داری قائم کی، جس نے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔
نیام ہالینڈ نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 31 گیندوں پر 42 رنز بنائے، جس میں پانچ خوبصورت چوکے شامل تھے۔ انہوں نے لیرائڈ کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ کے لیے 54 رنز کی قیمتی شراکت داری قائم کی۔ جب سمرسیٹ کا اسکور 92 رنز تک پہنچا تو چارس پیولی نے لیرائڈ کو 20 رنز پر بولڈ کر دیا۔ اس کے بعد نیام ہالینڈ بھی ملی ٹیلر کی گیند پر آؤٹ ہو گئیں، جن کا ایک شاندار کیچ میگ آسٹن نے پوائنٹ پر پکڑا۔ کیٹی جونز بھی جلد ہی جارجیا ڈیوائس کا شکار بن گئیں، لیکن اس وقت تک سمرسیٹ کی فتح یقینی ہو چکی تھی۔
سمرسیٹ کی آسان فتح
آخری لمحات میں الیکس گریفتھس اور چلو اسکیلٹن نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو مزید کسی نقصان کے بغیر ہدف تک پہنچا دیا۔ سمرسیٹ نے یہ ہدف 16.2 اوورز میں ہی حاصل کر لیا، یعنی ابھی 3.4 اوورز کا کھیل باقی تھا۔ اس پانچ وکٹوں کی فتح کے ساتھ سمرسیٹ نے ٹورنامنٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھا ہے جبکہ واروکشائر بیئرز کے لیے ٹورنامنٹ میں واپسی کے راستے مزید مشکل ہو گئے ہیں اور وہ اب بھی اپنی پہلی فتح کی تلاش میں ہیں۔
